Type to search

تاریخ فیچر

سیاست نوے کی دہائی میں، آخری قسط: پی ٹی وی پر ساری رات ملی نغمے اور فوجی ترانے چلتے رہے

17 ستمبر 1999 کو شہباز شریف، وزیر اعظم کی ہدایت پر واشنگٹن پہنچے اور امریکی دفتر خارجہ کے عہدے داروں کے ساتھ ملاقات کے دوران انہیں پاکستان میں جرنیلوں کی ‘ممکنہ آمد’ سے آگاہ کیا۔ شہباز شریف نے امریکی عہدے داروں کو کچھ ماہ قبل کارگل کے موضوع پر حکومت کی ‘وفا داری’ کی یاد دہانی کروائی اور یہ باور کرایا کہ اس حرکت پر فوج بالکل خوش نہیں تھی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے طالبان حکومت کے ساتھ سخت رویہ اپنانے اور اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکہ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔

شطرنج کا میدان سج چکا تھا اور دونوں فریقین اپنے مہرے احتیاط سے استعمال کر رہے تھے

20 ستمبر کو ایک امریکی اہلکار نے پاکستان میں جمہوری عمل کی پائیداری کی ضرورت پر زور دیا اور کسی ‘غیر آئینی’ اقدام کی مخالفت کا عندیہ دیا۔ اس اثنا میں جنرل مشرف نے نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے جنرل سلیم حیدر کا تبادلہ کر دیا۔ سیاسی شطرنج کا میدان سج چکا تھا اور دونوں فریقین اپنے مہرے احتیاط سے استعمال کر رہے تھے۔ 10 اکتوبر کو میاں نواز شریف، اپنے قریب ترین ساتھیوں سمیت ابو ظہبی کے ایک روزہ دورے پر روانہ ہوئے۔ اس سفر میں ان کے ساتھ انکے فرزند حسین نواز، تقریر نویس نذیر ناجی اور جنرل ضیاء الدین موجود تھے۔ اس واقعے سے کچھ ماہ قبل مقامی اخبارات میں شریف حکومت کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا جا چکا تھا اور اپوزیشن سیاستدانوں نے ایک گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس بنایا تھا جس کا یک نکاتی مقصد ‘گو نواز گو’ تھا۔ اس اکٹھ میں پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ چٹھہ گروپ اور پاکستان عوامی تحریک شامل تھیں۔


یہ بھی پڑھیے: سیاست نوے کی دہائی میں، قسط 7: سیاچن گلیشئر پر قبضہ، واجپائی کی پاکستان آمد، اور مشرّف کی پیش بندی


نواز شریف نے مہلک وار کرنے کی تیاری مکمل کر لی تھی

آخری بساط بچھ چکی تھی اور نواز شریف نے مہلک وار کرنے کی تیاری مکمل کر لی تھی۔ جنرل مشرف، سری لنکا کی پچاسویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کرنے کولمبو جا چکا تھا اور 12 اکتوبر کو اس کی واپسی متوقع تھی۔ واپسی کی چار گھنٹے کی پرواز کے دوران مشرف کو اس کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سیاسی قیادت اس امر سے لاعلم تھی کہ کولمبو جانے سے قبل مشرف نے اپنے قریب ترین ساتھیوں سے اپنے گھر پر ملاقات کی تھی اور شرکاء میں جنرل عزیز، جنرل محمود احمد، جنرل شاہد عزیز اور برگیڈیئر راشد قریشی شامل تھے۔

شاہد عزیز کی کتاب حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے

لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب ‘یہ خاموشی کہاں تک؟’ کے صفحہ 210 پر لکھا ہے:

"آپ تینوں میں سے ہر ایک انفرادی طور پر اس بات کا مجاز ہو گا کہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے احکامات جاری کرے۔ میں آپ تینوں کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں، جنرل محمود، جنرل عزیز اور شاہد آپ”، جنرل مشرف نے میٹنگ ختم کرتے ہوئے ہمیں اس سلسلے میں با اختیار کیا اور ذمہ دار ٹھہرایا۔ "یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی وجہ سے آپس میں آپ لوگوں کا رابطہ نہ ہو سکے یا کوئی اور دشواری پیش آ جائے، تو پھر بھی کارروائی میں رکاوٹ نہ پڑے”، یہ کہہ کر وہ کھڑے ہو گئے۔ شاید یہ بات اس لئے بھی کہی ہو کہ اگر کوئی شخص آخری وقت پر پیچھے ہٹنا چاہے تو بھی کارروائی نہ رکے۔ ہم سب نے انہیں الوداع کہا اور اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ سری لنکا جانے سے پہلے یہ آخری ملاقات تھی۔ فیصلہ یہ تھا کہ اگر ان کی غیر موجودگی میں نواز شریف صاحب انہیں فوج کے سربراہ کی کرسی سے ہٹانے کی کارروائی کریں تو فوری طور پر حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ کئی دنوں سے ان کے گھر پر اس سلسلے کی ملاقاتیں جاری تھیں۔ ان ملاقاتوں میں میرے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمود، کمانڈر 10 کور، لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان، (CGS، بعد میں جنرل بنے)، میجر جنرل احسان الحق (DGMO، بعد میں بعد میں جنرل بنے)، برگیڈئر راشد قریشی اور مشرف کے پرنسپل سٹاف افسر موجود ہوتے۔


یہ بھی پڑھیے: 1999 میں حکومت کا تخت الٹنے کے وقت نواز شریف کس قوت کے خلاف بر سر پیکار تھے؟


111 بریگیڈ میں تبدیلی کے بعد نئی نئی تبدیلیاں

نواز شریف نے سہیل وڑائچ کی کتاب ‘غدار کون’ کے لئے انٹرویو میں بتایا کہ جنرل طارق پرویز اور ان کی ملاقات کے متعلق ایک جھوٹی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تھی جس پر وہ مشرف سے بازپرس کرنا چاہتے تھے لیکن جنرل صاحب پکڑائی نہیں دے رہے تھے اور اس دوران سری لنکا کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ ‘انہوں (مشرف) نے اچانک 111 برگیڈ کا کمانڈر بدل دیا۔ نئے کمانڈر کے آنے کے بعد ہم نے پرائم منسٹر ہاوس کے فوجی پہرے کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں دیکھیں۔ ان کے ائر فون لگے ہوئے تھے، وہ ہر آنے جانے والے کو نوٹ کر رہے تھے اور ہماری موومنٹ کو بھی نوٹ کرتے رہے۔ ان کو ایک خاص قسم کا کمیونیکیشن سیٹ ملا تھا۔ میں نے اپنے ملٹری سیکرٹری برگیڈیئر جاوید ملک سے پوچھا کہ یہ کوئی نئی چیز میں دیکھ رہا ہوں اور نئے طریقے سے یہ لوگ ایکٹ کر رہے ہیں، اس کا پتہ کریں کہ کیوں ایسا ہے؟ انہوں نے 111 بریگیڈ کے کمانڈر سے بات کی تو پھر یہ وائرلیس سیٹ واپس لے لیے گئے اور ہمیں شش وپنج میں ڈال دیا’۔

باز رہنے کا مشورہ دیا تو سنی ان سنی کر دی

بارہ اکتوبر کو صبح دس بجے وزیر اعظم اسلام آباد سے اپنے طیارے میں شجاع آباد میں منعقد ایک جلسے سے خطاب کے لئے روانہ ہوئے۔ جانے سے پہلے انہوں نے سیکرٹری دفاع افتخار علی خان کو ہدایت دی کہ واپسی پر ان سے ملاقات کریں، اس کے علاوہ انہوں نے صدر پاکستان کے ساتھ ملاقات کے لئے وقت مقرر کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس سفر میں وزیراعظم کے ہمراہ حسین نواز، نذیر ناجی اور پی ٹی وی کے سربراہ پروز رشید تھے۔ طیارہ ملتان ہوائی اڈے پر اتارنے کے بعد جہاز کے عملے کو باہر نکلنے کا حکم دیا گیا اور نذیر ناجی سے ان کا موبائل فون لے لیا گیا۔ نذیر ناجی کو حسین نواز کی لکھی تقریر دکھائی گئی جو اس روز وزیراعظم نے قوم سے خطاب کے دوران استعمال کرنی تھی، اور نذیر صاحب نے اس تقریر کا اردو میں ترجمہ کیا اور اس کی نوک پلک سنواری۔ دو گھنٹے بعد طیارہ چکلالہ ہوائی اڈے پر اترا تو وزیر اعظم نے سیکرٹری دفاع کو منصوبے سے آگاہ کیا۔ نواز شریف نے بتایا کہ جنرل طارق پرویز کی برخاستگی کے بعد فوج اور حکومت کے تعلقات میں ابتری آ چکی ہے اور انہوں نے جنرل مشرف کی جگہ جنرل ضیاء الدین کو آرمی چیف تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ افتخار علی خان نے وزیر اعظم کو اس ہنگامی قدم سے باز رہنے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے سنی ان سنی کر دی۔


یہ بھی پڑھیے: سیاست نوے کی دہائی میں، قسط 5: شریعت کے نام پر فوجیوں کی ناکام بغاوت، اور مرتضیٰ کا قتل


پانچ بجے کے خبر نامے میں ضیاء الدین کو آرمی چیف بنانے کی خبر نشر کر دی گئی

وزیراعظم کے دفتر میں ان کے سیکرٹری سعید مہدی نے سرکاری کارروائی کے لئے کاغذات تیار کیے۔ سہ پہر کے چار بجے جنرل مشرف کا طیارہ کولمبو کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوا۔ ساڑھے چار بجے وزیر اعظم نے مشرف کی جگہ ضیاء الدین کے تقرر نامے پر دستخط کر دیے اور حتمی فیصلے کے لئے کاغذات ایوان صدر بھجوا دیے۔ پی ٹی وی کے پانچ بجے کے خبر نامے میں مشرف کی جگہ ضیاء الدین کو آرمی چیف بنانے کی خبر نشر کر دی گئی۔

پی ٹی وی کو آرمی چیف کی تبدیلی کی خبر چلانے سے روکنے کے لئے ایک میجر اور پندرہ جوان روانہ

جنرل ضیاء الدین نے مشرف کے حمایتی جرنیلوں عزیز خان اور محمود احمد کی جگہ اپنے قابل اعتماد لوگوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے فوج کے کوارٹر ماسٹر جنرل، جنرل اکرم کو عزیز خان کی جگہ بحیثیت چیف آف جنرل سٹاف کمان سنبھالنے کا پیغام بھیجا اور جنرل سلیم حیدر کو محمود کی جگہ دس برگیڈ کی کمان سنبھالنے کی ہدایت دی۔ جنرل سلیم اس وقت گالف کھیل رہا تھا لہٰذا اس تک پیغام پہنچانے میں کچھ وقت لگا۔ عین اسی وقت جنرل محمود اور عزیز ٹینس کھیل رہے تھے اور انہیں اس تبدیلی کی اطلاع پشاور کے کور کمانڈر جنرل سعید الظفر کے ذریعے ملی۔ دونوں جنرل فوری طور پر GHQ پہنچے اور سب سے پہلے پی ٹی وی کو آرمی چیف کی تبدیلی کی خبر چلانے سے روکنے کے لئے ایک میجر اور پندرہ جوانوں کو مرکزی ٹیلی ویژن دفتر بھیجا۔ اس کے بعد انہوں نے کور کمانڈروں سے رابطہ کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ نوازشریف سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

فوجیوں کی دروازہ پھلانگنے والی تصویر

پی ٹی وی کے شام چھے بجے والے خبرنامے میں مشرف کی سبکدوشی اور جنرل ضیاء الدین کی تقرری کی خبر موجود نہیں تھی۔ وزیراعظم ہاؤس سے نوازشریف صاحب کے ملٹری سیکرٹری برگیڈیئر جاوید اقبال کو پنجاب ایلیٹ فورس کے ہمراہ پی ٹی وی مرکز بھیجا گیا جہاں برگیڈیئر صاحب کی میجر نثار سے تو تو میں میں ہوئی (جس کے نتیجے میں میجر نثار اور ان کے ساتھ موجود فوجیوں کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا) اور بالآخر سات بجے کے خبرنامے میں مشرف کی برطرفی والی خبر نشر کی گئی۔ اب کی بار GHQ میں بیٹھے جرنیلوں نے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ٹیلی وژن مرکز بھیجی (جن کی دروازہ پھلانگنے والی تصویر بہت مشہور ہوئی)۔

Over my dead body

جنرل محمود اور جنرل اورکزئی کے زیر قیادت وزیراعظم ہاؤس فتح کر لیا گیا۔ بقول نواز شریف: "سچ تو یہ ہے کہ جرنیل اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھے تھے وگرنہ چند گھنٹوں میں بغاوت ممکن نہیں ہوتی۔ ٹیک اوور کے بعد 12 اکتوبر کی رات میرے پاس جنرل محمود اور جنرل اورکزئی آئے اور کہا: "اس کاغذ پر دستخط کر دیں”۔ اس کاغذ پر وزیراعظم کی طرف سے اسمبلیاں توڑنے کا مشورہ تحریر تھا۔ میں نے انکار کیا اور کہا: Over my dead body اور کاغذ اٹھا کر پھینک دیا۔ اس پر ان جرنیلوں نے کہا: "اب آپ سے بدلہ لیا جائے گا۔”

مشرف کے طیارے کو پہلے کراچی ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن فوج نے جلد ہی ہوائی اڈے پر قابو پا لیا۔ پی ٹی وی پر ساری رات ملی نغمے اور فوجی ترانے چلتے رہے۔

(ختم شد)

Tags:

1 Comment

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *