Type to search

تجزیہ

عورتوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذمہ دار کون؟

پہلے تو وزیر اعظم صاحب نے عورتوں کے خلاف تشدد اور ہراسگی کے واقعات کو ان کا لباس قرار دے کر ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور محترم یہ بات کرتے ہوئے بھول گئے کہ یہاں تو تین سالہ عاصمہ بھی درندوں سے محفوظ نہیں۔

دوسری بات وزیر اعظم صاحب یہ بھول گئے کہ گھر ،گلی اور محلہ عورتوں کے لیے محفوظ بنانا جناب ریاست کا کام ہے،مگر ’ویکٹم بلیمنگ‘ تو یہاں بہت سوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے تحفظ دینے کی بجائے ہم ویکٹم  بلیمنگ پر آجاتے ہیں جو اس نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے ۔ اب آتے ہیں گھریلوں تشدد بل  پر جو ایوان بالا میں منظور ہونے سے پہلے پیش کیا گیا نظر ثانی کے لیے اسلامک آئیڈیالوجی کونسل کو ،وجہ اور جواز ،کہ یہ خاندان کے سٹرکچر کو کم زور کرے گا۔

ادھرعرض یہ ہے صاحب اختیار طبقے سے کہ یہ بل تو ہر کمزور طبقے کے لیے تحفظ ہے تو کیونکر یہ خاندانی نظام کے خلاف ہوا، بل کی قسمت کا فیصلہ تو وقت کرے گا مگر ذیادہ امید اسکے پاس ہونے کی نہیں ۔

اس ہفتے ٹویٹر پر تین ٹرینڈ حاوی رہے

Justice for Quratulain

Justice for saima

Justice for Noor

وجہ تو سب جانتے ہونگے ،یہ سب  تشدد کا شکار ہوکر بے دردی سے قتل کر دی گی ،مگر پھر بھی ایک بڑا طبقہ ڈومیسٹک وایلنس بل پاس کرنے کے حق میں نہیں۔

المیہ یہ بھی ہے کہ جب بات اتی ہے عورتوں پر تشد د کی تو کم پڑھے لکھے ،تعلیم یافتہ اور کلاس سسٹم سے بالاتر ہوکر عورتیں ان مظالم کا شکار ہورہی ہیں ،اور یہ ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے جب تک ہم قانون سازی پر توجہ نہیں دینگے تب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

ہم ہر بار کسی بھی ناخوشگوار سانحے کےبعد سوشل میڈیا پر چند ٹرینڈز چلا کر ،چند ٹویٹ کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہوگیا اور چند دن بعد بھول جاتے ہیں ،پھر سانحہ ہوتا ہے اور ہم جاگ جاتے ہیں مگر یہ اس مسلے کا حل نہیں جب تک مواثر قوانین نہیں بنیں گے اور ان پر عمل نہیں ہوگا حوا کی بیٹی ان حادثات کا شکار ہوتی رہی گی ۔

ایک ہفتے میں ان تین بڑے تشدد کے واقعات نے کی سوال اٹھا دیے ہیں اگر اپنی چار دیواری کے اندر عورت عدم تحفظ اور مظالم کا شکار ہے تو باہر اسکے لیے کتنے خطرات ہوں گے ۔اب ٹویٹر ٹرینڈز سے بڑھ کر عملی طور پر ان واقعات کی روک تھام کے لیے میدان میں آنا ہوگا ،پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *