Type to search

خبریں

امریکا نے کبھی پاکستان میں فوجی اڈے نہیں مانگے، مغربی سفارت کار

مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے کبھی پاکستان میں فوجی اڈے نہیں مانگے۔پاکستان میں یہ مسئلہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس پر واشنگٹن میں سب کو حیرانی ہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکا نے پاکستان میں کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے۔ مغرب کے ایک سینئر سفارتکار کے مطابق امریکی انتظامیہ میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس نے فوجی اڈے کی درخواست کی ہو لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ پاکستان میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس مسئلے پر بحث اور ہیش ٹیگ ’ایبسولیٹلی ناٹ‘ مہم کی وجہ سے واشنگٹن میں سب حیران ہیں۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے باضابطہ طور پر فوجی اڈوں سے متعلق چلائی جانے والی اس مہم پر اپنے تحفظات سے اسلام آباد کو آگا کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران جب امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کی تاریخ قریب آئی ، پاکستان کے پالیسی سازوں کے درمیان یہ بحث شروع ہو گئی کہ امریکا نے مبینہ طور پر پاکستان میں فوجی اڈوں کی درخواست کی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکا کو فوجی اڈے دینے سے صاف انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کی زمین سے افغانستان کیخلاف کاروائی کی اجازت نہیں دیں گے، امریکا کے امن میں شراکت دار ہیں جنگ میں نہیں، اب کسی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اگر طالبان افغانستان کو مکمل فتح کریں گے تو بہت خون خرابہ ہوگا۔

امریکا کو سیاسی تصفیہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام صرف ملکی دفاع کیلئے ہے، امن چاہتے ہیں محاذآرائی نہیں چاہتے، اب کسی قسم کی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، بھارت سے ہماری تین جنگیں ہوچکی ہیں، جوہری ہتھیاروں کیخلاف ہوں ہمارے ہتھیار دفاع کیلئے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہم امریکا کو فوجی اڈے دیں، پاکستان سے افغانستان میں کاروائی کی اجازت نہیں دے سکتے، ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے سکتے، ہم امریکا کے امن میں شراکت دار ہیں جنگ میں نہیں، اگر طالبان افغانستان کو مکمل فتح کریں گے تو بہت خون خرابہ ہوگا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *