Type to search

خبریں

شیخوپورہ: احمدی خاتون کی تدفین روکنےکےلئے انتہا پسندوں کا احمدیہ قبرستان پرحملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخوپورہ کے علاقے صفدر آباد میں احمدی خاتون کی تدفین روکنے کے لئے احمدیہ قبرستان پر سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کی جانب سے حملہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق صفدر آباد میں ایک خاتون کے وفات پانے کے بعد علاقے میں موجود احمدی کمیونٹی ان کی میت دفنانے مقامی قبرستان پہنچی تو انتہا پسندوں نے ڈنڈوں سے قبرستان پر حملہ کر دیا، حملہ آوروں نے کہا کہ مرنے والی عورت احمدی ہے اس لیے اسے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا تاہم احمدی کمیونٹی کے لوگوں کی بڑی تعداد نے مزاحمت کی جبکہ دوسری جانب چند لوگوں نے اسلحے کے زور پر تدفین کا عمل مکمل کروایا۔

خاتون کی تدفین کے دوران ایک طرف ڈنڈوں سے لڑائی جاری تھی جبکہ دوسری طرف اہل خانہ نے تیزی سے تدفین کا عمل مکمل کیا۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری سے واقعے کا نوٹس لینے اور مذہبی اقلیتوں کے  ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھنے جانے خلاف نوٹس لینے اور قانونی کاروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے شہر گوجرہ کے قریب ایک گاؤں کتھووالی میں 19 دسمبر کو ایک ڈیڑھ برس کی بچی کی لاش کو مقامی افراد نے دفن کرنے سے روک دی تھا۔ اس بچی کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا جس سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق غیر مسلم کہلائے جاتے ہیں۔

دسمبر کی صبح ان کی تدفین کے لیے مقامی احمدیہ جماعت کے اراکین ان کی لاش کو گاؤں کے مشترکہ قبرستان میں لے کر گئے مگر وہاں پچاس کے قریب افراد لاٹھیاں لے کر کھڑے تھے جنہوں نے لاش کی تدفین کرنے سے روک دیا۔ ان لاٹھی بردار افراد کا موقف تھا کہ چونکہ یہ بچی احمدی ہے اور احمدی غیر مسلم ہوتے ہیں اس لیے اسے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *