Type to search

خبریں

معروف لیجنڈری اداکار ‘دلیپ کمار’ انتقال کر گئے

لیجنڈری بولی وڈ اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار طویل علالت کے بعد 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

دلیپ کمار کو طویل عرصے سے سانس میں مشکلات، پھیپھڑوں اور گردوں کی بیماری کی وجہ سے گزشتہ چند سال میں متعدد بار ہسپتال داخل کرایا گیا تھا اور وہ زندگی کے آخری ایام میں بھی زیر علاج رہے۔

دلیپ کمار کو ایک ہفتہ قبل 30 جون کو سانس لینے میں تکلیف کے باعث ایک ہی مہینے میں دوسری بار ہسپتال داخل کرایا گیا تھا، اس سے قبل وہ جون کے شروع میں بھی ہسپتال داخل ہوچکے تھے اور ایک ہفتے تک زیر علاج رہنے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

دو ہفتے قبل ہی دلیپ کمار کے پھیپھڑوں سے کامیابی سے پانی نکالا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں سانس لینے میں تکلیف کی شکایت رہی اور طویل العمری کی وجہ سے ان کے اہل خانہ نے انہیں ہسپتال میں ہی داخل کرانے کا فیصلہ کیا۔

ایک ہفتے سے ہسپتال میں موجود دلیپ کمار کے حوالے سے ان کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل اور بھارتی میڈیا میں خبریں تھیں کہ ان کی صحت بہتری کی جانب گامزن ہے، تاہم 7 جولائی کی صبح کو وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

خیال رہے کہ بیماری و زائد العمری کی وجہ سے دلیپ کمار ایک دہائی سے ہر طرح کی تقریبات سے دور تھے۔

وہ تقسیم ہند سے قبل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 11 دسمبر 1922 کو پیدا ہوئے، ان کا اصل نام یوسف خان تھا اور انہوں نے 1944 میں 22 سال کی عمر میں فلم ‘جوار بھاٹا’ سے فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا۔

وہ ‘انداز’، ‘داغ’، ‘رام اور شام’، ‘نیا دور’، ‘مدھومتی’ ’دیوداس‘ اور ‘آدمی’ جیسی کئی سپر ہٹ فلموں کا حصہ رہے تھے۔

انہوں نے بہت سی فلموں میں مختلف قسم کے کردار ادا کیے لیکن ‘مغل اعظم’ میں ان کی رومانوی اداکاری اور ‘رام اور شام’ میں ان کے کردار کو آج بھی بہت پسند کیا جاتا تھا۔

لیجنڈری ادکار نے 6 درجن سے زائد فلموں میں کام کیا اور ان کی متعدد فلموں کو بولی وڈ کی لازوال فلمیں بھی مانا جاتا ہے، وہ ان چند شوبز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے کام سے بولی وڈ کے سنہرے دور کی داغ بیل ڈالی۔

ان کی آخری فلم ‘قلعہ’ 1998 میں ریلیز ہوئی تھی، دلیپ کمار کو 1991 میں پدمابھوشن، 1994 میں دادا صاحب پھالکے اور 2015 میں پدماوی بھوشن ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

دلیپ کمار کو حکومت پاکستان بھی 1998 میں نشان امتیاز ایوارڈ سے نواز چکی ہے، انہیں اس وقت کے صدر محمد رفیق تارڑ نے ایوارڈ سے نوازا تھا۔

شہنشاہ جذبات 11 اکتوبر 1966 کو خوبرو اداکارہ سائرہ بانو سے رشتہ ازدواج میں بندھے، اس وقت دلیپ کمار 44 سال جب کہ سائرہ بانو صرف 22 سال کی تھیں۔

اس دوران کئی لوگوں نے ان کی عمر کا فرق دیکھ کر کہا تھا کہ یہ شادی طویل عرصے تک جاری نہیں رہ پائے گی، تاہم دونوں نے تمام تجزیوں کو غلط ثابت کیا اور مرتے دم تک ان کا ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ رہا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *