Type to search

جمہوریت عوام کی آواز مذہب

سکھ یاتریوں کی لاہور یاترا، کہ جب لاہور پردے میں تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ بڑی ظالم چیز ہے۔ یا یوں کہیے کہ ہمارے تاریخ دان بڑے ظالم ہیں۔ جو جی چاہتا ہے لکھتے ہیں۔ یعنی تاریخ اور تخلیقی لکھائی میں کوئی خاص فرق نہیں۔ لیکن بچوں کے ذہنوں کو بدلنے کے واسطے کاری ضرب ضرور ہے۔ ہم نے بھی تمام بچپن اپنی مطالعہ پاکستان اور تاریخ کی کتابوں کو حرف آخر جانا۔ مسلمانوں کو رحم دل اور رعایا کے دلدار سمجھا۔ ہندوؤں اور سکھوں کو نفرت کی آنکھ سے دیکھا۔ آخر کو ہونہار طالبعلم تھے۔ کتابوں کا خوب اثر لینا تو لازم تھا نا۔

میاں میر تھے کی کوششوں سے گرو ارجن دیو کو نہانے کی اجازت ملی

آج اسی بات کا بڑی شدت سے احساس ہوا۔ صبح دس بجے کے قریب ہمیں سمادھی رنجیت سنگھ کے ساتھ واقع گردوارہ ڈیرہ صاحب پہنچنا تھا۔ یہاں ہمارا آنا اتفاقی نہ تھا بلکہ ایک ریسرچ کی غرض سے تھا۔ یہ گردوارہ سکھوں کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کا تعلق سکھ مذہب کے پانچویں گرو ارجن دیو سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جہانگیر نے ان پر بہت مظالم ڈھائے (اسی مقام پر گردوارہ لال کھوئی بنا جو اب ایک مزار ‘حق چار یار’ کی شکل اختیار کر چکا ہے)۔ اس زمانے میں مذہبی منافرت تو تھی نہیں۔ ان کے قریبی دوست حضرت میاں میر تھے جن کی کوششوں کی وجہ سے گرو ارجن دیو کو نہانے کی اجازت ملی۔ اس وقت دریائے راوی لاہور کی دیوار کے ساتھ بہتا تھا۔ گرو پانی میں غائب ہو گئے۔ اسی جگہ اب یہ گردوارہ واقع ہے۔

دھرتی کے بیٹے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا بھی جو مقام سکھوں کے نزدیک ہے وہ سب جانتے ہی ہیں۔ آج مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی تھی۔ ملک کے طول و عرض سے بھی یاتری آئے تھے اور بھارت سے بھی۔ ہمارا کام اپنا سوال نامہ بھرنا تھا۔ باقی مسائل سے کچھ خاص غرض نہ تھی۔ لیکن جب یہ بات چیت شروع ہوئی تو ہم کچھ بدل سے گئے۔ ہر یاتری ایک کہانی تھا۔

قصور کی جوتی لینا چاہتے تھے کہ گانا ‘جتی قصوری’ انہیں بہت پسند تھا

ہماری پہلی ملاقات مور سنگھ سے ہوئی۔ ستر سال کی عمر، سفید داڑھی، سفید ہی کرتا پاجامہ اور زری کا خوش رنگ کھسہ۔ ان کی آنکھوں میں چمک بھی تھی اور آنسو بھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بٹوارے سے پہلے مانگا منڈی کے تھے اور اپنے باپ کا گھر دیکھنا چاہتے تھے۔ قصور کی جوتی لینا چاہتے تھے کہ گانا ‘جتی قصوری’ انہیں بہت پسند تھا۔

گرمیت کور سے ملے جو اب تو راجستھان سے آئی تھیں لیکن خون پنڈی کا تھیں۔ ساری عمر لیکچرر بن کر گزاری۔ اب اپنے گرو کے درشن کرنے آئی تھیں۔ ان کو ڈھاکہ کی ململ کا دوپٹہ چاہیے تھا انارکلی بازار سے۔

دلی میں رہنے والی سریندر سے ملے جو بس اٹھارہ سال کی تھی اور اب سے پانچ سال پہلے لاہور شہر چھوڑ کر ہجرت کر چکی تھی۔ ہم نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ بہتر ہے عزت سے خود ہی چھوڑ دیا جائے اپنا ملک۔ آج کی بچی تھی اس لئے مال آف لاہور دیکھنا چاہتی تھی۔

‘ایک بار انارکلی بازار کی سیر تو کر لینے دو’، مگر نہ، دونوں دیسوں کی دشمنی ہر آشا پر حاوی ہے

یہ سب لاہور سے متعلق بہت ارمان لے کر آئے تھے۔ لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ان کو یہاں سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر! ایک بزرگ نے بتایا کہ ان کو اس بات کا بہت قلق ہے کہ وہ خالی ہاتھ واپس جائیں گے۔ اپنی پوتیوں کو کیا جواب دیں گے؟

ان سب کے سامنے ہمارا سر جھکا ہوا تھا۔ کیا کہتے؟

بجائے اس کے کہ ان کی سیکورٹی بڑھائی جائے ہم نے ان کی یاترا کو ہی ان کا جرم بنا کر قید کر لیا۔ ان سب کا ایک ہی گلہ تھا کہ ہمیں لاہور شہر دیکھنے دو۔ ایک بار انارکلی بازار کی سیر تو کر لینے دو۔ لیکن دونوں دیسوں کی دشمنی ہر آشا پر حاوی ہے۔

اس تحریر کے ذریعے ہماری حکومت سے التماس ہے کہ یا تو ان یاتریوں کو پہلے ہی کہہ دیا جائے کہ بھیا یاترا صرف اپنے گرو کی کرنا۔ ہمارا لاہور یاترا نہیں کرائے گا۔ پردے میں رہے گا۔ آپ بھی اپنی آنکھوں پر پردہ ڈال لیجئے۔ یا پھر انسانی ہمدردی کو مقدم جانا جائے اور انہیں گھومنے دیا جائے۔ اس کا فائدہ صرف گھومنے والے کو نہیں بلکہ ملک کو بھی ہو گا۔ ٹورازم دنیا کی سب سے بڑی صنعتوں میں شامل ہے۔ پاکستان میں کئی مذاہب کے مقدس مقامات ہیں۔ آخر ہم کیوں اپنے ملک کی سیاحت کو فروغ نہیں دیتے؟

امید کرتے ہیں کہ ہماری اس تحریر سے حکام بالا کے کانوں پر جوں رینگےگی۔ نہیں تو آپ کی مرضی۔ ہم اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *