Type to search

فیچر نظم

“محنت کش پناہ گزینوں کا نوحہ”

ہماری ہجرت تمھارے شہروں میں کس لیے ہے؟؟
جواب ڈھونڈو۔۔۔۔!
ہمارا اس میں قصور کیا ہے؟؟
ہمیں بھی اپنی زمیں سے الفت
اسی قدر ہے کہ جتنی تم کو
مگر ہیں مزدور, ہم کو دیکھو
کہ جن کا اب تک کا کُل اثاثہ
سوائے محنت کے کچھ نہیں ہے
ہماری محنت کا مول دینے
ہمارے شہروں میں کچھ نہیں ہے
ہمارے جسموں کو بھوک دیمک
کی طرح چاٹے ہی جا رہی ہے
یقین مانو شکم کی الفت
وطن کی الفت سے معتبر ہے
اسی سبب ہے یقیں ہمارا
وطن ہمارا وہی جگہ ہے
جہاں پہ محنت فروخت ہوگی
جہاں پہ روٹی کی جیت ہوگی۔۔۔!

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *