Type to search

تجزیہ خبریں معیشت

تقسیم برصغیر اور بنگلہ دیش: سب سے چھوٹا بیٹا ترقی کر گیا اور بڑے لڑتے رہ گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں آج بھی ایک جملہ بڑے زوروں اور طعنے دے کر بولا جاتا ہے “تمہاری اوقات تو دو ٹکے کی بھی نہیں ہے ” جبکہ جس ٹکے کو کم تر اور حقارت سے پکارا جاتا ہے وہ ٹکا آج کی تاریخ میں پاکستان کے مقابلے میں (ایک ٹکا پاکستانی ایک اعشاریہ تراسی روپے) ڈبل ہونے کو ہے مگر ہماری وہ رٹی رٹائی طوطے کی کہانی عشروں سے چل رہی اور شاید جس حد تک ہمارے ہاں لاشعوری ہے یہ کہانیاں چلتی رہیں گی اور نسلیں اس حوالے سے گمراہ ہوتی رہیں گئیں ۔

بنگلہ دیش (سابقہ مشرقی پاکستان) سے متعلق گفتگو اس لئے ضروری ہے کیونکہ تقسیم بر صغیر کے بعد یہ وہ بچہ تھا جس کو ہر کسی نے اپنی جانب کرنے کی کوشش اس لئے کی کہ یہ چھوٹے قد والوں کو اپنا غلام بنا کر ان پر طعنے کسے جائیں ان کو غلام بنا کر عیاشیوں کے سامان کے طور پر استعمال کیا جائے جس سے متعلق “میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” صدیق سالک کی کتاب میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ آخر ہم بنگالیوں سمجھتے کیا تھے ۔ عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے سے بنگلہ دیش کی ترقی اور ساتھ ساتھ خصوصی طور پر انڈیا اور پاکستان سے مقابلے میں آگے نکل جانے سے متعلق ہوش ربا آرٹیکلز لکھے گئے ہیں جن کے اقتباسات کو آپ کے سامنے رکھیں گے کہ بر صغیر پاک و ہند میں سب سے آخر میں آزادی حاصل کرنے والے اور سب سے زیادہ مظالم برداشت کرنے والی قوم آج کہاں کھڑی ہے جبکہ جن بھائیوں سے اس نے آزادی لی ہے وہ آج بھی آپس میں دست و گریباں ہیں اور شاید آگے بھی دفاعی بجٹ برھا بڑھا کر حالت جنگ میں رہنے کا ہی راگ الاپتے رہیں۔

موجودہ صورتحال کو واضح کرنے کے لئے ماضی کی کچھ تلخیاں بیاں کرنا بھی انتہائی اہم ہے 2017 میں ڈان نے ایک آرٹیکل شائع کیا جس میں اس نے بے شمار کتب اور تاریخ دانوں کے حوالوں کے ساتھ بنگالیوں سے ہوئی زیادتیوں کا تذکرہ کیا کہ کن حالات میں ہندوستان ، پاکستان دونوں نے اپنے سب سے چھوٹے بھائی کے ساتھ زیادتیاں کیں۔آرٹیکل میں کہا گیا کہ بالآخر، نومبر میں ہندوستان نے مشرقی پاکستان میں فوجی حملہ کر دیا، جبکہ پاکستان (مغربی) نے 3 دسمبر کو ہندوستانی سرزمین پر حملہ کیا۔ حالانکہ مغربی پاکستانیوں کو 14 اور 15 دسمبر تک بھی یہ بتایا جا رہا تھا کہ وہ یہ جنگ جیت رہے ہیں، لیکن 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کے جی او سی، جنرل اے اے کے ’ٹائیگر’ نیازی نے ڈھاکہ میں جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کی زیر قیادت ہندوستانی فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ مشرقی پاکستان اب باضابطہ طور پر بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ اس وقت نہ صرف ہندوستانی بر صغیر میں ایک اور بٹوارہ ہوا بلکہ قائد اعظم محمد جناح کا ’دو قومی نظریہ’ بھی اختتام پذیر ہوا۔

یحییٰ خان نے ایوب خان سے اقتدار چھین کر ملک میں مارشل نافذ کیا تھا، جبکہ فوج اور بیوروکریسی، اپنی شہرت آزمانے کے لیے بے چین سیاسی جماعتوں اور عناصر کو اپنی طرف راغب کرنے میں مصروف تھیں۔ یحییٰ خان کے فیصلے کا جائزہ لینے والے مؤرخین کا کہنا ہے کہ انتخابات کا فیصلہ ملٹری انٹیلیجینس کی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا تھا، جن کے مطابق پارلیمنٹ میں کوئی ایک پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی، اور، کمزور پارلیمنٹ کی وجہ سے حقیقی طاقت فوج اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کے پاس ہی رہے گی۔

شیخ مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان کی 162 نشستوں میں سے 160 پر کامیابی حاصل کی، یوں متحدہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں انہیں اکثریت حاصل ہوئی۔ مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی نے 138 میں سے 81 نشستیں حاصل کیں، یوں یہ مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت بن گئی، پیپلز پارٹی نے سندھ اور پنجاب سے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ 1970 کا سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا تھا کہ دونوں بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک نے بھی ملک کے دوسرے حصے سے ایک نشست پر بھی کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ انتخابی طور پر پاکستان تقسیم ہو چکا تھا۔

شجاع نواز اپنی کتاب کراسڈ سوارڈز میں لکھتے ہیں کہ ایسے کئی سینیئر جرنیل تھے جو ‘بھٹو کی حمایت’ کے لیے راضی تھے۔ یہ واضح طور پر نظر آ رہا تھا کہ مغربی پاکستان کے جرنیل اور یہاں کے انتخابات میں جیتنے والا، دونوں ہی انتخابی نتائج کا احترام کرنے کے لیے راضی نہیں تھے جبکہ ایک بڑا سیاسی اور آئینی بحران آنے کو تھا۔

مارچ 25 اور 16 دسمبر 1971 کے درمیان مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا اس حوالے سے پاکستانی فوجی شخصیات اور تاریخ دان، اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی اور بنگلہ دیشی محققین اور دانشور بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ جہاں ان کی تصانیف میں اعداد و شمار میں تضاد نظر آتا ہے— کہ کتنی اموات، کتنا قتلِ عام اور کتنے زنا بالجبر ہوئے— لیکن وہاں ایک بات پر، بالخصوص پاکستانی مصنفین کے درمیان، عمومی اتفاق پایا جاتا ہے وہ یہ کہ فوج کی جانب سے جو ظالمانہ طرز عمل اپنایا گیا تھا، وہ بہت ہی ہولناک تھا۔

اس ماضی کے قصے کےبعد اب آپ ان حقائق سے موازنہ کیجئے جو آج سے دو اور 4 دن قبل عالمی ادارے ماننے کو تیار ہیں بلکہ اس پر بنگلہ دیش کو نا صرف سراہا جا رہا ہے بلکہ ہندوستان اور پاکستان کو ڈرایا بھی جا رہا ہے ۔

 

بلوم برگ لکھتا ہے کہ یہ ملک قحط اور جنگ کے دوران پیدا ہوا تھا۔ لاکھوں افراد ہندوستان بھاگ گئے یا پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ پاکستانی فوج کے امریکی حمایتیوں کے نزدیک ، ایسا لگتا ہے کہ نیا ملک ناکام ہوجائے گا: اس وقت کے سکریٹری برائے ریاست ہنری کسنجر نے مشہور طور پر اسے “باسکٹ کیس” کہا تھا۔ مگر اب بنگلہ دیش کے کابینہ کے سکریٹری نے صحافیوں کو بتایا کہ گذشتہ سال کے دوران جی ڈی پی میں فی کس 9 فیصد اضافہ ہوا ہے ، جو بڑھ کر 2،227 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس دوران پاکستان کی فی کس آمدنی $ 1،543 ہے۔ 1971 میں ، پاکستان بنگلہ دیش سے 70 فیصد امیر تھاآج ، بنگلہ دیش پاکستان سے 45٪ امیر ہے۔ ایک پاکستانی ماہر معاشیات نے بدمزاشی کی نشاندہی کی کہ “یہ امکان کے دائرے میں ہے کہ ہم 2030 میں بنگلہ دیش سے امداد حاصل کرسکیں گے۔”

ہندوستان صرف جنوبی ایشین معیشت کے بارے میں ابدی پراعتماد ہے جس کی اہمیت ہے۔ اب اسے اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ وہ بھی ، فی کس لحاظ سے بنگلہ دیش سے غریب ہے۔ 2020-21 میں ہندوستان کی فی کس آمدنی صرف $ 1،947 تھی۔

بھارت میں دائیں بازو کے افراد اس بات پر قائل ہیں کہ بنگلہ دیش اتنا بے سہارا ہے کہ وہاں سے غیرقانونی تارکین وطن سرحد پار ہے۔ حقیقت میں بنگلہ دیش افسردہ ہندوستانی ریاستوں سے کہیں زیادہ امیر ہے جہاں ہندو قوم پرست سیاستدان بنگلہ دیشیوں کے خلاف صف آراء ہوئے ہیں۔ جب جی ڈی پی نمبروں کا اعلان کیا گیا تو ہندوستانی سوشل میڈیا غصے اور انکار سے کیوں پھٹا۔ دریں اثنا ، بنگلہ دیشی میڈیا نے اس سے بہت کم موازنہ کیا ہے۔ یہ خود اعتمادی کی ایک قسم ہے ۔

بنگلہ دیش کی نمو تین ستونوں پر منحصر ہے: برآمدات ، معاشرتی ترقی اور مالی حکمت۔ 2011 اور 2019 کے درمیان ، بنگلہ دیش کی برآمدات میں ہر سال 8.6 فیصد اضافہ ہوا ، جبکہ اس کی اوسط دنیا کی اوسط 0.4٪ ہے۔ کامیابی کی بڑی وجہ ملک کی ملبوسات جیسی مصنوعات پر لگاتار توجہ مرکوز ہے جس میں اس کو تقابلی فائدہ ہے۔دریں اثنا ، مزدور قوت میں بنگلہ دیشی خواتین کا حصہ مستقل طور پر بڑھ رہا ہے ۔

بنگلہ دیش کی کامیابی اپنی ہی پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کی برآمدات کو مختلف میکانزم میں ملک کی شراکت سے فائدہ ہوتا ہے جو ترقی یافتہ معیشتوں جیسے ٹیرف فری رسائی کی اجازت دیتا ہے ، جیسے امریکی ترجیحات کا عام نظام۔ یہ گروپنگ صرف دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک کے لئے کھلی ہوئی ہے۔ اس کی ترقی کی بدولت ، بنگلہ دیش کو ممکنہ طور پر 2026 ء تک ان مراعات سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

جیسے جیسے اس کی معیشت کی پختگی ہوگی ، اس کے تقابلی فوائد میں بھی تبدیلی آئے گی۔ حکومت کو اگلی دہائی کے لئے ایک حکمت عملی کی ضرورت ہے جو عالمی انضمام کی نئی شکلوں اور معیشت کی مسلسل تبدیلی پر مرکوز ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آزاد تجارت کے معاہدوں پر دستخط کرکے دنیا کی ترقی یافتہ مارکیٹوں تک رسائی برقرار رکھنا ہے۔ بنگلہ دیشی عہدیداروں کے مطابق ، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن کے ساتھ ایف ٹی اے پر کام شروع ہوچکا ہے ، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ایک بار پھر ، بنگلہ دیش کو خود کو ویتنام کے خلاف بینچ مارک کرنا چاہئے ، جو نہ صرف چین پر مبنی علاقائی جامع اقتصادی شراکت کا حصہ ہے اور ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ کا جانشین ہے ، بلکہ اس نے 2019 میں یوروپی یونین کے ساتھ ایف ٹی اے پر دستخط بھی کیے تھے۔ بنگلہ دیش کی تجارت آسان نہیں ہوگی ، اسی وجہ سے کوششوں کو اب شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈھاکہ کو خاص طور پر اپنی گفت و شنید کی گنجائش کو بڑھانا ہوگا: اس کے پاس اپنی تجارت کی وزارت میں تجارتی گفت و شنید کرنے کا ایک وقف بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ، پچھلے 50 سالوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف شرطیں لگانا کتنا غیر دانشمندانہ عمل ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *