Type to search

تجزیہ

زرداری صاحب، جب تک ‘لاڈلا’ زندہ ہے، ‘اکلوتے’ کی کسی کو ضرورت نہیں

Zardari-Bilawal

اب بلاول بھٹو زرداری شہباز شریف سے بھی ناراض ہو گئے ہیں۔ پچھلے دنوں کہہ رہے تھے کہ جو مسلم لیگ نواز میں مریم اور شاہد خاقان عباسی کہہ رہے ہیں، وہ نہیں، مسلم لیگ ن کی پالیسی میں شہباز شریف کی پالیسی کو مانتا ہوں۔ اب شہباز شریف کو بھی طعنے دے رہے ہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کے لئے پاؤں بھی پڑنا پڑا تو پڑ جاؤں گا۔ شہباز شریف نے ایسا کچھ ایک تو کہا نہیں تھا۔ وہ کچھ اور بات تھی، اس کو اس طرح سے بیان کرنا یا اس کا یہ مطلب نکالنا بلاول صاحب کا حق ہے۔ لیکن سوال یہاں یہ ہے کہ آخر بلاول اپوزیشن کی اپوزیشن بننے کیوں کھڑے ہو گئے ہیں؟ اور یہ مسلسل اس کام پر کیوں لگے ہوئے ہیں؟

یہاں بھٹو صاحب کی یحییٰ کی بجائے شیخ مجیب کی اپوزیشن بننے پر بات کرنا مقصود نہیں۔ آپ 2002 سے شروع کر لیں۔ پیپلز پارٹی پیٹریاٹ بننے کے بعد جب متحدہ مجلسِ عمل کے 59 اور پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی میں 58 ارکار رہ گئے تو یہ اپوزیشن جماعتوں میں ایم ایم اے کا ہی حق تھا کہ وہ اپنا وزیر اعظم کا امیدوار کھڑا کرے۔ 62 اور 58 ملا کر ان دونوں جماعتوں کے پاس 120 اراکین کی حمایت موجود تھی۔ مسلم لیگ نواز تقریباً ساری ہی ق لیگ کو پیاری ہو چکی تھی لیکن اس کے باوجود 19 اراکین ان کے تھے۔ لیکن پیپلز پارٹی نے مخدوم امین فہیم کو الیکشن میں کھڑا کر دیا۔ اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہو گئے اور یاد رہے کہ میر ظفر اللہ جمالی محض ایک ووٹ سے وزیر اعظم بنے تھے۔

2013 میں زرداری صاحب نے ہی عمران خان کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ یہ آر اوز کا الیکشن تھا۔ لیکن جب وہ لنگوٹ کس کر میدان میں نکلے تو زرداری صاحب پہلے تو دبئی بیٹھے رہے۔ پھر پتہ نہیں کس سے کیا مشورہ ہوا، واپس آئے اور نواز شریف کی اپوزیشن کی اپوزیشن بن کر کھڑے ہو گئے۔

2018 کے انتخابات ہوئے تو بلاول نے شہباز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کا متفقہ امیدوار قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اپوزیشن کے 150 میں سے شہباز شریف کو 96 ووٹ میسر آئے۔ پیپلز پارٹی نے انتخاب کا بائیکاٹ کیا۔ صدارتی الیکشن میں اعتزاز احسن کو کھڑا کر دیا۔ بار بار پیغامات بھجوائے گئے کہ یہ نہ تین میں نہ تیرہ میں، اپنی سیٹ جیت نہیں سکتا، کئی سال روزانہ کے حساب سے اے آر وائے پر بیٹھ کر عمران خان کی حمایت کرتا رہا ہے، نواز شریف کی بیمار بیوی کے بارے میں بیہودہ گوئی سے اس وقت تک باز نہیں آیا جب تک کہ وہ مر نہ گئی، اس کو ہٹائیں سائیڈ پر، کوئی ڈھنگ کا امیدوار لے آئیں، جس کی شکل دیکھ کر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کا خون نہ کھولنے لگے۔ لیکن بلاول صاحب ایک نہ مانے۔ آخر سینیٹ الیکشن کے لئے بھی تو یوسف رضا گیلانی کو آگے لائے تھے نا۔ رضا ربانی کے نام پر بہت پہلے اتفاق ہو چکا تھا سینیٹ چیئرمین کے لئے، گو اس وقت زرداری صاحب کے سر میں کوئی اور سودا سمایا ہوا تھا۔ 2018 میں بھی مگر نظر یہی آیا کہ وہ سودا ابھی دماغ سے نکلا نہیں تھا۔ اعتزاز احسن ہی کو کھڑا کیا۔ ظاہر ہے کہ انہیں ووٹ نہیں مل سکتے تھے۔ ایک بار پھر عمران خان حکومت کو کاندھا فراہم کیا۔

دو سال تک مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ جب سندھ میں گورنر راج کی باتیں شروع ہو گئیں، کراچی کے قریب جزیروں کو ہتھیانے کی دھمکیاں آنے لگیں تو پی ڈی ایم بنا لی۔ لیکن پھر اس کی کشتی میں ہی سوراخ کرنے شروع کر دیے۔ پہلے کوئٹہ جلسے کے موقع پر گلگت بلتستان پہنچ گئے۔ وہاں جا کر بی بی سی کو انٹرویو دے دیا کہ مجھے دھچکہ لگا نواز شریف کی جانب سے نام لیے جانے پر۔ 20 دن کی الیکشن مہم اور سب سے زیادہ ووٹ لینے کے باوجود جب ہاتھ محض دو ہی سیٹیں آئیں جو پوری پارٹی ٹوٹ جانے کے باوجود نواز لیگ کو بھی مل ہی گئی تھیں، تو پھر جذباتی اداکاری شروع کر دی۔ ایسا کر دوں گا، ویسا کر دوں گا۔ کرنا کرانا تو خیر کیا تھا، تھوڑے دن بعد وہیں پرانی تنخواہ پر کام پہ واپس آ گئے۔

استعفوں کے معاملے پر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا تو یہاں سے خبریں باہر نکلوائیں کہ ارکان کی جانب سے نواز شریف پر تنقید کی گئی۔ کہا گیا خود تو باہر بیٹھے ہیں، پہلے واپس آئیں پھر انقلاب کی باتیں کریں۔ اتحادی یہ حملے بھی پی گئے۔ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے لئے کھڑا کیا، اتحادی جماعتوں کے ووٹوں سے الیکشن جیتا، اور پھر اپنی ہی بنائی حکمتِ عملی جب الٹی پڑی اور گیلانی صاحب سینیٹ چیئرمین کا الیکشن ہار گئے تو یہ تو واضح ہی تھا کہ یا تو ووٹ غلط گنے گئے ہیں جس کا مطلب ہے اسٹیبلشمنٹ عمران خان کا اب بھی ساتھ دے رہی ہے یا پھر آپ ملے ہوئے ہیں اور جان بوجھ کر غلط حکمتِ عملی بنائی گئی ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں عدم اعتماد کی تحریک لانا ایک بیوقوفی لگنے لگا۔

یہ وہ موقع تھا جب استعفوں کا آپشن زیادہ شدت سے زیرِ غور لایا جانے لگا۔ کیونکہ اگر اسٹیبشلمنٹ اکثریت کے باوجود ایک نہیں، دو مرتبہ اپوزیشن کو سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں ہروا سکتی تھی تو قومی اسمبلی میں تو اکثریت بھی نہیں تھی۔ ایک مرتبہ پھر پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آصف علی زرداری نے ہی نواز شریف کے خلاف تقریر کی اور ہر صحافی کو پتہ ہے کہ اس کے ٹکر میڈیا کو کس نے بنا بنا کر دیے اور کس کے کہنے پر بنا کر دیے۔ یہ پی ڈی ایم توڑنے کی ہی سازش تھی۔ اس کو بھی برداشت کر لیا گیا تو گیلانی صاحب کو BAP کے ووٹوں سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر منتخب کروایا گیا۔ اور کس کے خلاف الیکشن لڑ کر؟ اپنی ہی حلیف جماعت کے خلاف حریف جماعت سے ووٹ لے کر الیکشن جیتنا اور وہ بھی محض اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا؟ واضح تھا کہ مقصد اپوزیشن لیڈر وغیرہ بننا نہیں، اتحاد توڑنا تھا۔

یہ سب کرتوت پاکستان پیپلز پارٹی ہی کے ہیں۔ جس کی عدم اعتماد کامیاب کروانے کی کنجی یہ ہے کہ پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا کر پہلے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کر دیے جائیں اور پھر عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں لائی جائے جو کہ دوبارہ ناکام ہونے کی صورت میں اپوزیشن ایک طرف تو عثمان بزدار جیسے پنچنگ بیگ سے بھی محروم ہو جائے اور ساتھ پنجاب میں ایک تجربہ کار وزیر اعلیٰ لا کر بٹھا دیا جائے جو کہ عمران حکومت کا سب سے کمزور قلع یعنی پنجاب بھی مضبوط کر دے۔

ایسا گندا کردار ادا کرنے کے بعد اگر بلاول یہ سمجھ رہے ہیں کہ اب ن لیگ کو طعنے دینے سے عوام ان کی مان لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ عوام کو پیپلز پارٹی کے جیالے سمجھا ہوا ہے جو قیادت کی ہر کھچ کو چوم چوم کر مار ڈالنے والا کردار ادا کرتے رہیں گے؟ عوام آپ کو بھی جانتی ہے۔ اور آپ کے ابا کو بھی۔ شہباز شریف کو ن لیگ نے فری ہینڈ ضرور دیا ہے لیکن تھوڑے دن کی بات ہے، اس کو آدھی سمجھ تو لگ گئی ہے، ہفتہ، دس دن میں باقی کی سمجھ بھی لگ جائے گی۔ یہ زرداری، شہباز اور بلاول تینوں کی بھول ہے کہ ہائبرڈ نظام منتوں سماجتوں سے ٹوٹے گا۔ اور ہائبرڈ کو بھی اچھی طرح علم ہے کہ ایک گیا تو سب جائیں گے۔ وہ ایک دوسرے سے بھلے نفرت کرتے ہوں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کی کہنی کس چکی میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس نظام کو گھر بھیجنا ہے تو لڑ کر بھیجنا ہوگا۔ ڈومیسائل شومیسائل والے ڈرامے چھوڑیں۔ میرا تو ایک ہی بیٹا ہے والی راگنی کسی اور کو سنائیے گا۔ اپنی بزدلی چھپانے کے لئے صوبائیت کی آگ بھڑکانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ لڑنا ہے تو سامنے آ کر میدان میں مقابلہ کریں۔ ورنہ بھول جائیں۔ جب تک لاڈلا زندہ ہے، اکلوتے کی کسی کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *