Type to search

تجزیہ

سپریم کورٹ کے فیصلے: بچا لیا بنی گالہ، توڑ دیا گجر نالہ

سندھ کا نام سنتے ہی ہمارے چیف جسٹس گلزار احمد گلزار سے یکایک انگار ہو جاتے ہیں۔ کراچی سے انہیں خصوصی محبت ہے۔ یہ ان کا اپنا شہر ہے۔ یہاں انہوں نے برسوں وکالت کی ہے۔ کراچی میں کون سے محکمے میں کیا ہو رہا ہے، کون سا سرکاری افسر کہاں سے کس طرح پیسے کما رہا ہے، ایسی بہت سی کہانیاں وہ خود سے جانتے ہوں گے اور بہت سی کہانیاں انہوں نے قابلِ اعتبار لوگوں سے سن رکھی ہوں گی۔ ایسے میں کئی مرتبہ وہ سندھ کی کرپشن اور کراچی کے حالات پر جذباتی ہو جاتے ہیں اور کرپشن کے الزامات لگانے لگتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔

لیکن کیا ایک جج محض اس بنیاد پر کوئی فیصلہ کر سکتا ہے کہ کسی چیز کے بارے میں وہ کچھ جانتا ہے، یا اس نے کچھ لوگوں سے اس بارے میں سن رکھا ہے؟ ہمارے استاد جسٹس اے آر کارنیلئس کا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بوڑھی عورت ان کے پاس آ کر روتے ہوئے بولی کہ میرے بیٹے کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، تم چیف جسٹس ہو کر انصاف نہیں دے سکتے تو کیوں بیٹھے ہو اس کرسی پر۔ جسٹس کارنیلئس نے جواب دیا کہ میں اس کرسی پر انصاف کرنے کے لئے نہیں بیٹھا۔ میں قانون دیکھتا ہوں، ثبوت دیکھتا ہوں اور اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ آپ ثبوتوں کے ذریعے ثابت کر دیجئے آپ کا بیٹا بے گناہ ہے، اس کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔

یہ واقعہ یہاں محض قانون میں دستاویز کی اہمیت کو سامنے لانے کے لئے نقل کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے جج کو یقین ہو کہ ملزم بے گناہ ہے، لیکن وہ ثبوتوں کے برخلاف فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اسی طرح ثبوت کی عدم موجودگی میں اس ملزم کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتا خواہ اسے کتنا ہی یقین ہو کہ جرم اسی شخص نے کیا ہے۔ آج گجر نالہ مکینوں کے وکیل ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے عدالت کے سامنے استدعا کی کہ گھروں کی لیز کے ڈی اے، محکمہ کچی آبادی اور کے ایم سی نے دیں، سپریم کورٹ نے نالوں کے اطراف سڑک بنانے کا کوئی حکم نہیں دیا، اس حوالے سے سپریم کورٹ فیصلے کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لیز چیک ہوئیں تو سب فراڈ نکلے گا، سب جعلی دستاویزات ہیں، یہ سب چائنہ کٹنگ کا معاملہ ہے، زمین سرکاری ہے تو متاثرین کو ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے؟ یہ لیز کیسے دی گئیں، کیا معلوم نہیں؟ یہ زمین متاثرین کی نہیں نالے کی اراضی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا لیز چیک ہو گئی ہیں؟ چیف جسٹس صاحب نے یہ کیسے اخذ کر لیا کہ یہ سب کی سب لیز جعلی ہیں؟ انہوں نے یہ کیسے اخذ کیا کہ یہ سب چائنہ کٹنگ کا معاملہ ہے؟ یہ لیز کیسے دی گئیں، انہیں کیسے معلوم ہے؟ کیا محض معلوم ہونا کافی ہے یا ثبوت چاہیے ہوں گے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ تین عدد محکمے کسی سیاسی یا مالی وجوہات کی بنا پر ان غریب لوگوں کے ساتھ مل کر کوئی کرپشن کر رہے تھے؟ وہ پوچھتے ہیں، ‘کیا معلوم نہیں؟’ ہمیں تو نہیں معلوم۔ آج کی کارروائی سے یہی لگا کہ سپریم کورٹ مفروضوں اور قیاس آرائی کو حد سے زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ کوئی سازش یا بے ایمانی ہو رہی ہے تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ جو بے گھر ہوں گے، کیا وہ اس سازش میں شامل تھے؟ 13 کلو میٹر طویل اس نالے کے دونوں اطراف سڑکیں بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا اور اس سے متاثر ہونے والے 15 ہزار سے زائد خاندان اس کے بعد کیا کریں گے، کہاں جائیں گے، عدلیہ کی بلا سے؟ اگر تو یہ سب لوگ اس کرپشن میں شامل تھے تو ان کے خلاف ثبوت لا کر ان سب کو سزائیں دی جائیں۔ لیکن اگر ان کے ساتھ کوئی فراڈ ہوا ہے، ان کو زمین لیز پر دے کر ان کو کاغذات دیے گئے ہیں تو پھر ان کو کیوں بے گھر کیا جا رہا ہے؟ اور ان تین محکموں میں بیٹھے سرکاری بابو یا ان کے پیچھے جو بھی سیاسی یا غیر سیاسی عناصر تھے، ان کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے؟ ان میں سے کسی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا ہے سپریم کورٹ نے؟

بس زبانی فیصلہ کر دیا کہ سب لیز جعلی ہیں، اور بیک جنبشِ قلم ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ کچھ اسی طرح کا فیصلہ چند برس قبل ایمپریس مارکیٹ کے کیس میں بھی آیا تھا جہاں پر ریگولرائز ہوئی دکانوں کے کرائے دیتے دکانداروں کی دکانیں کھڑے کھڑے مسمار کر دی گئیں۔ وکیل اور صحافی عبدالمعز جعفری نے ٹوئٹر پر یاد دہانی کروائی کہ کچھ ایسا ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ریلوے لائنوں پر بھی کیا جا چکا ہے۔ اور یہ تمام فیصلے سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری سے کیے گئے ہیں جس کی اپنی عمارت 60 سال پرانے کراچی کے ماسٹر پلان میں موجود نہیں ہے۔ یہ عمارت دراصل ایک عجائب گھر کی تھی اور پھر حکومت کو محسوس ہوا کہ اسے سپریم کورٹ کے لئے اس عمارت کی ضرورت ہے تو اس نے نظریۂ ضرورت کے تحت اسے سپریم کورٹ کی عمارت قرار دے دیا۔ اگر کراچی کا ماسٹر پلان اتنی ہی مقدس دستاویز ہے کہ کوئی لیز، کوئی انسانی حقوق اس پر غالب نہیں آ سکتے، خواہ کتنے ہی بوڑھے، بچے، عورتیں بے گھر ہو جائیں، اس دستاویز کو مشیتِ ایزدی کا درجہ ہی حاصل رہے گا تو پھر سب سے پہلے تو سپریم کورٹ یہ عمارت خالی کرے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری شہری مڈل کلاس ایسے فیصلوں سے بڑی محظوظ ہوتی ہے۔ اس کو سب کچھ صاف ستھرا بڑا پسند ہے۔ شہباز شریف کی حکومت میں لوگوں کی ریڑھیاں، سامان اٹھا کر شہری انتظامیہ کی گاریاں اٹھا کر لے جاتی تھیں تو لاہوری مڈل کلاس بڑی خوش ہوتی تھی۔ کراچی میں ایمپریس مارکیٹ کو ‘اصلی شکل میں بحال’ کروانے پر بھی ٹوئٹر اور فیسبک پر سپریم کورٹ کی شان میں قصیدے کہے گئے۔ اب ایک بار پھر سپریم کورٹ غریبوں کے سر پر اللہ کا عذاب بن کر نازل ہوئی ہے تو ہمارے ٹیلی وژن چینل جو اسی کلاس کی نمائندگی کرتے ہیں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کسی چینل پر آپ کو ایک لفظ نہیں سنائی دیا ہوگا ان غریبوں کی حمایت میں۔ یہ وہی ٹی وی چینل ہیں جو ابھی ایک ماہ پہلے غزہ میں لوگوں کے گھروں کو مسمار کرنے پر شبِ عاشور سجائے بیٹھے تھے۔ کیا سب عاشور وہیں عرب میں برپا ہوتے ہیں؟ کیا ہمارے اپنے شہروں میں آئے روز ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کسی توجہ کی مستحق نہیں؟

معروف سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ سپریم کورٹ نے تجاوزات کو ہٹانے کا 2010 کا قانون کھڑکی سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جو صرف ٹرائیبونل کو یہ اختیار دیتا ہے کہ لیز کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ کسی جج کا پہلے سے ذہن بنا کر کسی کیس کو سننا یا خبروں اور ذاتی تجربات کے زیرِ اثر فیصلے دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی قانونی۔ جج کو مقدمے میں فریق نہیں بننا چاہیے۔ اگر سپریم کورٹ کو لگتا ہے کہ گجر نالہ کے مکینوں کو لیز نہیں دی جانی چاہیے تھی تو اس نے ان حکام کی توہین کی ہے جن کا یہ اختیارِ قطعی تھا کہ وہ بجائے ان غریب شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان مکانوں کو مسمار کرنے کے لیز جاری کر دیں۔

یہ شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس آپریشن کو روکا جائے، انہیں متبادل رہاش یا معاوضہ فراہم کیا جائے لیکن سپریم کورٹ نے آپریشن کو روکنے سے انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی سپریم کورٹ ہے جس نے بنی گالہ کے محلات جو اسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ نہیں تھے، ریگولرائز کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے قانون کی اس خلاف ورزی پر کہا تھا CDA اس وقت سو رہی تھی جب یہ تعمیرات جاری تھیں؟ اب کہتے ہیں مکان گرا دو، تب کہا تھا ان سب گھروں کو ریگولرائز کیا جائے۔ کیوں؟ محض اس لئے کہ وہ گھر امیروں کے تھے اور یہ غریب گندے نالے کے ارد گرد ایک، ایک کمرے کے مکانوں میں رہتے ہیں؟ وہاں 65 گھر نہیں گرانے کا حکم دیا، یہاں 15 ہزار سے زائد خاندان بے گھر کرنے سے روکنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا؟ ایک لڑکے نے آج کراچی میں احتجاج کے دوران پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا، ‘بچا لیا بنی گالہ، توڑ دیا گجر نالہ’۔ اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ بنی گالہ میں بنے سب گھروں کو ریگولرائز کیا جائے۔ اور سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کا کیا جائے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *