Type to search

خبریں

پارلیمنٹ سے 12 کھرب روپے کی اضافی گرانٹ منظور کرانے کیلئے کوششیں تیز

بجٹ دستاویزات کے مطابق پارلیمنٹ کو اخراجات میں اضافے اور دوبارہ مختص کرنے کے لیے ریکارڈ 12 کھرب 48 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دینی ہوگی۔

انگریزی اخبار ڈان کے مطابق گزشتہ سال اس مد میں 545 ارب روپے مختص تھے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات میں 130 فیصد اضافی سپلیمنٹری گرانٹ دکھائی گئی جس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری کی ضرورت ہے۔

وزارت کی دستاویزات کے مطابق سبسڈی، شعبہ توانائی، واٹر ڈویژن، دفاعی خدمات، صحت سے متعلق اخراجات، سول آرمڈ فورسز اور متعلقہ ایجنسیز کے بجٹ میں زیادہ مختص ہیں۔

سپلیمنٹری گرانٹ کا بڑا حصہ مالی سال 20-2019 سے بھی متعلق ہے جس کو رواں سال کے بجٹ کے ساتھ منظور کیا جانا چاہیے تھا اور کچھ دیگر اخراجات مالی سال 19-2018 کے بھی تھے، جنہیں آئین کے آرٹیکل 80-84 کے تحت منظور کیا جانا تھا۔

اس سے بجٹ کے تخمینے اور اخراجات کے نتیجے میں ہونے والے عمل پر بھی سوالیہ نشان اٹھے ہیں۔

وزارت خزانہ نے ایک تحریری بیان میں وضاحت کی کہ مختلف اخراجات اور بجٹ میں مختص رقم سے ان اخراجات کو پورا نہیں کیا جاسکتا ہے اور ’مالی سال کے دوران قانونی طور پر ملتوی نہیں کیا جاسکتا تھا‘۔ انہوں نے مالی سال 22-2021 کے لیے 420 ارب روپے مالیت کی ریگولر اور تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی طلب کی ہے جس میں 203 ارب روپے کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وزارت خزانہ مالی سال 20-2019 کے 290 ارب روپے گرانٹ کے لیے منظوری کی خواہاں ہے جس میں 442 ارب روپے کے اضافی اخراجات شامل ہیں جبکہ مالی سال 19-2018 کی گرانٹ اور مختص سے متعلق 170 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

سپلیمنٹری گرانٹ مالی سال 21-2020 میں بجلی کے شعبے کے لیے 204 ارب روپے، مسلح افواج کے 26 ارب روپے، سبسڈی وغیرہ کے 58 ارب روپے، نیشنل ہیلتھ سروسز کے 25 ارب روپے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے 40 ارب روپے غیر منظورہ شدہ اخراجات ہیں۔

رواں سال کے دوران دفاعی اخراجات رواں مالی سال میں 13 کھرب 27 ارب روپے تھے نہ کہ 12 کھرب 95 ارب روپے جو اہم بجٹ بیان میں ظاہر کیا گیا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *