Type to search

تجزیہ

حافظ سعید کے گھر کے باہر دھماکہ، اور ‘سب سے پہلے’ کا جنون

بدھ کی دوپہر لاہور میں ہونے والے ایک دھماکے نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا جب کالعدم جماعت الدعوۃ کے بانی حافظ محمد سعید کے جوہر ٹاؤن میں واقع گھر کے باہر ایک زوردار دھماکے میں کم از کم تین افراد انتقال کر گئے جب کہ زخمیوں کی تعداد 13 بتائی جا رہی ہے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اور حافظ سعید کے اپنے سکیورٹی گارڈ کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔ ابتدا میں خبر آئی کہ یہ دھماکہ گیس کا سلنڈر پھٹنے سے ہوا۔ بعد ازاں کہا گیا حافظ سعید کے گھر کے باہر نہیں، اس سے کچھ فاصلے پر یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ لیکن بالآخر تسلیم کر لیا گیا کہ علاقہ بھی وہی تھا اور واقعہ بھی بم دھماکے کا ہی تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل پر لایا گیا۔ بعد ازاں سکیورٹی کی موجودگی کے باعث موٹر سائیکل وہیں چھوڑ کر لوگ چلے گئے۔ یہ معمہ کہ دھماکہ کہاں ہوا تھا اس وقت حل ہوا جب آئی جی پنجاب انعام غنی نے وقوعہ کا دورہ کیا اور ان سے ایک صحافی نے یہ سوال بھی کر ڈالا کہ کیا دھماکے میں کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو انعام غنی نے کہا کہ ہائی ویلیو ٹارگٹ کے گھر پر حملہ کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

ہائی ویلیو ٹارگٹ یقیناً حافظ سعید ہی تھے۔ کیونکہ یہاں ان کے علاوہ کوئی ہائی ویلیو ٹارگٹ نہیں رہتا۔ تاہم، حافظ سعید صاحب یہاں اس وقت نہیں رہتے۔ وہ کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔ انعام غنی کے بیان میں خاص طور پر گھر کا ذکر اسی لیے کیا گیا تھا کہ یہ تاثر نہ جائے کہ حافظ سعید اسی گھر میں موجود تھے کیونکہ ایسی افواہیں اکثر گرم رہتی ہیں کہ حافظ سعید صاحب کو حکومت نے مکمل سہولیات دے رکھی ہیں اور وہ جیل میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں ہی رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ حافظ سعید لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالتوں سے تین مختلف کیسز میں دہشتگردوں کی مالی معاونت پر ساڑھے پانچ، پانچ سال فی کیس سزا پا چکے ہیں اور اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔ ان کے بارے میں یہ تاثر جانا کہ وہ جیل کی بجائے اپنے گھر میں تھے پاکستان کے لئے انتہائی خطرناک ہو سکتا تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں کہ جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا تین روزہ اجلاس جاری ہے اور دو دن میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نکالے جانے کے حوالے سے فیصلہ متوقع ہے۔

لیکن یہ فوری طور پر تجزیہ کرنے اور بریکنگ نیوز کا جنون ہے جو بڑے بڑوں کے سروں کو چڑھ چکا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل (ر) امجد شعیب صاحب فوری طور پر یوٹیوب پر جلوہ افروز ہوئے اور اس حملے کو نہ صرف حافظ سعید پر حملے کی کوشش قرار دیا بلکہ حافظ سعید کو پاکستان کا ایک اثاثہ بھی کہہ ڈالا اور حکومتِ پاکستان سے یہ اپیل بھی کر دی کہ جو کچھ حافظ سعید پاکستان کے لئے کر چکے ہیں، کم از کم ان کی سکیورٹی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔

اب ایک ایسے شخص کو جسے پاکستان کی عدالتیں دہشتگردوں کی مالی معاونت میں ایک نہیں تین کیسز میں سزا سنا چکی ہیں، اسے پاکستان کا اثاثہ قرار دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ پھر یہ کہہ دینا کہ اس حملے کا نشانہ وہی تھے، یہ تحقیق کیے بغیر کہ وہ یہاں موجود تھے بھی یا نہیں ایک اور غیر ذمہ دارانہ حرکت تھی۔ یاد رہے کہ امجد شعیب آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی اس لسٹ میں شامل ہیں جس کے مطابق صرف یہی سابق فوجی افسران ہیں جنہیں میڈیا میں آ کر فوج کے بارے میں تجزیہ کرنے کی اجازت ہے۔ باقی کوئی کچھ بھی کہے، پاکستانی فوج سے اس بیان کو نہیں جوڑا جا سکتا۔

اب آتے ہیں اس معاملے کی طرف کہ یہ حملہ کیوں ہوا اور کس نے کروایا۔ ظاہر ہے کہ تاحال پولیس کی طرف سے کوئی حتمی بات تو نہیں سامنے لائی گئی لیکن حافظ سعید پر پاکستان میں حملہ کرنے کی کسی کو ضرورت نہیں۔ انہوں نے پاکستان میں نہ تو کبھی کسی دہشتگردی کی کارروائی میں حصہ ڈالا ہے، نہ ہی کبھی پاکستانی فوج یا اسٹیبلشمنٹ سے ان کی کوئی لڑائی رہی ہے۔ ان پر حملے کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہی ملوث ہو سکتا ہے۔ بھارت کی یہ انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی لسٹ پر ہیں۔ لیکن اگر ایسا واقعتاً ہوا ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی انٹیلیجنس پاکستان میں بہت خاصی سرگرم ہے۔ اور پاکستانی انٹیلیجنس کی ناکامی بھی یہاں سامنے آتی ہے۔ دہشتگردی کی ہر واردات روکنا کوئی خالہ جی کا کھیل تو نہیں، اس لئے یہ کہنا کہ پاکستانی انٹیلیجنس ادارے ناکام ہو گئے ہیں، زیادتی ہوگا۔ لیکن یہ بات بہرحال تشویش کی ضرور ہے اور ہمارے اداروں کو اس حوالے سے مزید چوکنا رہنا ہوگا۔

دراصل یہ انٹیلیجنس سے زیادہ کمیونکیشن کی ناکامی ہے۔ امجد شعیب صاحب کو چاہیے کہ نہ صرف اس غلطی پر وضاحت جاری کریں بلکہ مستقبل میں بھی سب سے پہلے کے چکر میں یوٹیوب پر جا کر کارروائی ڈالنے سے پرہیز کریں۔ اور سب سے بڑھ کر اپنے نظریات کو تبدیل کریں۔ کسی عدالت سے سزایافتہ دہشتگرد کو پاکستان کا اثاثہ کہنا ملک کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔ یہ انہیں پتہ ہونا چاہیے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *