Type to search

تجزیہ

امریکا نے 20 سال جن پر سرمایہ کاری کی وہ مقابلہ کرنے کا دم خم نہیں رکھتے: شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے افغانستان میں طالبان کی سوچ حاوی ہونے پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو تقویت مل سکتی ہے۔سینیٹر شیری رحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں بات کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان کو بڑے خطرات لاحق ہیں اور افغانستان کے مسئلے پر سب کو تشویش ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی رائے تھی کہ افغان صورتحال پر سیکیورٹی ادارے اعتماد میں لیں، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بریفنگ دی اور سوالات کے جواب دیے، عید سے قبل قومی سلامتی کمیٹی کی ایک نشست اور ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہے، یہ تاثر درست نہیں ہے، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمارا مددگار اور تعمیری ساتھی ہے، یہ امریکا کہہ رہا ہے جو ہم پر انگلی اٹھاتا تھا، وہ کہہ رہے ہیں کہ آج افغانستان میں ہماری منزل ایک ہے یعنی افغانستان کا امن و استحکام، جبکہ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے شراکت داری صرف افغانستان تک محدود نہیں، یہ تعلقات افغانستان سے آگے جائیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے انخلا 31 اگست تک مکمل ہوجائے گا لیکن خطے اور پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعلق رکھنا چاہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دلچسپ تبدیلی دیکھ رہا ہوں، بین الاقوامی کردار اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ افغانستان کا فوجی حل نہیں، یہی عمران خان نے کہا تو انہیں طالبان خان کہا گیا، یہ ہمارے نقطہ نظر کی کامیابی ہے اور آج دنیا بھی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ واحد حل امن اور مفاہمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی اب سوچ ہے کہ امریکا کا مشن مکمل ہوگیا، افغانستان سے انخلا کے فیصلے پر سیاسی اتفاق رائے ہے، امریکا کہتا ہے کہ محفوظ انخلا ہماری ترجیح ہے اور ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا، پاکستان کہتا ہے کہ انخلا کریں لیکن منظم طریقے سے کریں تاکہ وہاں خلا پیدا نہ ہو اور منفی قوت فائدہ نہ اٹھائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کہتا تھا ہمارا مقصد تنظیموں کو کمزور کرنا تھا تاکہ وہ امریکا کو نشانہ نہ بنا سکیں، صدر جو بائیڈن کے مطابق یہ مقصد ان دہشت گردوں کو نشانہ بنانا تھا جنہوں نے نائن الیون کیا، اب امریکا کہتا ہے کہ اس نے دہشت گرد تنظیموں کو کمزور کر دیا ہے جبکہ افغانستان میں قوم کی تعمیر یا جمہوریت کا جھنڈا گاڑنے نہیں گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کہتا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے، یہی ہم بھی کہتے ہیں، طالبان یورپی تو نہیں افغان ہیں، یہ پاکستان کی ریاست کا مفاد ہے، امریکا کہتا ہے افغانستان میں سیکیورٹی معاونت جاری رکھیں گے، افغان ایئر فورس کی سیکیورٹی یقینی بنائیں گے اور شہریوں کی معاونت جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کہتا ہے کہ افغان خواتین کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے، افغانستان میں سفارتی موجودگی رکھیں گے، اسے فوری طور پر کابل پر قبضہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور اس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ساتھیوں کو اعتماد میں لیں گے اور کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی یقینی بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے قیمت ادا کی ہے، دیکھنا ہے مستقبل میں چیلنجز کا کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں، اگر افغانستان 1990 کی دہائی کی طرف جاتا ہے تو پاکستان پر پناہ گزین کا دباؤ پڑے گا، امریکا نے افغانستان میں 20 سال جن پر سرمایہ کاری کی ان میں مقابلہ کرنے کا دم خم نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم غیر قانونی کراسنگ چیک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں، ہم نے ماضی میں ازبک، تاجر، ہزارہ پر توجہ نہیں دی تھی لیکن گزشتہ چھ ماہ میں ان سے ملاقاتیں کی ہیں، وہ سیکیورٹی حکام، وزیر اعظم اور مجھ سے ملے تاکہ واضح کریں کہ ہمارا افغانستان میں کوئی پسندیدہ نہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *