Type to search

خبریں

ایم این اے لال مالہی کے ڈرائیور کی پارلیمنٹ لاجز میں خود کشی، ویڈیو پیغام میں ذمہ داران کا نام بتا دیا

اسلام آباد: حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سندھ سے اقلیتی ممبر قومی اسمبلی لال مالہی کے جواں سالہ ڈرائیور نے رات کو گلے میں زنجیر ڈال کر خودکشی کی جس سے اُن کی موت واقع ہوئی۔   پولیس کے مطابق  وہ پارلیمنٹ لاجز کے ایچ بلاک فلیٹ نمبر 9 میں رہائش پزیر تھے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول نے خودکشی کرنے سے پہلے  ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا جس میں اس نے کہا ہے کہ ان کی موت کی ذمہ دار اس کی بیوی اور سسرال ہے اور وہ ان کی رویے کی وجہ سے خودکشی کر رہا ہے۔

پولیس کے مطابق اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو تحویل میں  لیکر پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا۔

اقلیتی ایم این اے لال مالہی نے نیا دور میڈیا کو اس خبر کی تصدیق کرتےہوئے کہا کہ میں اپنے آبائی حلقے میں ہوں اور مجھے ابھی پارلیمنٹ لاجز کے عملے کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ آپ کے ڈرائیور نے خودکشی کی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ لاش کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو سندھ منتقل کیا جائے گا۔

لال مالہی نے مقتول کی ویڈیو ریکارڈ کرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ پولیس کی جانب سے تاحال اُن کو ویڈیو فراہم نہیں کی گئی۔ لال مالہی  نے بتایا کہ اُن کے ڈرائیور کی عمر پچیس سال کے لگ بھگ تھی اور وہ سندھ کے ضلع سانگھڑ تحصیل کھپرو کے رہائشی تھے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ سنتوش  گزشتہ چھ سال سے میرے ساتھ ڈرائیور تھے اور بظاہر ایک خوش مزاج انسان تھے اور انھوں نے کبھی گھریلوں پریشانی کا اُن سے تذکرہ نہیں کیا ۔

لال مالہی نے بتایا کہ اُن کے ڈرائیور کی ایک سال پہلے شادی ہوئی تھی اور انھوں نے اُن سے کسی پریشانی کا زکر نہیں کیا۔ لال مالہی نے بتایا کہ کل کا اجلاس ختم ہونے کے بعد میں اپنے حلقے چلا گیا اور میرے خانسامہ اور ڈرائیور پارلیمنٹ لاجز میں موجود تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ رات کو پارکنگ میں اویزاں ایک بڑی زنجیر مقتول نے کھول کر کمرے منتقل کی اور پھر پنکھے کے ساتھ لٹک کر خودکشی کی ۔ لال مالہی نے مزید کہا کہ میرے خانسامہ ادھر دوسرے کمرے میں موجود تھے اور ان سے میری بات بھی ہوئی لیکن ان کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ انھوں نے خودکشی کس وقت کی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *