Type to search

تجزیہ

جہاں بخشش دینا سخت منع ہے، وہاں دئیے بغیر بخشش نہیں ہوتی

بچپن میں ہمیں اسلامیات کی کتاب میں ایک حدیث پڑھایا گیا تھا کہ “رشوت دینے اور لینے والے دونوں جہنم میں جائینگے” لیکن جب نویں جماعت میں ہم پہلی دفعہ بورڈ کے امتحانات دینے لگے تو ہم سے امتحان حال میں پانی پہنچانے اور ایگزامینرز کو چائے سموسے کے لیئے روزانہ تقریباً پچاس سے سو روپے وصول کیے گئے جسے مہمان ایگزامینرز کا مہمان نوازی کا نام دیا گیا اور ظاہر ہے مہمان نوازی تو ہمارے روایت کا حصہ ہے تو ہم نے دے دیا۔ وہ ایک الگ موضوع ہے کہ یہ مہمانوازی بھی ہماری مجبوری تھی تاکہ امتحان حال میں پیپر سیائی سے بھر سکیں۔

خیر وہاں تو ہم نے مہمان نوازی کی۔ کوئی رشوت تو نہیں دی۔ مگر پچھلے دنوں ایک مریض کی سرجری کے لئے کراچی جانا ہوا۔ کراچی میں داخلے سے پہلے محافظین کی ایک چیک پوسٹ پر ایک بڑا پیناپلیکس لگا ہوا تھا جس پر بڑے اور موٹے حروف کے ساتھ تنبیہہ کی گئی تھی کہ متعلقہ فورس کو کسی بھی قسم کی رشوت لیتے ہوئے پایا گیا تو درج ذیل نمبرز پر رابطہ کریں جو یقیناً کرپشن کے خاتمے کی طرف ایک بہترین اقدام ہے۔ اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں اور ہر ملکی ادارے کا احتساب ضروری ہے۔ مگر اسی پینافلکس کے بالکل نیچے رکھے تیل کے ڈرمز نے تمام تر سوچ اور خیالات کو واپس اپنے پہلے مقام پر لایا کہ اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ پینا فلکس کے نیچے ڈرمزمیں کوچ کے کلینئرز انتہائی خاموشی کے ساتھ غیر قانونی ایرانی تیل کا حدیہ دے کر آگے بڑ رہے تھے۔ اب کھلے عام دن کی روشنی میں کوئی بھی شخص یا خصوصاً ایک طالب علم جو یہاں سے گزر کر اپنی تعلیمی درس گاہ کی طرف جارہا ہو۔ وہ خود کو مجبوراً مطمئن کر ہی لے گا کہ یا تو یہ صرف ایک چھوٹی سی بخشش ہی ہے یا نہیں تو یہ کہ ’اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا‘۔

پھر جب آٹھ سے نو گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد ہم کراچی پہنچے تو اسپتال جاتے ہوئے ٹریفک پولیس نے روک کر دوہزار کی جگہ محض پانچ سو روپے کی بخشش وصول کی کیونکہ ہم نے سیٹ بلٹ نہیں باندھا ہوا تھا۔ خیر جب ہم اسپتال پہنچے تو اسپتال کا نظم و نسق، صفائی اور بلڈنگ واقعی میں قابل تعریف تھی۔ ہر لفٹ میں ایک ٹیکنیشن بھی موجود تھا تاکہ خداناخواستہ کسی ٹیکنکل خرابی کی صورت میں کوئی حادثہ نہ ہو۔

اس شفاء خانے کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ جگہ جگہ لکھا ہوا تھا کہ ‘عملے کو کسی بھی قسم کی بخشش دینا سخت منع ہے’ اس جملے کو جگہ جگہ دیکھ کر پہلے تو محافظین کا وہ پینا فلیکس یاد آیا مگر بعد میں انتظامیہ کے رویوں اور تعاون کو دیکھ کر واقعی میں قائل ہوئے کہ نظام ایسے ہی چلتا ہے۔

سرجری سے پہلے تک لفٹ میں بیٹھے ٹیکنیشن سے لے کر سیکوریٹی پر مامور اہلکاروں تک سب کا رویہ ایسا ہی تھا مگر جیسے ہی مریض کو سرجری کے بعد او پی ٹی سے وارڈ شفٹ کیا گیا، مریض درد سے نڈھال تھا۔ مریض کے ساتھ آیا ہوا شخص ذہنی و جسمانی تھکاوٹ سے چور تھا۔ بار بار کبھی فارمیسی تو کبھی وارڈ کے چکر لگ رہے تھے تو چائے پانی اور ‘بھائی کی مدد’ کے نام پر بخشش مانگنے والوں کی لائن لگ گئی۔ جس جس کو بخشش نہ ملنے کا احساس ہوتا تو قانون فوراً زور میں آجاتا کہ ‘یہاں مریض کے ساتھ کھڑا ہونا منع ہے، اپنا سامان یہاں سے اٹھاؤ، کس فلور پر جارہے ہو، مریض کا نام بتاؤ، مریض کے ساتھ کتنے بندے ہیں، یہ والی دوائی جاکر لاؤ، یہ الگ سے لینا پڑے گا وغیرہ وغیرہ’ اور آخر میں ‘بھائی کی مدد نہیں کروگے’ ؟

چونکہ اسپتال میں کم از کم چوبیس گھنٹے تو رہنا ہی تھا ایک پتلے سے بنچ پر بیٹھ کر یا آدھا جسم ٹھٹر کر لیٹتے ہوئے کبھی مریض کو دیکھنا اور کبھی بخشش لینے والوں پر نظر بھی رکھنا تھا۔ اور جب ڈرپ ختم ہوجاتی یا بلیڈنگ ہوتی تو باہر جاکر کسی کو بُلانا بھی ہوتا تو بخشش دے کر جان بخشوانا ہی بہتر اور آخری آپشن تھا۔

ایسے میں ذہن نے ایک بات اچھے طریقے سے تسلیم کر ہی لی کہ جہاں بخشش دینا منع ہو وہاں پھر بھی ٹریفک پولیس کی طرح کچھ رعایت ہوسکتی ہے مگر جہاں بخشش دینا سخت منع ہو وہاں تو بھرپور تیاری کر ہی لینی چاہیے ویسے بھی اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *