Type to search

تجزیہ

کامریڈ سینگار نوناری کی آزادی کیلیے مسلسل 15ویں دن بھی احتجاجی ریلی، دھرنا

عوامی ورکرز پارٹی نصیرآباد اور ورثاء کی طرف سے مسلسل پندرہویں روز بھی احتجاجی ریلی نکال کر دھرنا دیا گیا۔ سینکڑوں مزدوروں، عورتوں، طلبہ اور عام شہریوں سمیت سیاسی سماجی تنظیموں نے بھرپور شرکت کر کے کامریڈ سینگار نوناری کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
نوناری محلے سے موبائل مارکیٹ تک ریلی میں شریک مظاہرین نے کُنڈے، پلے کارڈز اور جھنڈے ہاتھوں میں تھام کر جاری بربریت کے خلاف اور کامریڈ سینگار کی آزادی کیلیے نعرے لگائے۔ عوامی ورکرز پارٹی سندھ کی عورت سیکرٹری کامریڈ عالیہ بخشل نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  مسلسل 15 دنون سے سیاسی سماجی و مذہبی تنظیموں کے احتجاج سینگار نوناری کی عوامی مزاحمت و سیاست کی ثابتی ہے۔ دوسری طرف سندھ حکومت کی لاتعلقی اور بے حسی ثابت کرتی ہے کہ وہ عوامی، جمہوری، ترقی پسند لوگوں کی جبری گمشدگی والے پر راضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق کونسلر اور ایم پی اے کی سیٹ پر لڑنے والے کامریڈ سینگار نوناری کے اغوا پر منتخب ایم پی اے اور ایم این اے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں وہ اسیمبلی فلور پر بات کرنا تو دور کی بات لیکن سینگار کے ورثا اور پارٹی سے ملنے بھی نہیں آئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جس 18ویں ترمیم پر فخر کرتی ہے وہ معذور ہو چکی ہے یا محض نام نہاد خودمختاری کا دکھاوا ہے۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے قومی عوامی تحریک کے مرکزی رہنما عنایت تونیو نے کہا کہ ہم ذمہ دار شہریوں، سیاسی سماجی تنظیموں کا کامریڈ سینگار نوناری کی آزادی کیلیے مسلسل 15 دنوں سے جاری احتجاج ثبوت ہے کہ کامریڈ سینگار بے گناہ ہے، اسے بغیر کسی جرم کے جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا ہے۔
سجاگ شہری اتحاد کے نائب صدر منظور اوڈھانو، شہری اتحاد کے سیکرٹری مولوی حسن، پی پی شہید بھٹو کے رہنما شیراز پتوجو نے کہا کہ کامریڈ سینگار پرامن عوامی مزدور رہنما ہیں، انہیں فوری طور پر آزاد کیا جائے۔
ریلی اور دھرنے میں سیاسی سماجی تنظیموں پی پی شہید بھٹو، نون لیگ، رائیس ملز مزدور یونین، کبوا، نمسوا، ناری جمہوری محاذ، قومی عوامی تحریک، عوامی جمہوری پارٹی،  ہندو نوجوان اتحاد، موبائل مارکیٹ یونین، بوٹ ھائوس یونین، صوفی سنگت نصیرآباد، سول سوسائٹی، پروگریسیو اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر نے شرکت کی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *