Type to search

فیچر

کیا اردو اگلی دو دہائیاں بھی زندہ رہ پائےگی؟

یہ مضمون  سمیع قاہر نے تحریر کیا جو کہ  ڈان میں شائع ہوا جسے نیا دور اردو کے لیئے ترجمہ کیا گیا

سمپورن سنگھ کالرا، جنہیں عرف عام میں گلزار کہا جاتا ہے جو بھارتی فلم انڈسٹری کی مایہ ناز ترین شخصیات میں سے ایک ہونے کے ساتھ ساتھ اردو شاعری اور فلمی موسیقی کے حوالے سے بھی زبردست پہچان کے حامل ہیں۔ وہ اردو زبان سے بہت پیار کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے اپنے مشہور فلمی گیت “چھیاں چھیاں “میں اپنی محبوب زبان کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ کیا ” محبوب میرا خشبو کی طرح، ہواسکی زباں اردو کی طرح ”
بھارتی فلم انڈسٹری میں اردو زبان کو اس مرتبہ پر عزت و تکریم دینے والے گلزار اکیلے نہیں اردو زبان نہ ہوتی تو بھارتی فلمی صنعت کے صف اول کے گیتوں اور فلمی مکالموں کو ایسا عزت اور مقام کبھی نہ ملتا ۔اردو زبان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بھارت میں اب بھی ہر سال جشن ریخته منایا جاتا ہے۔حیران کن امر ہے کہ جو لوگ یہ آرٹیکل پڑھ رہے ہیں ان میں سے بھی بہت کم کو ریخته کا مطلب پتہ ہو گا جنہیں علم نہیں وہ سن لیں کہ ریخته اردو کا مترادف لفظ ہے .
ہم شاید وہ آخری نسل ہیں جو اردو ادب پڑھ کر جوان ہوئے ۔ہم اسی کی دہائی کے بچوں نے ابن صفی اور اشفاق احمد ،شفیق الرحمان اور مستنصر حسین تارڑ کو پڑھا جب ہم ذہنی پختگی کی طرف جا رہے تھے۔ ہمارا شاعرانہ ذوق بھی اچھا تھا بے ربط الفاظ کی تک بندی کو شاعری نہیں کہتے تھے۔ شاعری میں ردیف، قافیه زمین اور بحر کی اصطلاحات سے خوب واقف تھے۔ یہ سطریں لکھتے وقت مجھے رونا آ رہا ہے۔
سب جذبات اور ماضی کی، بھول بھلیاں  ایک طرف رکھ کر اس مسئلہ کی بات کرتے ہیں جو اُردو کو بطور زبان پیش ہے ۔پچھلے ماہ ارورا نامی ویب سائٹ نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا ” اردو ہمارے لئے مشکل کیوں ہے؟ “جس نے زخموں کے منہ پھر سے کھول دیئے۔ یہ تحریر ایک نوجوان کرئیٹو مینجر کی تھی اور اعتراف ندامت سے بھرپور بھی جسے پڑھ کر مجھے حقیقت کا ادراک اور دلی صدمہ ہوا ۔

اگر یہ اردو زبان کا خاتمہ نہیں تو کم از کم انتہائی تنزلی ضرور ہے کہ اشتہارات میں اردو کا استعمال ختم ہو چکا ہے بل بورڈز کی زبان اردو نہیں جو ابلاغ کا ایک بڑا وسیلہ ہونے کے ساتھ زبان کی ترویج کا بھی وسیلہ ہوتے ہیں

واٹس ایپ کی مقبولیت اوررومن سکرپٹ کا بڑھتا استعمال
ت
.2004 میں جب میں نے ایڈورٹائزنگ کے شعبہ میں کام شروع کیا تو اشتہارات کی بنیادی زبان اردو ہوا کرتی تھی۔ تمام ابلاغ اردو میں لکھا اور پڑھا جاتا تھا۔ صرف 15 سال کی مدت ميں سڑکوں اور چوراہوں پر لگے بل بورڈز سے لیکر آن لائن ڈیجیٹل بورڈز تک کی زبان بہت تیزی سے بدلی ہے ۔اب ہر جگہ رومن   سکرپٹ کا راج ہے اور ہر کوئی رومن ہی استعمال کر رہا ہے۔ ہجے بھی ہر کسی کے الگ ہوتے ہیں اعتراض کیا جائے تو پوچھا جاتا ہے کہ اس میں غلط کیا ہے؟؟ تاویل دی جاتی ہے کہ یہ تو زبان کی جدیدیت کے اعتراف کا عمل ہے جو نئے دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ہو سکتا ہے اس میں کچھ غلط نہ ہو سوائے یہ کہ اسکی وجہ سے اردو زبان جلد یا بدیر ختم ہو جائے گی ۔ رسم الخط زبان اور بولی کا بنیادی فرق ہے دنیا کی کوئی زبان رسم کے بغیر زندہ نہیں رہتی ۔آج کی اشتہار سازی میں اردو بولی جبکہ انگریزی زبان استعمال ہو رہی ہے۔
اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ واٹس ایپ اور اس جیسی دیگر ایپس ہیں جن میں اردو رومن سکرپٹ میں ٹائپ ہوتی ہے اور قارئین اسے با آسانی پڑھ سکتے ہیں، اشتہارات بنانے والوں کو بھی کوئی مسئلہ نہیں اگر یہ عالمی مسئلہ ہوتا تو شاید مجھے بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن عالمی سطح پر ایسا نہیں، ترکی میں بل بورڈ ترک زبان میں لکھے جاتے ہیں( صاحب مضمون کی جہالت کہ کمال اتا، ترک نے ترکی زبان کے لئے رومن رسم الخط رائج کر دیا تھا، ترک اسلامی ریاست کا سکرپٹ عربی تھا) اسی طرح چین یونان، فرانس اور سپین میں بھی بل بورڈز انکے اپنے رسم الخط میں ہوتے ہیں۔( مزیداری کی بات ہے ک چین کے علاوہ ہر جگہ رومن سکرپٹ رائج ہے) جبکہ پاکستان میں پانچ فیصد سے بھی کم ڈیجیٹل بورڈ اردو میں لکھے نظر آتے ہیں اور ہر جگہ ہجوں کا فرق بھی ملتا ہے جیسا کہ “ہے” کہیں آئی کے ساتھ ہےتو کہیں وائی کے ساتھ اور کہیں ایچ اے ای لکھا ہوتا ہے۔ آج کے سکرپٹ رائٹر نہیں اور نہی کا فرق پہچاننے سے قاصر ہیں۔ نہیں سے مراد انکار ہے اور نہی سے مراد رد کرنا لیکن رومن استعمال کی وجہ سے دونوں الفاظ کا بکثرت غلط استعمال دیکھنے میں ملتا ہے
اسی طرح “کیا” اور “کیا” کو رومن سکرپٹ میں اکثر غلط کر دیا جاتا ہے کیا سوال کے لئے استعمال ہوتا ہے جسے انگریزی میں وٹ لکھا جاتا ہے اور کیا کے لئے did استعمال ہوتا ہے لیکن رومن اردو میں انکا استعمال بغیر سوچے سمجھے کر دیا جاتا ہے۔

اردو سکرپٹ رائٹر  کی موت
ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج اشتہار ساز دنیا میں اردو کی اہمیت ہی کو سرے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے 2004 تک اشتہار ساز اداروں میں ایک ماہر اردو سکرپٹ رائٹر ہوا کرتا تھا جبکہ انگریزی سکرپٹ رائٹر اسکی ماتحتی میں کام کرتے تھے زیادہ تر کاپی اردو میں لکھ کر انگریزی میں ترجمہ کی جاتی تھی۔اب ان اداروں میں صرف کاپی رائٹر ہوتے ہیں اردو یا انگریزی کاپی رائٹر نہیں، pitch انگریزی میں ہوتی ہے۔مرکزی خیال تک اردو میں لکھا جاتا ہے ان حالات میں کیسے خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس شعبہ میں اردو زبان کی ترویج ہو گی یا کم از کم زندہ رہے گی؟

مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب اشتہار سازی میں زبان کے حوالے سے کسی خاص مہارت کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اردو تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے چاہے موسیقیت زدہ انگریزی ہی کا سکرپٹ رائٹر کیوں نہ ہو لکھنے تو مناظر یا مکالمے ہیں ایک بھاری بھرکم ویژول مونتاج کے ساتھ اردو کے مکالمے لکھ دئیے جائیں گے وہ متناسب ہوں یا نہیں یہ تو سرے سے بحث ہی نہیں۔ اشتہاروں کی شاعری بھی انگریزی سکرپٹ رائٹر ہی لکھ دیتے ہیں نتیجہ نکلتا ہے۔ بے بی شور مچائے گا شور سے زیادہ، پارٹی کر لے مور سے زیادہ، بد قسمتی سے یہ بے ربط اور فہم سے عاری سطریں پھر بھی موسقیت میں ہیں زیادہ تر اشتہارات کی زبان تو اس قابل بھی نہیں

مطالعہ کے رجحان میں واضح کمی

سارا الزام اشتہار ساز اداروں پر دینا بھی غیر مناسب ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں کتب بینی میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے ۔ کتاب کی جگہ سکرین نےلے لی ہے اور سوشل میڈیا یا گیمنگ جیسے شعبے مقبول ہوئے ہیں ۔میں ہفتہ وار ایک کتاب ختم کیا کرتا تھا جبکہ اب ایک کتاب اوسطاً چھ ماہ میں ختم کرتا ہوں اگر بک کی جگہ فیس بک لے لے گی تو اردو کانقصان تو اور بھی زیادہ ہو گا کیونکہ اردو مطالعہ تو پہلے ہی کم تھا۔
قصہ مختصر، کیا میرے پاس مسئلے کا حل موجود ہے؟ اگرچہ میں ایک مایوس کردار نہیں ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اشتہارات کے شعبہ میں اردو دوبارہ رائج العمل نہیں ہو گی اور جواز یہ بتایا جائے گا کہ کم از کم پڑھنے کی حد تک اردو اکثریت کی زبان نہیں ہے اور اس بیانیہ کے لئے دلیل دی جائے گی کہ نوجوان نسل تو ویسے ہی اس زبان سے نابلد ہے اور اس چلن کو بدلنے کا حل تو صرف ایک ہے کہ اشتہار سازی کا پورا شعبہ اردو ہی کو ابلاغ کا واحد ذریعہ بنا دیا جائے ۔ اردو اشتہار لکھنے کے لئے انگریزی کی جگہ اردو ہی کا استعمال کیا جائے اور اردو کاپی رائٹرز کو کام پر واپس لایا جائے، اشتہارات کے گیت اردو زبان کے شاعروں سے لکھوائے جائیں نہ کہ انگریزی میں تعلیم حاصل کر کے اردو سے نابلد افراد سے، یہ کسی سے عداوت کا معاملہ نہیں بلکہ ان سے اردو لکھوانا یہ ان افراد کے ساتھ بھی زیادتی ہے جو اس زبان میں مناسب تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں نہ انہیں اس میڈیم میں کام کرنے کا تجربہ ہے
لیکن یہ سب دیوانے کا خواب ہے گمان غالب یہی ہے کہ آنے والے 25 سال میں متھی بھر افراد رہ جائیں گے جو، اردو، لکھ اور پڑھ سکتے ہونگے یہ ایک تکلیف دہ وقت ہو گا لیکن ہم اس دور سے بھی نبردآزما ہو سکیں گے جسطرح ہم کرونا سے نبردآزما ہوئے، کیا نہیں ہوئے؟؟

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *