Type to search

تجزیہ

پشاور: تحریک طالبان افغانستان کے کارکن کا جنازہ ریلی میں تبدیل، امارات اسلامیہ کے حق میں نعرے

Taliban-Peshawar

پشاور کے علاقے ریگی میں ایک جنازے نے اُس وقت لوگوں کی توجہ حاصل کی جب وہاں نہ صرف امارات اسلامی افغانستان کے جھنڈے لہرائے گئے بلکہ اُن کے حق میں نعرہ بازیاں بھی کی جس کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق یہ جنازہ افغانستان میں افغان فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے ایک مقامی رہائشی کا تھا جس کی لاش کو پشاور منتقل کیا گیا تھا اور بعد میں جنازے کے ساتھ ایک ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی۔ نیا دور میڈیا نے اس بات کی تصدیق نہیں کرسکا کہ افغانستان میں مارے جانے والے شہری کا تعلق افغانستان یا پھر پاکستان سے تھا۔

پشاور میں جیو نیوز سے منسلک صحافی رسول داوڑ کے مطابق یہ ریلی بورڈ بازار کے قریب نکالی گئی اور بعد میں یہ ریلی مصروف شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر اگئی اور شرکاء نے امارات اسلامی افغانستان کے جھنڈے لہرانے کے ساتھ ساتھ اُن کے حق میں نعرہ بازی بھی کی۔ صحافی رسول داوڑ کے مطابق اس ریلی میں ساؤنڈ سسٹم کا استعمال بھی کیا گیا اور امارات اسلامی کے ترانے بھی بجائے گئے۔

نیا دور کو پشاور میں رہائش پذیر ایک صحافی نے نیا دور میڈیا کو بتایا کہ یہ کوئی عام جنازہ نہیں تھا بلکہ یہاں کے ایک مقامی شہری جو امارات اسلامی سے وابستہ تھے افغانستان میں مارے گئے جس کے بعد اُن کی میت کو پشاور لایا گیا ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ میت کا ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے والہانہ استقبال کیا اور جنازے میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جنازے میں شریک لوگ نہ صرف امارات اسلامی زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ الجہاد الجہاد کےنعرے بھی لگا رہے ہیں۔

پشاور کے رہائشی نے نیا دور میڈیا کو بتایا کہ جب یہ ریلی پشاور کے مصرف ترین شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر آگئی تو وہاں پر پولیس کے نفری موجود تھی مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ میت پر شرکاء کی جانب سے مسلسل پھول نچھاور کئے گئے اور بعد میں تدفین کے لئے لاش کو منتقل کیا گیا۔

نیا دور میڈیا نے ایس ایس پی اپریشن یاسر آفریدی اور ڈسٹرکٹ کمشنر پشاور سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر انھوں نے اس ریلی پر کوئی موقف نہیں دیا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *