Type to search

تجزیہ

کیا بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا ممکن ہے؟

Overseas-voting

کیا بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ہونا چاہیے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر پچھلے کئی سال سے سوچ و بچار جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب اس حوالے سے روزِ اول سے یکسو ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کا ایک بہت بڑا اثاثہ ہیں، ان کی بھیجی ہوئی ترسیلات پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس کے بدلے میں ان کو کم از کم ووٹنگ کا حق ضرور حاصل ہونا چاہیے۔

دیگر سیاسی جماعتیں کبھی بھی اس حوالے سے بہت پرجوش دکھائی نہیں دیں۔ اس کی کیا وجہ ہے، شاید وہی بتا سکتے ہیں جو ان سیاسی جماعتوں کو چلاتے ہیں لیکن نتیجتاً تاثر کچھ ایسا ابھرا ہے گویا پاکستان سے باہر رہنے والے تمام پاکستانی پی ٹی آئی کی حمایت ہی کرتے ہیں۔ یہ تاثر اتنا قوی ہے کہ خود پی ٹی آئی کو بھی یقین ہو چلا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق ملا تو اس کا فائدہ حکمران جماعت کو ہی ہوگا۔ جب کہ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کی صورتحال بھی تقریباً ایسی ہو چکی ہے کہ وہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹنگ کے حق سے محروم ہی رکھنا چاہ رہی ہیں۔ گو کہ ان میں سے کسی کی طرف سے بھی کھل کر اس تجویز کی مخالفت نہیں کی گئی لیکن یہاں کم از کم پرجوش حمایت کا فقدان ضرور نظر آتا ہے۔

قانونی سقم کیا ہے؟

قانونی صورتحال کو دیکھا جائے تو معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگر کسی شخص کو ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا جائے تو اسے الیکشن لڑنے کا اختیار بھی خود بخود مل جاتا ہے۔ اس حوالے سے نیا دور کے پروگرام خبر سے آگے میں بات کرتے ہوئے فوزیہ یزدانی نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ کے حق کا معاملہ دراصل ووٹر فہرستوں سے جڑا ہے۔ بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جن کا مستقل پتہ ایک ہے لیکن عارضی پتہ کسی اور علاقے کا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ جس جگہ رہ رہے ہیں، وہیں پر ان کا ووٹ بھی بنے۔ اس کے لئے وہ ووٹ تبدیل کروانے کے لئے درخواست دیتے ہیں تو اس کو چیک کرنے کا بھی ایک طریق کار ہے۔ اب اگر کوئی شخص بیرونِ ملک مقیم ہے، اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کا ووٹنگ کا علاقہ تبدیل ہونا چاہیے تو اس کا فیصلہ کیسے ہوگا کہ اس کی مستقل رہائش کہاں کی ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر کسی شخص کو پاکستان سے باہر رہتے ہوئے ووٹ کا اختیار مل جائے تو قانونی پوزیشن یہ ہے کہ اسے الیکشن لڑنے کا اختیار خود بخود مل جاتا ہے۔ اب وہ امریکہ میں بیٹھا ہے، وہاں اس کے پاس کتنی مال و دولت ہے، یہ چیک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ آن لائن یا کسی بھی طریقے سے اگر وہ الیکشن مہم چلا کر کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ کیسے پتہ لگایا جائے گا کہ اس نے جو رقم الیکشن مہم پر خرچ کی وہ اس کی درست ذرائع سے کمائی ہوئی آمدنی تھی یا ناجائز ذرائع سے۔ کیونکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بارے میں اگر دوسرا ملک آپ کو اس کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دے تو ریاستِ پاکستان کے پاس کیا طریقہ ہے صحیح اور غلط کو جاننے کا؟

دہری شہریت کا مسئلہ

پھر اس میں دو ملکوں کی شہریت رکھنے والے پاکستانی بھی شامل ہیں۔ ان پر عمران خان صاحب ہی کا بڑا سخت مؤقف رہا ہے کہ انہیں کوئی حق نہیں پاکستانیوں کی نمائندگی کرنے کا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ وہاں رہتے ہیں، الیکشن جیتنے کے لئے یہاں آئیں، جب اقتدار سے باہر ہوں تو آپ واپس چلے جائیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دہری شہریت رکھنے والوں کو بالکل الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ عمران خان کے اپنے الفاظ ہیں۔ اب سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ اگر دہری شہریت رکھنے والوں کو نمائندگی کا اختیار نہیں دیا جا سکتا تو نمائندے چننے کا اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے؟ ایک اور ضمنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہری شہریت والے شخص کے کیس میں تو یہ واضح ہے کہ اس کے پاس دو ملکوں کی شہریت ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص دو ملکوں کی شہریت نہ رکھت ہو لیکن ایک عرصے سے باہر مقیم ہو تو اس پر بھی تو یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ اب اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کتنے عرصے سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی الیکشن لڑنے کا اہل ہے؟ یہاں تو اقامہ رکھنا بھی چور کی نشانی قرار دی جاتی ہے۔ اب سارے چور الیکشن لر رہے ہوں یا الیکشن میں ووٹ دے رہے ہوں، تو؟

دھاندلی کے خدشات

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں ہے جہاں جمہوریت کبھی بھی پنپ نہیں پائی۔ کسی کو اچھا لگے یا برا، یہ کہا جانا ضروری ہے کہ ریاستی اداروں کی طرف سے بار بار کارِ سرکار میں مداخلت ہوئی ہے اور انتخابات میں مداخلت بھلے ثابت نہ ہوئی ہو، کم از کم سنجیدہ نوعیت کے الزامات ضرور لگے ہیں، اور ان سے نظر چرانا ممکن ہی نہیں۔ 2013 کے انتخابات میں عمران خان صاحب کی جماعت کی جانب سے بارہا یہ کہا گیا کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو الیکشن جتوا دیا۔ یہ ممکن ہے کہ یہ الزام محض الزام ہو لیکن معاملہ متنازع تو ہے۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ مستقبل میں ایسا نہیں کیا جائے گا؟ یاد رہے کہ یہاں کوئی چھوٹی موٹی تعداد کی بات نہیں ہو رہی۔ پاکستان کی کل آبادی قریب 21 کروڑ ہے اور 2018 کے انتخابات میں ووٹرز کی تعداد ساڑھے 10 کروڑ سے کچھ زیادہ تھی۔ اگر اسی تناسب سے دیکھا جائے تو پاکستان کی وزارتِ بیرون ملک مقیم پاکستانی کے تحت کام کرنے والے مائیگرنٹ ریسورس سنٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق 90 لاکھ سے کچھ زیادہ پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں اور ان میں سے اگر پاکستان میں رہنے والی آبادی کے تناسب ہی کو مدنظر رکھا جائے تو 50 فیصد یا 45 لاکھ کے لگ بھگ ان میں سے ووٹر بھی ہیں۔

یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے 40 لاکھ سے زائد افراد خلیجی ممالک میں مقیم ہیں۔ ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیں۔ ان کا دفاعی مفاد پاکستان کے ساتھ جڑا ہے۔ یقیناً پاکستانی فوج کے ساتھ ان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ ماضی میں انہوں نے پاکستان کی سیاست میں بہت سے مواقع پر اہم کردار ادا کیا ہے۔ خواہ وہ نواز شریف کو پھانسی سے بچا کر سعودی عرب لے جانا ہو، جنرل پرویز مشرف کو شاہ عبداللہ کی جانب سے خود اپارٹمنٹ کے لئے رقم فراہم کرنا ہو یا پھر 2015 میں یمن فوج نہ بھیجنے کے فیصلے کے بعد ناراض ہو کر پانامہ کیس کے لئے نواز شریف کے خلاف ‘ثبوت’ فراہم کرنا ہو، ان ممالک کا پاکستانی سیاست میں کردار رہا ہے۔ اب یہ ممالک کوئی جمہوریتیں بھی نہیں ہیں۔ یہاں بادشاہت ہے۔ خود اپنے ممالک میں یہ جمہوریت کے حامی نہیں تو دوسرے ممالک میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے میں انہیں کیا تامل ہوگا؟ ووٹ کی عزت وغیرہ سے تو ہم اتنے برسوں میں ناواقف ہی رہے تو ان کے بارے میں تو ایسی کسی چیز کا تصور تک محال ہے۔

یہاں ایک کفیل کا نظام بھی موجود ہے۔ یہ کفیل کس حد تک طاقتور ہیں، اس کے لئے ان ممالک میں برسوں سے مقیم ان پاکستانیوں سے پوچھیے جن کو اپنا پاسپورٹ ان کے پاس گروی رکھوانا پڑتا ہے اور ان میں سے کئی اپنے والدین کی آخری رسومات ادا کرنے کو بھی ترستے رہ جاتے ہیں۔ ان کفیلوں کے ذریعے ان پاکستانیوں کے ووٹوں کو manipulate کرنا کیا خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے؟ یاد رہے کہ یہ پاکستان میں بیٹھے کوئی وڈیرے، جاگیردار نہیں۔ ان ممالک پر پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ اور یاد رہے کہ یہاں دھاندلی بیرونِ ملک سے آ کر کوئی نہیں کرواتا۔ جو لوگ اپنے ملک میں دھاندلی کر سکتے ہیں، وہ ان حکومتوں سے مل کر زیادہ مؤثر انداز میں دھاندلی کر اور کروا سکیں گے۔

یہ تمام خدشات حقیقی ہیں۔ اور اگر کوئی سمجھ رہا ہے کہ یہ انتخابات کو غیر متنازع بنانے کے لئے کیے جا رہے ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے۔ یہ انتخابات کو مزید متنازع بنانے والا معاملہ ہوگا اور لامحالہ دیگر ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی خراب کرے گا جو کہ حلقے اور علاقے کی سیاست اور چند عہدوں کی بندر بانٹ سے بلاشبہ بالاتر ہونے چاہئیں۔ اس معاملے کو مزید متنازع حکومت کی اسے بغیر مشاورت قانون بنانے کی کوشش نے کر دیا ہے۔ اپوزیشن سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے اس پر جو اعتراضات اٹھائے ہیں، وہ قانونی اور آئینی ہیں۔ نئے مسودوں میں بہت سے ایسے قوانین بھی متعارف کروائے گئے ہیں جو کہ براہِ راست آئین کی شقوں سے متصادم ہیں اور ان کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے جو کہ دو تہائی اکثریت کے بغیر ممکن نہیں۔ اور پھر حکومت کا رویہ یہ ہے کہ ایک غیر منتخب مشیر بابر اعوان صاحب اٹھ کر الیکشن کمیشن کو پریس کانفرنس میں جواب دے رہا ہے کہ یہ پارلیمان سے پاس کیے گئے ایکٹ ہیں اور کسی صورت واپس نہیں ہوں گے۔ اور پھر چیف الیکشن کمشنر کے اوپر ذاتی حملے کرنا، ان کے خاندان کو بیچ میں لانا اور جب کہ دلیل بھی لغو ہو تو بات تو یہی سمجھ آتی ہے کہ حکومت انتخابات کو متنازع بنانے پر مصر ہے۔

لیکن یاد رہے کہ موجودہ حکومت کا بھی سب سے بڑا بحران legitimacy کا ہے۔ کوئی اسے حقیقی حکومت ماننے کو ہی تیار نہیں۔ اس قدر متنازع بنایا گیا الیکشن مستقبل کی کسی بھی حکومت کے لئے اچھا شگون نہیں ہوگا۔ ہوش کے ناخن لیں۔ اقتدار اور عہدوں سے چمٹے رہنا ہی زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ اس ملک پر اور اس کی آنے والی نسلوں پر بھروسہ کیجئے۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، اسی میں اس ریاست کا مفاد ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *