Type to search

فيچرڈ فیچر

فلمی باپ: برصغیر میں فلمیں ان کے مثبت اور منفی کردار کے بغیر ادھوری

Filmi-fathers

فلمیں چاہے بالی وڈ کی ہوں یا پھر لالی وڈ یا ہالی وڈ کی، ان فلموں میں کہیں نہ کہیں والد کے جذبات اور احساسات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستانی اور بھارتی فلموں کی بیشتر کہانیاں یوں سمجھیں کہ والد محترم کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی ہیں۔ ’فلمی والد‘ کا ہر روپ نرالا اور انوکھا ہوتا ہے، کہیں وہ سخت گیر تو کہیں نرم خو تو کہیں سماجی اعتبار سے اس قدر بلند ہوتا ہے کہ اُسے داماد یا بہو بھی اپنے معیار کی درکار ہوتی ہے اور ایسے میں اولاد اپنی من مانی کرے تو جناب پھر وہ کسی کی نہیں سنتا۔ اس کا اندازہ ’مغل اعظم‘ میں اکبر بادشاہ کے اس مکالمے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ’ہم ایک لاڈلے بیٹے کے شفیق باپ ضرور ہیں، مگر ہم شہنشاہ کے فرض کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ہم اپنے بیٹے کے دھڑکتے ہوئے دل کے لئے ہندوستان کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔‘ اب سوچیں جب جاہ جلال والے اکبر بادشاہ، اکلوتے بیٹے کی محبت میں فلم میں نہیں پگھلے اور کسی طرح بھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی تو دیگر ’فلمی باپ‘ کیونکر منزل سے بھٹک سکتے ہیں۔ جبھی تو پیار و محبت کی کشتی میں سوار ہیرو اور ہیروئن کو کئی فلموں میں ’فلمی باپ‘ نے زیادہ نقصان پہنچایا اور سماج کی دیوار ایسے بنے کہ دل جیتنے کے لئے لاکھ جتن کرنے پڑ گئے۔

ویسے یہ بھی بڑا مسئلہ رہا ہے کہ بیٹے جی ’پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا‘ کی تشریح کچھ غلط سمجھ لیتے، جبھی جرم کی راہ پر چل پڑتے، جبھی تو فرض شناس والد، اپنی ہی گولی سے کلائمکس میں اس کا نشانہ لے کر دوسرے جہاں پہنچا دیتا۔ یاد ہے نا دلیپ کمار اور امیتابھ بچن کی کلاسک فلم ’شکتی‘۔ کہیں بیٹے کو اس بات کا غصہ ہوتا کہ اس کی کلائی پر یہ کیوں لکھا ہے کہ ’میرا باپ چور ہے‘؟ اب اسی کا انتقام وہ سماج سے چن چن کر لیتا۔ فلمی باپ کے ساتھ ایک المیہ یہ بھی رہتا کہ وہ پیار کسی اور سے کرتے اور شادی کسی اور سے، وجہ خاندانی وقار اور اصول راہ کی رکاوٹ بنتے۔ ایسے میں محبت کو ’بن بیاہی ماں‘ بنا کر چلتے بنتے اور جب ہیرو کو پتہ چلتا کہ وہ فلاں کا ناجائز بیٹا ہے تو اس کی نفرت کچھ اور بڑھ جاتی۔ جو انسانی حقوق کا علم دار بن کر پہلے ماں کے حق کے لئے آواز اٹھاتا۔ کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ باپ ولن کے ہاتھوں اپنے خاندان کا صفایا کرنے کے لئے انتقام کی آگ میں ایسا جلتا ہے کہ ’گبر سنگھ‘ کے خاتمے کے لئے جے اور ویرو کی خدمات حاصل کر لیتا ہے۔

پرانی فلموں میں سب سے غم زدہ اور المناک منظر وہ ہوتا تھا جب ’بابل‘ کا گھر چھوڑ کر راج دلاری کی ڈولی اٹھتی تھی۔ ایسے مواقع پر بہتے آنسوؤں کی لڑیوں کے ساتھ فلمی والد بیٹی کو ایسے وداع کرتا جیسے وہ کسی محاذ پر جا رہی ہو، پس منظر میں شنہائی کی صدا، والد کی اندرونی غم گین کیفیت کو بیان کرتی۔ جب کہ ہدایتکار کے لئے بھی یہ ضروری ہوتا کہ وہ اس درد اور الم کی کیفیت سے دوچار والد کو اور پریشان کرنے کے لئے کوئی گیت تیار کریں، جیسے چھوڑ بابل کا گھر یا پھر بابل کی دعائیں لیتی جا، یا پھر چل ری سجنی اب کیا سوچے، یا پھر چلو رے ڈولی اٹھاؤ۔ اب ان گانوں کو سن کر والد ہی نہیں جناب ماں، بہنیں، پڑوسی یہاں تک کہ پرانا عاشق بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے پر مجبور ہو جاتا۔

ان فلموں میں کبھی ایسا بھی ہوا کہ فلمی والد انجانے میں اپنے ہی بیٹے یا بیٹی کی جان کا دشمن بن جاتا اور کلائمکس میں رائٹر بھیا کوئی نہ کوئی ڈرامائی موڑ لا کر ان پر جب یہ انکشاف کرتے کہ جس کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں، وہ ان کا ہی خون ہے تو مت پوچھیں کیسے کیسے جذباتی مکالمات دیکھنے اور سننے کو ملتے۔

فلمی والد کے لئے ایک مشترکہ کہانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ کسی بات پر بچپن کے لنگوٹیے یار کو ناراض کر دیتے اور پھر جناب دونوں کی دشمنی اس عروج پر پہنچتی کہ ان کی اولاد کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا کہ وہ ایک دوسرے کے عشق میں بے گانے ہو جائیں کیونکہ وہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو بھلا دونوں کے خاندان میں دوستی کا رنگ کیسے بکھرے گا۔ ایک زمانے میں یہ فارمولا، ہر فلم ساز کا پسندیدہ رہا ہے۔ جس پر ہر ہدایتکار نے خوب ہاتھ صاف کیا۔

Saudagar

ویسے کچھ والد ایسے بھی ہوتے، جو اولاد کے لئے سب کچھ قربان کر دیتے اور جب بڑھاپے کی دہلیز پر آتے تو ان سے نگاہیں پھیر لی جاتیں، تب وہ تن تنہا دن و رات پھر سے اس قدر محنت کرتے کہ دنیا فخر کرتی اور اولاد ملال۔ کچھ ایسا ہی دکھایا گیا تھا نا ’رام اوتار‘ اور ’باغبان‘ میں؟

کہیں جناب ’باپ اور بیٹے‘ مل کر ایسی ہیرا پھیری دکھاتے کہ ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ ’باپ نمبری بیٹا دس نمبری‘۔ حالیہ برسوں میں باپ کا کردار ہر فلم میں عام زندگی کی طرح کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ اب نہ طالش صاحب، یوسف خان، الیاس کاشمیری، پران، نذیر احمد، بلراج ساہنی، اوم پرکاش، اپتل دت جیسے اداکار رہے اور نہ ہی والد کے گرد گھومتی فلمیں تخلیق کی جا رہی ہیں۔ بلکہ اب تو ہیرو ہو یا ہیروئن فلمی باپ کو بلا جھجک بتا دیتے ہیں کہ ان کی محبت کی راہ میں دیوار مت بنیں اور والد بھی سکرپٹ رائٹر کا احسان مند ہوتے ہوئے کہ انہوں نے اُن کا کردار تو رکھا، زیادہ چوں چرا نہیں کرتے۔ بھئی صحیح بات ہے جب سب کچھ بدل گیا ہے تو ’ فلمی باپ‘ کیوں وہی دقیانوسی خیالات والے رہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *