Type to search

تجزیہ سیاست

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا بیان اور ڈہرکی ٹرین حادثہ: ہمارے سماج کا پوسٹ مارٹم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دو دن سے دو اسیے واقعات ہوئے ہیں جو ہمارے سماج کی ساخت کی بہترین منظر کشی کرتے ہیں۔ ایک لاھور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب قاسم علی خان کے ریمارکس اور دوسرا سندھ میں ہونے والا ٹرین حادثہ۔ پہلے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی بات کرتے ہیں جنہوں نے ایک شہری کی جائیداد پر قبضہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ 5 جولائی کے بعد مجھے اور میرے ایل خانہ کو سب سے زیادہ خطرہ پولیس سے ہو گا اور مجھے کچھ ہوا تو اس کی ذمہ درای پنجاب پولیس پر گی۔ یاد رہے یہ بات 11 کروڑ آبادی کے عدالتی نظام کے سب سے بڑے منصف نے کی ہے جو 5 جولائی کو اپنے عہدے کی معیاد پوری کرکے ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اگر پورے پنجاب کا سب سے بڑا منصف اعلی پولیس والوں کے سامنے بے بس ہے تو عام شہریوں کا خدا ہی حافظ ہے۔ کیا وجہ ہے تحریک انصاف کی حکومت خبیر پختونخوا میں کامیاب پولیس اصلاحات کرنے کے باوجود اپنے ہونے تین سال کے اقتدار میں پولیس اصلاحات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور پنجاب پولیس کا قبلہ اس قدر بگڑ گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ہاتھ اٹھا دیے ہیں۔ آخر پولیس اصلاحات کرنا کس کی ذمہ درای ہے۔ جب عدالتی اصلاحات نہیں ہو سکی تو پولیس اصلاحات کیسے ہوں گی؟ تحریک انصاف کی حکومت نے خبیر پختونخوا میں کامیاب پولیس اصلاحات بھی کیں اور موبائل کورٹس بھی متعارف کرائی ۔ پنجاب میں شروع میں پولیس اصلاحات کرنے کی کوشش کی گئی اور ناصر خان درانی سابق انسپکٹر جنرل پولیس خبیر پختونخوا کو ٹاسک بھی دیا گیا جو خبیر پختونخوا میں کامیاب تجریہ کر چکے تھے مگر پنجاب میں انکو ناکام کر دیا گیا۔

پنجاب پولیس کی بیورو کریسی نے انکی ایک نہ چلنے دی۔ مجبورا وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر چلے گئے۔ پھر ایک اور پولیس آفیسر عمر شیخ جنکو سی سی پر او لاہور مقرر کیا گیا انہوں نے بھی پولیس اصلاحات کے حوالے سے ایک اچھا قدم اٹھایا۔ پنجاب پولیس کے اندر فوجی طرزِ کے کورٹ مارشل لاء کو لاگو کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی ناکام رہے۔ آج کل فاروق آباد میں ٹرانسفر کر دیے گئے۔ اخر کیا وجہ ہے ایک ہی ملک کے دو صوبوں میں پولیس اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش ہوتی ہے اور ایک صوبہ میں کامیابی اور دوسرے میں ناکامی ہوتی ہے اس سوال کا جواب ایک قانون دان سیاسی کارکن اور جنرل ضیاء الحق کی جیل کانٹے والے آصف بٹ کی کتاب ،،،کہیں سولائیںاں سرراہ تھیں میں مل جائے گا ،آصف بٹ کو جنرل ضیاء الحق پر قاتلانہ حملے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جیلوں میں بند رہے بعد میں بے نظیر بھٹو کی حکومت میں انکی سزائے موت کو معاف کیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں میں خبیر پختونخوا کے پولیس والوں کو پنجاب کے پولیس حکام کی نسبت اخلاقی طور پر بہتر پایا اور انسانی حقوق کا احترام کرتے دیکھا۔ یہ ایک بہت بڑا سچ ہے جو سیالکوٹ پنجاب کے ایک وکیل اور سیاسی قیدی نے اپنی کتاب میں لکھا اور آج لاہور ہائیکورٹ کورٹ کے چیف جسٹس بھی پنجاب پولیس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ پاکستان ریلویز اُردو زبان اور کرکٹ کے کھیل کے ساتھ ساتھ قومی یکجتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں یہ عظیم ادارہ زوال پذیر ہو چکا ہے ہر سال کوی نہ کوی بڑا حادثہ ہوتا ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں شخ رشید ،غلام احمد بلور ،خواجہ سعد رفیق اور اعظم سواتی وزیر ریلوے بنانے گئے۔ مگر کوئی بھی وزیر ریلوے کے مسائل حل نہ کر سکا۔ غلام بلور نے تو کبھی ریلوے ٹھیک کرنے کا دعویٰ ہی نہیں کیا بلکہ وہ تو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے کہتے تھے کہ ہماری مالی اعانت کی جائے ورنہ انشاللہ ریلوے بند ہو جاے گا۔ خواجہ سعد رفیق نے بھی بلند وبانگ دعوے کیے میں اس پرس کانفرنس میں موجود تھا جس میں پی ایچ اے کے سربراہ افختار احمد جو صحافی بھی ہیں انہوں نے مل کر دعوہ کیا ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ پی ایچ اے پھول لگانے کا کام شروع کرے گا۔

کچھ بھی نہ ہوا۔ خواجہ سعد رفیق کے خلاف ریلوے انجن کی خریداری کے حوالے سے انکوائری بھی ہوئی۔ پھر شخ رشید آگئے جن کا ایک دعوی ہے کہ ریلوے کے مسائل کا ایک ہی حل ہے وہ ایم ایل ون ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم ایل ون پاکستان کی ریلویز کی تاریخ میں سنگ میل ہو گا مگر اسکی تکمیل میں دس سال لگ سکتے ہیں۔ تب تک کیا اسی طرح حادثات ہوتے رہیں گے؟ اگر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کا حکم نہ ہوتا تو کراچی سرکلر ریلوے کبھی بھی بحال نہ ہوتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آرمی چیف اور وزیر ریلوے ہمراہ چیر مین ریلوے مل کر بیٹھ کر اس عظیم الشان ادارے پاکستان ریلویز کو بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *