Type to search

تجزیہ سیاست

ضیاء نے بھٹو کے ہاتھوں اپنی توہین کا بدلہ پورے پاکستان سے لیا

“میں یہ بالکل واضح کر کر دینا چاہتا ہوں کہ میرے کوئی سیاسی عزائم ہیں نا فوج اپنی سپاہیانہ پیشے سے اکھاڑنا چاہتی ہے ہے مجھے صرف اس خلا کو پورا کرنے کے لیے آنا پڑا ہے جو سیاستدانوں نے پیدا کیا اور میں نے یہ چیلنج صرف اسلام کے ایک سپاہی کی حیثیت سے قبول کیا ہے میرا واحد مقصد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانہ ہے جو اس سال اکتوبر میں ہوں گےاور انتخابات مکمل ہوتے ہی اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپ دونگا اور میں لائحہ عمل سے ہرگز انحراف نہیں کروں گا آئندہ تین مہینوں میں میری ساری توجہ انتخابات پر مرکوز ہوگئی اور میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اپنے اختیارات کو دوسرے معاملات پر ضائع نہیں کرنا چاہتا”
جنرل ضیاء الحق نے یہ وعدہ قوم سے اپنے پہلے نشری خطاب میں کیا بیان 90روزہ آپریشن فیئر پلے کے وعدہ پر اقتدار پر قبضہ کیا. “پی این اے کے لیڈروں نے مارشل لاء کا کریڈٹ حاصل کرنے کے لیے بیانات جاری کیے جن میں کہا گیا کہ مارشل لاء ان کی جدوجہد کا نتیجہ میں نافذ ہوا ہے”
(جنرل فیض علی چشتی کی کتاب Betrayal of other Kind صفحہ نمبر 75)
اقتدار سنبھالنے کے بعد جانے اپنی سربراہی میں ایک ملٹری کونسل تشکیل دی جس میں جنرل اقبال خان جنرل سوار خان جنرل کے ایم عارف وائس ایڈمرل طارق کمال خان ، محمد انور شمیم شامل تھے۔
(لارنس زائرنگ کی کتاب Pakistan in Twenties Century)
یا ابتدا میں ہی اے کے بروہی شریف الدین پیرزادہ ڈاکٹر سعد جاوید مصری علی احمد تالپور جسٹس چیمہ اور کرنل صدیق سالک جیسے خوش آمدید مشیروں کے نرغے میں آگئے جو ضیاء کو مسلم امہ کا لیڈر بنانے کی کوشش کرتے رہے.
ضیاء نے بھٹو کو گرفتار کرکے حفاظتی حراست میں رکھا اور یہ تاثر دیا کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق تھا ان کو گورنر ہاؤس مری میں نظر بند کرنا ضروری ہو گیا ہے ہے گرفتار رہنماؤں سے ملاقات کرنے کے بعد بھٹو سے بھی ملاقات کی جو خوشگوار نہ تھی اس ملاقات میں جنرل فیض علی چشتی بھی موجود تھے بیان بھٹو کو یقین دلایا کہ انہوں نے عارضی طور اور پر اقتدار سنبھالا ہے اور وہ (بھٹو) دوبارہ اقتدار میں آجائیں گے۔
شیر باز مزاری کی کتاب (A journey to Disillusionment) صفحہ 482
9 اگست 1977 کو بھٹو نے زیادہ سے فون پر پر بات کی چشتی اس موقع پر موجود تھے دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا گفتگو کے بعد ضیاء افسر تھے ممکن ہے بھٹو نے زیاد کو دھمکی دی ہو تو اپنی کابینہ اور رفقاء کے سامنے ضیاء کو توہین آمیز الفاظ میں بلایا کرتے تھے جیسا کہ “میرا بندر جنرل کہا ہے، ادھر آؤ بندر” ضیاء الحق بھٹو کے توہین آمیز ریمارکس کس سن کر کر مسکراتے اور کہتے “آپ کا مہربان توجہ سر ”
سیٹینلے والپورٹ کی کتاب “زلفی بھٹو آف پاکستان” صفحہ 263
ضیاء اقتدار کے مالک بن چکے تھے اور بھٹو کے سخت جملے سننے کے لیے تیار نہ تھے انہوں نے بھٹو کے طنزیہ اور توہین آمیز جملے پہلے ہی اپنے دل میں رکھے ہوئے تھے ضیاء نے ولی خان سے بھی ملاقات کی ولی خان نے ضیاء کو انتباہ کیا کہ قبر ایک ہے اور اس میں دفن ہونے والے دو ہیں اگر بھٹو قبر میں پہلے دفن نہ ہوا تو اس قبر میں ضیاء کو دفن ہونا پڑے گا۔جنرل کے ایم عارف کی کتاب “ورکنگ ود ضیاء” صفحہ نمبر 166
30 ستمبر 1977 کو پیرپگاڑا اور چوہدری ظہور الہی نے ضیاء الحق سے ملاقات کر کے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ جنرل کے ایم عارف کی کتاب “ورکنگ ود ضیاء” صفحہ نمبر 131
پی پی پی کے رہنما غلام مصطفی کھر ہر سطح پر مولانا کوثر نیازی میر افضل حامد رضا گیلانی اور نور حیات نون نے الیکشن سیل کے انچارج جنرل چشتی سے ملاقات کرکے انتخابات غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کروانے اور سخت احتساب کرنے کا مشورہ دیا پی پی پی کے لیڈر جو بھٹو کا ساتھ نبھانے کی قسمیں اٹھایا کرتے تھے فوجی انتظامیہ سے خفیہ رابطے کرنے لگے جنرل ریٹائرڈ کے ایم عارف نے جیو کے پروگرام جواب دا بتاریخ 22 جولائی 2006 میں بتایا کہ جنرل ضیا الحق نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت میں حیدرآباد ٹریبیونل کو کو ختم کر کے مقدمہ میں ملوث تمام سیاستدانوں کو رہا کردیا گوس بخش بزنجو جنرل ضیاء الحق کا شکریہ ادا کرنے کے لیے جی ایچ کیو آئے انہوں نے ضیاء سے کہا کہ ان کی گاڑی پرانی ہے ضیاء نے انہیں نئی مرسڈیز کار دی حالانکہ جب بھٹو اور پی این اے کے مذاکرات کے دوران حیدرآباد ٹربیونل کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا اس وقت آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے سخت مخالفت کی اور کہا کہ فوج اس مطالبے کو قبول نہیں کرے گی کیونکہ عوامی نیشنل پارٹی نے پاکستان کی سلامتی کے خلاف سازش کی۔
یکم اکتوبر 1977 کو جنرل ضیاءالحق نے قوم سے کیا ہوا وعدہ توڑ کر 18 اکتوبر 1977 کو ہونے والے انتخابات ملتوی کر دیے فوج نے جمہوریت کے چیمپیئن کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تھا۔ ضیاء نے انتخابات ملتوی کرکے فوج کی ساکھ کو اور اعتماد کو مجروح کیا۔ جنرل فیض علی چشتی کی کتاب بیٹرائل آف آدر کائینڈ” صفحہ نمبر 140
ضیاء نے کہا کہ انتخابات کی تاریخ قرآن میں درج نہیں ہے قبل ازیں وہ خانہ کعبہ میں 90 روز کے اندر انتخابات کروانے کا وعدہ کر چکے تھے جس کو انہوں نے کوئی کفارہ ادا کیے بغیر توڑ دیا۔
اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے بعد جولائی 1978 میں ضیاء نے سیاستدانوں کو کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد نے ایک بیان میں کہا کہ جو سیاسی جماعتیں کابینہ میں شامل نہ ہوں ان پر پابندی لگا دی جائے اور انہیں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے۔ (ویو پوائنٹ “ویکلی لاہور” 18 جون 1978)
23 اگست 1971 کو نئی کابینہ نے حلف اٹھایا پی این اے سے تعلق رکھنے والے وزرا کے نام یہ ہیں فدا محمد خان مسلم لیگ محمد خان جونیجو مسلم لیگ محمد خان ہوتی مسلم لیگ خواجہ محمد صفدر مسلم لیگ زاہد سرفراز مسلم لیگ چوہدری رحمت الہی جماعت اسلامی پروفیسر غفور احمد جماعت اسلامی محمود اعظم فاروقی جماعت اسلامی محمدزمان خان اچکزئی جمیعت علماء اسلام صبح صادق خان کھوسو جمیعت علماء اسلام افتخار احمد انصاری پی ڈی پی محمد ارشد چوہدری پی ڈی پی اصل قوت فوجی اور سول بیورو کریٹ کے پاس تھی کابینہ کے وزیر بے اختیار تھے یہ کابینہ صرف آٹھ ماہ تک چل سکی۔
جب کابینہ نے بھٹو کی پھانسی کی منظوری دے دی تو ضیاء نے انتخابات کا اعلان کرکے قومی اتحاد کے وزیروں کو اس دلیل پر 21 اپریل 1938 کو فارغ کردیا کہ پی این اے اور پی پی پی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا اس میں یہ شرط شامل تھی کہ حکومت انتخابات سے پہلے مستعفی ہو جائے گی۔ ضیاء اقتدار کے نشے میں مست ہو چکے تھے انہوں نے تہران کے دورے کے دوران ایک بیان میں کہا کہ آئین کیا ہے یہ دس یا بارہ صفحات کا ایک کتابچہ ہے میں اس کو پھاڑ سکتا ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں کہ کل سے ہم ایک نئے نظام کے مطابق چلیں گے آج میں عوام کو جس جانب بھی لے چلو وہ میری پیروی کریں گے ماضی کہ طاقت ور بھٹو سمیت تمام سیاستدان میرے پیچھے اپنی دم ہلاتے آئیں گے۔
(ستمبر 18 ، 1978 “کایان انٹرنیشنل تہران) بحوالہ شیر باز مزاری کی کتاب (A Journey to Disillusionment) صفحہ 521
بھٹو کو قتل کرنے کے بعد فروری 1981 میں ایم آر ڈی کے نام سے سیاسی اتحاد وجود میں آیا جس میں پی پی پی این ڈی پی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی پی ڈی پی پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی تحریک استقلال پاکستان مسلم لیگ خواجہ خیرالدین قاسم گروپ قومی محاذ آزادی پاکستان مزدور کسان پارٹی جمعیت علماء اسلام پاکستان نیشنل پارٹی عوامی تحریک اور نیپ پختونخواہ شامل تھی ایم آر ڈی نے مارشل لاء کے خاتمے اور 1973 کے آئین کے تحت صاف شفاف انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا ہے ایم ار ڈی نے جوش و خروش کے ساتھ تحریک کا آغاز کیا ایم اڑ ڈی کے قیام سے ضیاء سخت پریشان ہوئے تحریک زور پکڑنے لگیں مگر مارچ 1981 میں پی آئی اے کے طیارے کے اغوا کے واقعی سے تحریک کو سخت دھچکا لگا طیارہ کراچی سے اغوا کر کے کابل لے جایا گیا حکومت نے الزام لگایا کہ یہ طیارہ اذوالفقار تنظیم نے اغوا کر لیا ہے جسے بھٹو کے بیٹے مرتضیٰ اور شاہنواز چلا رہے ہیں پی پی پی کی قیادت طیارہ اغواہ کی سخت مذمت کی۔ سیاسی حلقوں نے الزام لگایا کے طیارے کا اغواء خفیہ ایجنسیوں نے خود کیا ہے تاکہ ایم آر ڈی کو کمزور کیا جائے اور ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔ ایم آر ڈی کا دوسرا مرحلہ 1983 میں شروع ہوا تحریک کا مرکز سندھ تھا۔ مخدوم آف ہالہ کہ پچاس ہزار مریدوں نے نیشنل ہائی وے کو بند کردیا سکھر لاڑکانہ جیکب آباد خیرپور ضلع دادو میں عوام کا زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ حکومت نے تحریک کو کچلنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر استعمال کیے فصلیں تباہ کر دی گئیں اور گھروں کو مسمار کر دیا گیا چھے ہزار افراد گرفتار اور 250 افراد ہلاک ہوئے ضیاء نے فوج کو استعمال کرکے مزاحمتی تحریک کو کچل دیا۔ جی ایم سید لکھتے ہیں کہ سندھ کی عوام کو ٹارچر سیلز میں ہلاک کیا گیا رینجرز ایف سی اور پولیس نے سرکاری یونیورسٹیوں کے اردگرد عوام پر بلا امتیاز فائرنگ کی حملے کیے گئے اور پورے گاؤں جلا دیئے گئے کوڑے گولیاں اور پھانسی سندھ کی عوام کا مقدر بنے اسکے خلاف جی ایم سید نے اقوام متحدہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اندرا گاندھی کو خط روانہ کیے کچھ مصنفین نے ایم آر ڈی کی تحریک کو علاقائی قرار دیا جو حقائق پر مبنی نہیں ہے اس میں غلام مصطفیٰ جتوئی گرفتار ہوئے تھے۔
ضیاء بنیاد پرست جنرل تھے انہوں نے اپنی شیروانی کے نیچے خاکی وردی کو چھپائے رکھا۔
یوں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات سے لے کر لسانی بنیادوں پر تنظیموں کی حوصلہ افزائی اور افغان جنگ میں کود پڑنا ضیاء نے ہر حربہ اپنی حکومت بچانے اور ملک میں آئین و جمہوریت کو تباہ کرنے کے لئے استعمال کیا جس کا خمیازہ پورا پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *