Type to search

خبریں

مدارس ’گے‘ بنانے کی فیکٹریاں اور سب سے بڑی این جی اوز ہیں، جو ہم جنس پرستی پھیلاتے ہیں: قاری حنیف ڈار

معروف مذہبی سکالر قاری حنیف ڈار نے کہا ہے کہ مدارس ’گے‘ بنانے فیکٹریاں اور سب سے بڑی این جی اوز ہیں، جو ہم جنس پرستی پھیلاتے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مدارس معاشرے کو ’گے‘ فراہم کرتے ہیں، ہم جنس پرستی گراس روٹس تک لے کر جاتے ہیں ، یہ لوگ ہم جنس پرستی کو شہروں، دیہاتوں اور گوٹھوں تک لے کر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس گے بنانے کی فیکٹریاں ہیں اور اس کا کوئی سد باب نہیں ہے، کوئی احتیاطی تدابیر نہیں ہیں، بس مٹی پاؤ والا معاملہ ہے۔

اپنے ایک بیان میں قاری حنیف ڈار نے کہا کہ یہ دین کا معاملہ ہے، یہ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ مدارس کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مانا کہ آپ نے دین اور دینی تعلیم کے نام پر جاگیریں بنائی ہیں، کیا یہ آپ کی نسلوں کی جاگیریں ہیں، یہ وہ مدارس نہیں ہیں جہاں مہتمم تبدیل ہوتے رہتے تھے، کوئی سزا کے طور پر نکال دیا جاتا تھا کوئی رکھ لیا جاتا تھا اب وہ سب نہیں رہا ، اب یہ خود ہی مالک ہیں اور خود ہی مہتمم ہیں۔ یہ کچھ بھی کریں انہیں کوئی Terminate نہیں کر سکتا۔

قاری حنیف ڈار نے کہا کہ حکومت نے انہیں سینکڑوں کنال زمین دی ہوئی ہے، حکومت انہیں ہڈی ڈالتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ہم حکومت سے کچھ نہیں لیتے، حکومت ہمیں گرانٹ نہیں دیتی۔

قاری حنیف ڈار نے کہا کہ 730 کنال اور 1100 کنال کی زمین جو حکومت انہیں دیتی ہے کیا یہ ان کے والد صاحب کی جائیداد ہے جو حکومت انہیں دیتی ہے۔ کیا یہ گرانٹ نہیں ہے، اور اس کے بدلے آپ معاشرے کو کیا دیتے ہیں، بے راہ روی، ہم جنس پرستی جبکہ دین اور دینی تعلیم کو دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 

قاری حنیف ڈار نے کہا کہ ہم نے اپنے مدرسے کے 10 میں سے 8 لوگ مفتی عزیز الرحمان والے جرم میں نکالے ہیں۔ ہم نے شرط رکھی ہے کہ درس دینے والے تمام افراد اپنی بیوی ساتھ رکھیں گے لیکن یہ حیلے بہانے بناتے تھے کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ قاری حنیف ڈار نے کہا کہ بیوی ہونے کے باوجود یہ باز نہیں آتے کیونکہ انہیں لت لگی ہوئی ہے اور اس کا حل ان کی بیوی کے پاس بھی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دن قبل مفتی عزیزالرحمان لاہوری کی ایک طالب علم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی ویڈیو سامنے آئی جس کے بعد پاکستان میں مدارس کے کردار پر سوال اٹھایا جارہا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *