Type to search

فیچر

سیاست نوے کی دہائی میں، قسط 6: تحریک انصاف کا ظہور، نواز شریف کی دوسری حکومت، اور کارگل میں جاری خوفناک کھیل

زرداری صاحب حکومت کی برطرفی کے موقعے پر لاہور کے گورنر ہاؤس میں منظور وٹو کی حکومت ختم کرنے کی سازباز میں مصروف تھے اور وہیں سے انہیں گرفتار کیا گیا۔ صدر لغاری نے پیپلز پارٹی کے سابقہ رکن ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم کا عہدہ سونپا۔ کابینہ میں صاحبزادہ یعقوب علی خان، عابدہ حسین، شاہد جاوید برکی اور فخر الدین جی ابراہیم شامل تھے۔ نجم سیٹھی کو نگران وزیراعظم کا خصوصی مشیر برائے احتساب مقرر کیا گیا۔ سندھ میں ممتاز بھٹو کو قائم مقام وزیراعلیٰ جبکہ پنجاب میں خواجہ طارق رحیم کو گورنر مقرر کیا گیا۔ 18 نومبر 96 کو صدر کی جانب سے کرپشن اور بدعنوانی کی روک تھام کے لئے احتساب آرڈیننس متعارف کروایا گیا۔

تحریک انصاف کا ظہور، ‘انتخابات سے پہلے احتساب’ ایجنڈے میں شامل

ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف ایک نئی اور شفاف سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ اس جماعت کے اہم کارکنان میں ماحولیاتی قانون کے عالمی ماہر ڈاکٹر پرویز حسن، نسیم زہرہ، کراچی سے ناظم حاجی (جنہوں نے بعد میں پولیس اور شہریوں کے رابطے کی تنظیم CPLC قائم کی)، بلوچستان سے اویس غنی، پشاور سے عبدالمتین (پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر) اور سوات سے ڈاکٹر فاروق (سوات میں قائم ہونے والی یونیورسٹی کے وائس چانسلر جنہیں طالبان نے شہید کیا) شامل تھے۔ جماعت کے ابتدائی ایجنڈے میں وی آئی پی کلچر کا خاتمہ، کرپشن کا خاتمہ، انتخابات سے پہلے احتساب، بیرونی قرضوں سے نجات اور امریکی غلبے کا خاتمہ شامل تھا۔


یہ بھی پڑھیے: سیاست نوے کی دہائی میں، قسط 5: شریعت کے نام پر فوجیوں کی ناکام بغاوت، اور مرتضیٰ کا قتل


ان مسائل کے حل کے لئے جماعت نے آٹھ کمیٹیاں تشکیل دیں جو مسائل کا حل پیش کر سکیں۔ جب عمران نے اپنی جماعت قائم کرنے کا اعلان کیا تو محترمہ بینظیر نے کہا تھا: ‘کیا عمران کی جماعت اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے قابل ہو گی؟’۔ البتہ جب اپریل 1996 میں شوکت خانم ہسپتال میں بم دھماکہ ہوا تو محترمہ نے خود ہسپتال کا دورہ کیا اور دہشتگردی کی مذمت کی۔ اس سے قبل ہسپتال کے لئے جگہ اور ڈھائی لاکھ ڈالر نواز شریف کی حکومت کی جانب سے خان صاحب کو دیے گئے تھے۔

 صدر لغاری نے 3 فروری 1997 کو عام انتخابات منعقد کروانے کا اعلان کیا۔

جنون بینڈ نے ‘احتساب’ نامی گانا ریلیز کیا، جو کہ تحریک انصاف کی انتخابی مہم کا حصہ بنا

تحریک انصاف نے پہلی دفعہ انتخابی کارروائی میں حصہ لیا۔ انتخابی مہم کے دوران کراچی میں خطاب کرتے ہوئے خان صاحب نے فرمایا کہ ان کی جماعت کے منشور میں تین اہم نکات ہیں: انصاف کی فراہمی، انسانی حقوق کی ترویج اور قومی خود مختاری کا تحفظ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نکات انہوں نے اسلام سے اخذ کیے ہیں اور پاکستان کا مستقبل اسی صورت روشن ہو سکتا ہے اگر یہاں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام ہو جائے۔ انتخابات سے قبل دسمبر 1996 میں جنون بینڈ نے ‘احتساب’ نامی گانا ریلیز کیا، جو کہ تحریک انصاف کی انتخابی مہم کا حصہ بنا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان انتخابات سے پہلے خود خان صاحب نے بھی کبھی ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

عمران خان نے آٹھ نشستوں پر انتخاب لڑا لیکن ایک نشست بھی جیتنے میں ناکام رہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی 48 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے اور مشترکہ طور پر جماعت نے لگ بھگ تین لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ ٹی وی پر انتخابی اشتہارات میں خان صاحب نے اپنے ووٹروں سے درخواست کی تھی کہ وہ انتخابات کے روز خود ہی انتخابی مرکز پہنچ جائیں کیونکہ ان کی جماعت کے پاس ابھی اتنا سرمایہ نہیں کہ وہ سب کو مراکز تک پہنچا سکیں۔ انتخابات سے قبل انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی یا نواز لیگ کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔

دوسرا نواز دور 1997-99

تین فروری 1997 کو منعقد کردہ قومی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی میں دو تہائی اور پنجاب اسمبلی میں نوے فیصد برتری حاصل کی۔ ووٹر ٹرن آؤٹ تاریخی لحاظ سے کم ترین رہا اور صدر لغاری نے ٹی وی پر اعتراف کیا کہ شہری اور دیہاتی علاقوں میں صرف چھبیس سے ستائیس فیصد افراد نے ووٹ کا اختیار استعمال کیا۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز نے 202 نشستوں میں سے 134 جبکہ پیپلز پارٹی نے 19، متحدہ قومی موومنٹ نے 12 اور عوامی نیشنل پارٹی نے 9 پر کامیابی حاصل کی۔ صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز نے حکومت قائم کی اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی مخلوط حکومت قائم ہوئی اور سردار مہتاب عباسی کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ صوبہ سندھ میں مسلم لیگ نواز اور متحدہ قومی موومنٹ نے مخلوط حکومت قائم کی جبکہ بلوچستان میں کسی جماعت کو واضح برتری حاصل نہ ہوئی اور اختر مینگل نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔

قانون اور عدلیہ کی دھجیاں اڑا دی گئیں

دوسرے نواز دور میں قانون اور عدلیہ کے ادارے کی دھجیاں جس طور پر اڑائی گئیں، اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے ایک ماہ بعد ہی صحافت کی آزادی پر حملہ ایک آرڈیننس کے ذریعے کیا گیا۔ اپنے پہلے دور حکومت کے دوران بھی نواز شریف کے صحافیوں سے تعلقات مثالی نہیں تھے اور ایک طنزیہ نظم چھاپنے پر معروف انگریزی اخبار کی مدیر پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ آئین میں درج تمام اصولوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے صدر کے اختیارات کم کرنے والی تیرہویں ترمیم اور تین ماہ بعد چودھویں ترمیم راتوں رات منظور کروا لی گئیں۔

چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو حوالات کی سیر کرانے کا منصوبہ

چودھویں (14) ترمیم کے مطابق اسمبلی کے ممبران اپنی جماعت کے سربراہ کے فیصلے کے خلاف ووٹ نہیں ڈال سکتے تھے اور ایسا کرنے کی صورت میں ان کو نااہل قرار دیا جانا تھا اور وہ اس عمل کے خلاف کسی عدالت میں اپیل نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد وزیراعظم نے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا حکم جاری کیا لیکن اس کو چیف جسٹس نے خلاف قانون قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اس پر نواز شریف خوب سیخ پا ہوئے اور اسمبلی میں چیف جسٹس پر تنقید کی۔

اس دور میں وزیر خارجہ گوہر ایوب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف نے سجاد علی شاہ سے نجات پانے کے لئے پہلے تو یہ منصوبہ بنایا کہ انہیں اسمبلی کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم جاری کیا جائے اور جب انہیں یہ بتایا گیا کہ یہ ممکن نہیں تو انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی طریقے سے جج صاحب کو صرف ایک رات کے لئے ہی حوالات کی سیر کرائی جائے۔

کشیدگی بڑھنے پر جنرل جہانگیر کرامت نے تصفیہ کرانے کی پیشکش کی۔ وزیراعظم نے مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی۔

حکومت ججوں کو تقسیم کرنے میں کامیاب

اس اثناء میں شہباز شریف، شریف الدین پیرزادہ اور سپریم کورٹ کے دو جج کوئٹہ پہنچے اور سپریم کورٹ کوئٹہ بنچ میں چیف جسٹس کی تقرری کو انہی کے قائم کردہ اصولوں (ججز کیس کے فیصلے میں جسٹس سجاد علی شاہ نے تقرری کے کچھ اصول مرتب کیے تھے) کی روشنی میں چیلنج کر دیا۔ کوئٹہ بینچ نے چیف جسٹس کے خلاف فیصلہ سنایا اور انہیں اپنے فرائض انجام دینے سے روک دیا۔ چیف جسٹس نے اس حکم کو غیر آئینی قرار دیا۔

پشاور بنچ نے بھی اسی طرز کا حکم جاری کیا اور جسٹس سعیدالزماں نے چیف جسٹس کی تقرری کو مسترد قرار دیتے ہوئے خود ان کا منصب سنبھالنے کا فیصلہ سنایا۔ دونوں بنچوں نے چیف جسٹس کے خلاف درخواست صدر کو بھی بھجوا دی۔

اس نوعیت کا غیر آئینی قدم اس سے پہلے پاکستان اور شائد دنیا کی کسی عدالت میں نہیں اٹھایا گیا تھا۔

اس دھینگا مشتی کے دوران چیف جسٹس نے صدر کے اختیارات بحال کرتے ہوئے تیرھویں آئینی ترمیم کو مسترد قرار دیا۔ اس حکم کے چند منٹ بعد ہی سپریم کورٹ کے ایک اور بنچ نے اس حکم کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا۔

پاکستان کی عدلیہ کے لئے تاریک ترین دن، مسلم لیگ کے کارکنوں کا عدالت پر حملہ

28 نومبر کا دن پاکستان اور اس کی عدلیہ کے لئے تاریک ترین دن تھا۔ اس روز وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت جاری تھی کہ عدالت پر مسلم لیگ کے کارکنوں نے ہلا بول دیا۔ عدالت کی تقدیس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے جوشیلے مسلم لیگیوں نے چیف جسٹس کے کمرہ عدالت کا دروازہ توڑ دیا اور مختلف املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس دھکم پیل میں وفاقی وزیر مشاہد حسین سید، سینیٹر سیف الرحمان، پرویز رشید، سعد رفیق، خواجہ آصف، اختر رسول، طارق عزیز، نجمہ حامد اور دیگر شامل تھے۔ اس طوفان بد تمیزی سے دو روز قبل عدالت عظمیٰ میں ایک گمنام وکیل نے رٹ دائر کی تھی کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔

اردشیر کاؤس جی نے لکھا کہ سجاد علی شاہ کے والد نے 1954 میں گورنر جنرل غلام محمد کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسمبلی کی تحلیل کے خلاف مولوی تمیز الدین کی اپیل سماعت کے لئے منظور کی تھی لیکن سجاد علی شاہ کو ایوان اقتدار کی خواہش اور عدالت عظمیٰ کی بے حرمتی کے بعد گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

صدر لغاری کی چھٹی، سجاد علی شاہ بھی برطرف

اس بحران کے دوران صدر لغاری نے شریف حکومت کے اقدام کی حمایت نہیں کی اور نواز شریف سے مخالفت کی سزا بہر حال صدر لغاری کو بھگتنی پڑی اور انہیں اقتدار کی کُشتی میں مات کھانے کے باعث استعفا دینا پڑا۔ ذرائع ابلاغ پر مکمل اختیار ہونے کے باعث صدر کے استعفے کی خبر سرکاری چینل پر نہیں دکھائی گئی۔ قائم مقام صدر کا پہلا کام جسٹس سجاد علی شاہ کو برطرف کرنا تھا۔

عبدالقدیر خان کا شجرہ، اور پرتھوی میزائل کا جواب غوری

اپریل 1998 میں عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے ‘غوری’ نامی درمیانے فاصلے کے میزائل کا تجربہ کیا۔ عبدالقدیر خان کو کئی دہائیوں سے یہ غلط فہمی واقع تھی کہ ان کا شجرہ نسب شہاب الدین غوری کے ایک جرنیل سے ملتا ہے، البتہ اس بات کا ثبوت پاکستانی حساس اداروں کو بھی نہ مل سکا۔ بھارت نے کچھ ماہ قبل پرتھوی نامی میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ پرتھوی، ہندی زبان میں زمین کو کہتے ہیں، لیکن خان صاحب نے اس سے مراد پرتھوی راج لیا، جسے میدان جنگ میں غوری کے ہاتھوں شکست نصیب ہوئی تھی۔ تجربے کے وقت اس بات پر کسی نے غور نہیں کیا کہ وہ میزائل دراصل غوری نہیں بلکہ شمالی کوریا سے لیا گیا نو ڈونگ میزائل تھا جس کو رنگ روغن کی مدد سے غوری ‘بنایا’ گیا تھا۔

وزیر خزانہ سرتاج عزیز، نیوی کے سربراہ ایڈمرل فصیح بخاری اور چودھری نثار کے علاوہ تمام وزراء اور مشیروں کی رائے تھی کہ دھماکہ کر دیا جائے

بھارتی حکومت اس اقدام پر بوکھلا گئی اور اٹل بہاری واجپائی نے باضابطہ ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سے قبل بھارت 1974 میں پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکہ کر چکا تھا۔ 11 مئی 1998 کو بھارت نے راجھستان میں ایٹمی تجربہ کیا۔ امریکہ اور باقی دنیا اس اچانک اقدام پر بوکھلا گئے۔ امریکی صدر کلنٹن نے اپنے تجربہ کار سفارت کار اور جرنیل پاکستان کو ایسی ہی حرکت سے باز رکھنے کے لئے روانہ کیے۔ نواز شریف نے امریکیوں کو یہ تاثر دیا کہ وہ بہت دباؤ کا شکار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جنگی کابینہ کا خفیہ اجلاس بلایا تاکہ اس مسئلے کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے۔ وزیر خزانہ سرتاج عزیز، نیوی کے سربراہ ایڈمرل فصیح بخاری اور چودھری نثار کے علاوہ تمام وزراء اور مشیروں کی رائے تھی کہ دھماکہ کر دیا جائے۔ سرتاج عزیز نے حاضرین کو دھماکے کے بعد ممکنہ معاشی بحران کے خطرے سے آگاہ کیا اور یہ تسلی دی کہ پاکستان معاشی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم فیصلہ کرنے میں گومگو کا شکار تھے۔ ان کے قریبی کالم نگاروں، مجیب الرحمان شامی اور الطاف حسین قریشی 26 مئی تک اپنے اخباری مضامین میں ‘امتناع’ (restraint) کا پیغام سنا رہے تھے۔ صدر کلنٹن نے نواز شریف کو پاکستان کے بہت سے بیرونی قرض معاف کروانے کا عندیہ دیا۔

اسرائیلی طیاروں کی پاکستانی سرزمین پر حملے کی افواہ

اس دوران اسرائیلی طیاروں کی پاکستانی سرزمین پر حملے کی افواہ بھی اڑائی گئی لیکن آزادانہ تحقیق کے مطابق اسرائیل نے ایسی کسی کاروائی کا ارادہ بھی نہیں کیا تھا۔ ایٹمی تجربہ کرنے کا فیصلہ ہوا تو عبدالقدیر خان اور ثمر مبارک مند کے درمیان یہ چپقلش شروع ہوئی کہ اس کام کی ذمہ داری کون لے گا۔ ثمر مبارک مند اور ان کے ماتحت ادارے پاکستان ایٹمی انرجی کمشن PAEC نے بلوچستان میں چاغی کے مقام پر ایٹمی تجربات کے لئے سرنگیں تیار کر رکھی تھیں لہذٰا یہ شرف انہیں حاصل ہوا۔ عبدالقدیر خان آج تک اپنے آپ کو بابائے بم کہلوانا پسند کرتے ہیں لیکن ثمر مبارک مند کے مطابق خان ریسرچ لیبارٹری اور عبدالقدیر خان کا بم بنانے کے پچیس مراحل میں سے صرف ایک مرحلہ پورا کرنے میں حصہ تھا۔ 28 مئی 1998 کو دوپہر تین بج کے سولہ منٹ پر محمد ارشد نامی سائنس دان نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر دھماکے کے لئے بٹن دبایا اور پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا۔

دھماکوں کے نتیجے میں ہومیوپیتھک پابندیاں

دھماکوں کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ نے جلد ہی پابندیوں میں کمی کر دی اور اسی سال جولائی کے مہینے میں زراعت کے شعبے میں امداد پاکستان کو مہیا کی گئی جبکہ فوجی اور تکنیکی امداد تین ماہ بعد ملی۔ آئی ایم ایف نے بھی اپنی شرائط میں نرمی دکھائی۔

اگست 1998 میں شریف حکومت نے پندرھویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں متعارف کروایا۔ اس بل کو شریعت بل بھی کہا گیا اور اس ترمیم کی بدولت نواز شریف نے قانونی طور پر خلیفہ بننے کی کوشش کی۔ اس بل کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک بھر میں احتجاجی مہم چلائی۔ قانونی امور کے ماہرین کے مطابق اس بل کے ذریعے وفاق کو مزید اختیارات دینے اور صوبائی حکومتوں کو کمزور رکھنے کی سعی کی گئی۔ یہ بل قومی اسمبلی نے اکتوبر میں پاس کیا لیکن اسے سینیٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔

کارگل

سیاچن گلیشئر کو دنیا کا بلند ترین میدان جنگ کہا جاتا ہے۔ سیاچن اور سرینگر کو آپس میں ایک ہی سڑک ملاتی ہے، جس کے ذریعے بھارتی فوج کو اسلحہ اور روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء پہنچائی جاتی ہیں۔ پاکستانی فوج کئی سال اس سڑک کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی رہی لیکن ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آخرکار کسی بزرجمہر نے یہ حل نکالا کہ اگر پاکستان لداخ میں واقع کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کر لے تو وہاں سے اس سڑک کو نشانہ بنانا بہت آسان ہو جائے گا۔ اکتوبر 1998 میں پاکستانی فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری کے دستے خفیہ طور پر کارگل کی چوٹیوں کی جانب روانہ ہوئے۔

(جاری ہے)

Tags:

1 Comment

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *