Type to search

سیاست عوام کی آواز

تم تل لو پکوڑے، ہماری تو لاڑی الٹ گئی

جس خطے سے ہمارا تعلق ہے وہاں ساون کو ایک خاص رومانوی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں برکھا رت آتے ہی جذبات و احساسات کا طوفان بھی امڈ آتا ہے۔ اسی طرح کھانے کے بھی نت نئے طریقے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ پکوڑے تلے جاتے ہیں۔ میٹھی ٹکیاں اور حلوہ بھی کیونکر پیچھے رہیں؟ جھولے جھولنے کی ریت بھی پرانی ہے۔ شاعروں اور گلوکاروں نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈال رکھا ہے۔ ہماری فلمیں تو ایک بارش میں فلمائے گانے کے بغیر یوں بھی نامکمل رہتی ہیں۔ ہیروئن کا بھیگنا شرط اول ہے فلم کے ہٹ ہونے کے لئے۔

238 ملی میٹر کی یہ بارش رکنے کا نام لینے کو تیار نہ تھی

تین سال صحرا میں رہ کر آئے تھے۔ ہمیں تو اس موسم سے یوں بھی خصوصی لگاؤ تھا۔ ترسے ہوئے جو آئے تھے۔ دبئی میں مصنوعی بارش برسائی جاتی تھی جو بسا اوقات چند قطروں کے بعد ہی رخصت مانگتی تھی۔ اس پر بھی سوشل میڈیا پر I love rain کے سٹیٹسوں کی بھرمار ہو جاتی تھی۔ اور ہم دل ہی دل میں تلملاتے رہتے تھے۔

خدا کا کرم ہے کہ یہاں آنے کے کچھ دن بعد ہی ہمیں برسات کا موسم نصیب ہو گیا۔ شروع کی ایک دو بارشوں نے تو خوب لطف دیا لیکن کل کے مینہ نے ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ آٹھ گھنٹے مسلسل برسنے والی یہ بارش کہا جا رہا ہے کہ پچھلے اڑتیس سالوں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ 238 ملی میٹر کی یہ بارش رکنے کا نام لینے کو تیار نہ تھی۔

گاؤں سے آنے والے کسٹوڈین سٹاف میں سے تو تین کے گھروں کی چھتیں بھی گر چکی تھیں

رات کو باہر سوکھنے کو پڑے کپڑے اتارے اور صبح اس فکر میں تھے کہ یونیورسٹی کیسے جایا جائے۔ جو ٹیکسی بک کروائی اس کا ڈرائیور بھی پریشان ہی تھا۔ بار بار گاڑی روکتا تھا کہ تیز پانی کی وجہ سے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ پندرہ منٹ کا رستہ پینتالیس منٹ پر پھیل گیا۔

یہاں آ کر بھی معلوم ہوا کہ بہت سے کولیگ تو نوکری پر آئے ہی نہ تھے۔ خاص طور پر گاؤں سے آنے والے کسٹوڈین سٹاف میں سے تو تین کے گھروں کی چھتیں بھی گر چکی تھیں۔ ان کے علاقوں میں اس قدر پانی کھڑا تھا کہ آنا ممکن نہ تھا۔ والد صاحب کی گلشن راوی میں واقع فیکٹری بھی پانی سے بھر چکی تھی۔ شہر کے دیگر حصوں سے خبریں آئیں تو معلوم ہوا کہ مال روڈ پر تو گہرا شگاف پڑ چکا تھا۔ چھے لوگ بجلی کے شاک لگنے سے اپنی جانیں کھو چکے تھے۔ باقی شہر کے حالات بھی بہت اچھے نہیں تھے۔

ربڑ کے بوٹ پہن کر پانی بھری سڑکوں میں پھرتا ایک شخص بہت یاد آیا

سیاسی دکان چمکانے کا بھی اس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا تھا۔ لہٰذا وہ سیاستدان جو متمنی اقتدار ہیں فوراً لاہور شہر کو دوڑے اور گذشتہ حکومت پر بھرپور نکتہ چینی کرتے نظر آئے۔ اس بات سے قطع نظر کہ دنیا میں کہیں بھی ایسی بارش ہو تو حالات یہی ہوتے ہیں۔ خیر اس بات کو تو کہاں تک روئیں۔ اس موقعے پر ربڑ کے بوٹ پہن کر پانی بھری سڑکوں میں پھرتا ایک شخص بہت یاد آیا۔ کیسا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے نگراں وزیر اعلیٰ صاحب بھی اپنی فائلوں سے سر اٹھا پاتے۔

 قدرت سے گلہ نہیں۔ انسان سے ضرور ہے۔

ساون کا رومان تو کہیں پس پشت ہی رہ گیا۔ کہاں کے پکوان اور کہاں کے جذبات۔ حقیقت یہی ہے کہ رومان ایک آسائش کا نام ہے۔ ہمارا ملک جو ہر قسم کے موسم اور قدرتی وسائل سے مالامال ہے اب ساون جیسی مفت کی تفریح منانے کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا۔ کچھ باتیں کتابوں میں اور لگتی ہیں اور حقیقت میں اور۔ یہاں ہم یہ بات بالکل رد نہیں کریں گے کہ کچھ امیر دوستوں نے کل کی بارش خوب انجوائے کی کہ ان کی زندگیوں میں یہ مسائل نہ تھے۔ البتہ غریب اپنی دیہاڑی اور ٹوٹی چھت کو روئے یا ساون میں جھولا ڈالے؟ ارباب اختیار اپنی سیاسی دکان چمکائیں یا اس موقعے پر عوام کی مدد کریں؟ حکومت کیوں نہ اپنے پر تعیش دفتروں کے مزے لوٹے؟ نظام سقہ کی ڈھائی دن کی بادشاہت جو ہے۔ یہ وقت اپنے کپڑے گیلے کرنے میں کیوں ضائع کرے؟ کفران  نعمت ہو گا۔

یہ چوہا لنڈورا ہی بھلا

جہاں تک مجھ ناچیز لکھاری کا تعلق ہے تو آئندہ برسات کو اپنے رومانوی تخیل میں استعمال نہیں کرنا چاہوں گی۔ یہ بے حسی حکمرانوں اور شعراء کو ہی مبارک ہو۔ ہمیں تاریخ کی اس سمت نہیں کھڑا ہونا۔ یہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *