Type to search

تجزیہ

ہم قتل کا نہیں مگر جنسی ہراسانی اور ریپ کا جواز ضرور پیش کرتے ہیں

ہمارے معاشرے میں دن بہ دن بڑھتے جنسی زیادتیوں کے کیس جن میں سے اکثر چھوٹی بچیاں اور معصوم بچے شامل ہیں جو ان جنسی درندوں کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ کسی چیز کی خواہش انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے، اس کا اندازہ اسے خود بھی نہیں ہوتا۔ یہ خواہش جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو ہوس کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا ہی بھول جاتا ہے، اسے بس اپنے نفس کی تسکین چاہیے ہوتی ہے۔ اور پھر یہ ہوس کسی کی عصمت، کسی کی جان، کسی کا بچپن اور کسی کی عزت کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ یہ ہوس اکثر نظر سے شروع ہو کر عزت پر ختم ہوتی ہے۔

مگر یہاں پر ایک قابل افسوس بات یہ ہے کہ بجائے قصوروار کو سزا دینے اور مجرم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ہمارے معاشرے میں وکٹم بلیمنگ شروع ہو جاتی ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ریپ کا وکٹم نہ صرف اس سارے واقعے میں خود کو قصوروار سمجھ کر اپنے ہونٹ سی لیتا ہے بلکہ وہ ایسے واقعے کو رپورٹ کروانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتا۔

‎اور وہ پوچھتے ہیں کہ تم نے کپڑے کیسے پہنے تھے؟باہر کیوں نکلی تھی؟کس کے ساتھ نکلی تھی؟ فیملی کہاں تھی ؟ پردہ کیوں نہیں کیا؟ گھر میں اکیلی کیوں تھی؟ آفس میں کیوں کام کرتی تھی؟ تعلیم کیوں حاصل کی؟اسکول ،کالج ،یونیورسٹی، مدرسہ میں کیوں جاتی تھی؟ تم یہ پوچھو عورت کیوں تھی؟

‎کیا ہراسمنٹ اور ریپ اس لئے ہوتے ہیں کہ عورتیں خود کو کور نہیں کرتی ؟ یا اس لئے کہ عورت سج دھج کر جب نکلے گی تو لوگ تو اسے دیکھیں گے۔ کیسے کپڑے کونسے کپڑے ؟ ایک ایسی جگہ جہاں چھ ماہ کی بچی کی عصمت دری کی جائے، جہاں دو سال کی بچی کو ریپ کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، جہاں آخری آرام گاہ بھی عورت کیلئے آخری آرام گاہ نہ رہے، جہاں قبر میں مردہ عورت تک بھی ان ہوس پرستوں کی ہوس کو ختم کرنے سے قاصر ہو وہا ں کپڑوں کا کیا قصور ؟ یہاں لوگ اسی سال کی عور ت کو نہیں چھوڑتے، یہاں چھ ماہ کی بچی سے لے کر ساٹھ سال کی عورت تک سب ہی کسی نہ کسی طرح ہراسمنٹ اور ریپ وکٹم بنتی ہیں یقیناً چھ ماہ کی بچی کے کپڑے مرد کے جذبات جگاتے ہوں گے۔

اسی وکٹم بلیمنگ اور عجیب و غریب صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک تحقیق کی گئی۔ میں چونکہ خود ایک فارینزک سائنس کی طالب علم ہوں تواس کی حثیت سے خود بھی اکثر ان معاملات میں تحقیق کرتی رہتی ہوں ۔

‎بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک نمائش کے دوران ریپ کے متاثرین کے کپڑے رکھے گئے ہیں تاکہ اس روایتی تاثر کو زائل کیا جا سکے جس میں جنسی جرائم کا ذمہ دار لباس کو قرار دیا جاتا ہے۔

‎یہ نمائش بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کے مولنبیک نامی قصبے میں کی گئی جسے ’کیا یہ میرا قصور ہے؟‘ کا نام دیا گیا۔

‎امدادی گروپ سی اے ڈبلیو ایسٹ برابینٹ نے اس نمائش کے منتظیمن کو ادھار کپڑے فراہم کیے جن میں ٹریک سوٹ باٹمز، عبایا ، شلوار قمیز ، پاجامے اور دیگر کپڑے شامل تھے۔

‎اس نمائش میں بچوں کی قمیض بھی موجود ہے جس پر ’مائے لٹل پونی‘ کی تصویر ہے۔

اور اسکی چھوٹی بچیوں کی ٹی شرٹس تھی جس میں مختلف الفاظ لکھے گئے تھے جیسے “ آئی ایم باباز پرنسز “ آئی ایم ڈول “ وغیرہ ۔ شاید یہی الفاظ مجرم کو ریپ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

جو لوگ وکٹم کو ذمیندار ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں ضرور لڑکی کی بھی غلطی ہوگی ۔ اسے وکٹم شیمنگ کیتے ہیں جو شدید قابل مذمت رویہ ہے۔ کچھ لوگ معاشرے میں پھیلی فلموں اور پورنوگرافی میٹیریل کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ مگر میری رائے ان سب سے مختلف ہے ۔ جب قتل ہو تو قصوروار صرف قاتل ہوتا ہے ہم مقتول اور معاشرے میں پھیلے انتشار کو قصوروار نہیں ٹھہراتے کیونکہ قاتل خود گناہگار ہے ۔ اسی معاشرے میں ہم سب رہتے ہیں ہم سب تو قاتل نہیں بن جاتے ۔ اسی طرح اچھے برے لباس سبھی پہنتے ہیں مگر سب مرد تو ہراسمنٹ اور ریپ جیسے گھناؤنے جرم میں مبتلا نہیں ہو جاتے ۔ ایسے میں قصوروار کون ہے ؟ صرف وہی مرد جو ہراس کر رہا ہے بس وہی قصور وار ہے۔ اور مذ مت اسی کی کرنی چاہیے۔ وکٹم کے لباس کو وجہ بنا کر ہراسر اور ریپسٹ کے عمل کو جسٹفائی کرنا سراسر زیادتی ہے۔ ہم قتل کو جسٹفائی نہیں کرتے تو ہراسمنٹ کو کیوں؟ گناہگار کو الزام دینے کی عادت ڈالیں وکٹم کو نہیں۔

شاید ریپ جیسی لعنت اب تک اسی لئے ہماری معاشرے کا حصہ ہے کہ ہم اسکی بنیادی وجہ جاننے کی بجائے ہمیشہ وکٹم بلیمنگ کو فروغ دیتے آئے ہیں ۔ اسکے روٹ کاز پہ کام تو کبھی کیا ہی نہیں گیا ۔ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بات آتی ہے ہمارے وزیراعظم یہ بیان دے کر سارے کا سارا اسلام نافذ کر دیتے ہیں مگر جب بات ہے اسلامی اور شرعی قانون کے مطابق سزاؤں کی تو فواد چوہدری سے لے کر شیری مزاری تک سب کو انسانیت کا سبق یاد آ جاتا ہے اور یہ لوگ انسانیت کی علمبرداری کا پرچم لہرائے اس قرار داد کی مخالفت میں سب سے پہلی قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔

اس مسئلے کا قطعی اور مکمل حل تو شاید تلاش کرنا مشکل ہے کیونکہ جس نے ریپ کرنا ہے وہ اللہ کی کتا ب کو ہاتھ میں تھام کر اللہ کی ہی پاک زمیں مسجد اور مدارس میں بھی یہ سب کریں گے مگر ہمیں مجرم سے مظلوم تک سب کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔اس مسئلے کو حل کرنے میں شعور ایک اہم کردار ادا کرے گا ۔ دوسرے بات جب تک سخت سزا کا احساس نہ ہو جرائم میں کمی ممکن ہی نہیں ۔ تو اس معاملے میں سزاؤں کو سخت کرتے ہوئے اسلامی شریعت اور قانون کے مطابق مجرموں کو سخت سزا دی جائے تو شاید ہمارا معاشرہ اس گھناؤنے اور قابل مذمت فعل سے محفوظ ہو سکے ۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *