Type to search

تجزیہ

چراغِ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

امریکہ میں مقیم پاکستانی ماہرِ معاشیات عاطف میاں نے نیویارک ٹائمز کے اپنے مضمون میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ انتہا پسندی کو گردانا تھا۔ یوں تو پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ تقریباً ہر سیاسی رہنما، چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، انتہا پسندی کی مذمت کر چکا ہے اور پاکستان کی فوجی قیادت نے گذشتہ چند سالوں میں متعدد مرتبہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کو پاکستان کے دشمنوں کی سازش قرار دیا ہے۔ جب 2014 میں جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بنیاد رکھی تھی تو ملک بھر میں ایک موہوم سی امید جاگی تھی کہ شاید ریاست پچھلے 40 سال کی غلطیوں سے سبق سیکھ چکی ہے اور اب ملک کی ایک نئی سمت متعین کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اور یقیناً اس کا عملی ثبوت ضربِ عضب اور رد الفساد کی صورت میں دکھائی بھی دیا۔ یہ نہ ماننا کہ ان آپریشنز کے نتیجے میں دہشتگردوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا، غلط نہ ہوگا۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں رونما ہونے والے واقعات نے ایک بار پھر پاکستان کو وہیں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہم دسمبر 2014 سے قبل کھڑے تھے۔ ایک طرف تو پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں جو کہ قطعاً انہونی بات نہیں کیونکہ تقریباً دو دہائیوں سے ان کو افغانستان کا نجات دہندہ قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن اچنبھے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں طالبان کی فتح کا جشن یوں منایا جا رہا ہے جیسے طالبان نے پاکستان میں گھس کر امریکہ کو شکست دے دی ہو اور پاکستان کو مغربی استعماری نظام سے آزاد کر دیا ہو۔ آپ خود ہی ملاحظہ کیجئے کہ ہمارے اعلیٰ عہدوں پر فائز حکمرانوں نے ان کی شان میں کیا کیا قصیدے نہیں پڑھے۔

وزیر اعظم عمران خان جن کو مخالفین طالبان خان کے نام سے پکارتے تھے، وہ طالبان کی فتوحات کو اپنے بیانیے کی جیت قرار دے رہے ہیں اور ان کے وزرا بھی شادیانے بجا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے بعد وزیرِ داخلہ کا عہدہ سب سے اہم ہوتا ہے۔ اور وزیر داخلہ شیخ رشید فرما چکے ہیں کہ طالبان اب ایک سلجھی ہوئی اور مہذب قوت ہیں۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کی ذہانت کی گواہی دی ہے۔ اور قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے تو ان کی ذہانت اور سوجھ بوجھ کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔ لیکن سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ حکومتی پارٹی کے لاکھوں پرستار سوشل میڈیا پر طالبان کی ممکنہ کامیابی کو پاکستان تحریکِ انصاف کا ایک کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جن کی اچھی خاصی تعداد عمران خان کے سحر میں مبتلا ہے، وہ بھی طالبان کو ایک اچھا گروہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے تو لیڈرز ایسی باتیں کرتے ہیں لیکن جب وہ عوامی سطح پر ایک بیانیے کو پروان چڑھاتے ہیں تو اس سے انتہا پسندی قابلِ قبول بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو پاکستان میں طالبان ذہنیت کو مین سٹریم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

پاکستان وہ ملک ہے جس نے اسی ذہنیت کے ہاتھوں 70 ہزار شہریوں جن میں ریاستی اہلکار بھی شامل تھے، دہشتگردی کی بھینٹ چڑھتے دیکھا ہے۔ لیکن پاکستان میں رائے عامہ ہموار کرنے والوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی تھی۔ دراصل طالبان کی سب سے بڑی کامیابی تو یہ ہے کہ ان کے پڑوسی ملک، جو کوئی چھوٹی موٹی ریاست نہیں، بلکہ ایک جوہری قوت کا مالک ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، وہ رفتہ رفتہ ان کا ہمنوا بھی بن رہا ہے اور مذہب کے بیوپاریوں کے پھیلائے ہوئے شر کو اپنے ذہنوں میں سمو چکا ہے۔

سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا قائد اعظمؒ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ذہن میں یہ خاکہ تھا کہ پاکستان بننے کے بعد چند ہی دہائیوں میں ان کی تعمیر کردہ قوم ایک انتہا پسند گروہ کی اس حد تک گرویدہ ہو چکی ہوگی۔ طالبان درحقیقت کسی گروہ یا عسکری جتھے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سوچ اور سیاسی زاویے کا نام ہے جس میں مذہب کے نام پر آپ مذہبی تعلیمات کی باآسانی نفی کر سکتے ہیں۔ لڑکیوں اور خواتین کو گھروں میں بند کرنا، غیر جمہوری اور غیر آئینی نظامِ حکمرانی کو تسلیم کرنا اور بزورِ شمشیر اپنی بات منوانا ہرگز اسلامی نہیں ہو سکتا۔ لیکن بدقسمتی سے نوجوان نسل کو طالبان کی شریعت کو نعوذ باللہ خدا اور اس کے رسول ﷺکی تعلیمات سے جوڑا جا رہا ہے۔

ایک طرف تو جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں نے پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے ملک کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا تو دوسری جانب ریٹائرڈ افسروں کی ایک فوج ظفر موج اس وقت ٹی وی چینلز، اخباری کالمز اور واٹس ایپ گروپس میں طالبان کی فوجی حکمتِ عملی کے گن گا رہی ہے۔ اگر طالبان کی جیت اتنی ہی عمدہ اور اہم ہے، تو پھر پاکستان کو خطرہ کیسا؟ یہاں بھی آئین کو بدلا جائے اور طالبان والا نظام متعارف کروایا جائے کیونکہ یہ دوغلا انداز زیادہ دیر چل نہیں سکے گا۔ یوں لگتا ہے کہ ہم نے اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھے اور ان کو دہرانے میں ہمیں کوئی عار نہ ہے۔

اگر ایسا معاملہ نہ ہوتا تو آج پاکستان پیپلز پارٹی جس کی بینظیر لیڈر کو اسی جتھے نے شہید کیا، اور عوامی نیشنل پارٹی جو اپنے سینکڑوں کارکنوں کی جانوں کے نذرانے پیش کر چکی ہے، اور پاکستان مسلم لیگ ن جس نے ڈان لیکس کے مندرجات میں صرف پالیسی بدلنے کی کوشش ہی کی، یوں خاموش نہ ہوتیں۔ بلکہ اس وقت وہ پارلیمان کا ہنگامی اجلاس بلا کر حکومتِ وقت اور اس میں شامل فوجی قیادت سے سوال کر رہی ہوتیں کہ کیا ایک جدید اور خوشحال پاکستان کے پاس طالبانائزیشن کے سوا کوئی اور راستہ بھی ہے؟ دہشتگردی کی بدترین لہر کے قریب ایک دہائی کے بعد آج پاکستان مزید اندرونی خطرات سے دوچار ہے۔ بریلوی انتہا پسند اپنی طرز کی معاشرت اور سیاست نافذ کرنے کے خواہاں ہیں اور سرحدوں پر وہابی اور سلفی نظریات غالب آ رہے ہیں۔ کیا ریاستِ پاکستان جو ہر معاملے میں مذہب کو سیاسی طور پر استعمال کرتی رہی ہے ان اٹھتے ہوئے طوفانوں سے مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے؟ کیا پاکستان کی دم توڑتی سول سوسائٹی جس پہ پے در پے وار کیے گئے ہیں، اس صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اور کیا پاکستان کا کنٹرولڈ میڈیا عوام کو ان خطرات سے آگاہ رکھ سکتا ہے، خصوصاً جب ملک میں ایک ایسی حکومت موجود ہو جسے طالبان کے نظریات میں کوئی مسئلہ دکھائی نہ دیتا ہو اور جو نوبیل انعام یافتہ پاکستانی بچی ملالہ کو قومی ہیرو ماننے سے انکاری ہو، اور جو اسامہ بن لادن کو شہادت کے مرتبے پر فائض کر چکی ہو؟ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی کرن ڈھونڈنا خود فریبی سے کم نہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *