Type to search

سماج سیاست فیچر

“گاؤں میں سامعین اب بھی رات آٹھ بجے سیربین کی خاطر ریڈیو سنتے ہیں”

آج کے دور میں جب مستند اور غیرجانبدارنہ صحافت کی بحث شروع ہوتی ہے تو میرے ذہن میں سب سے پہلے ریڈیو کا زمانہ خاص طور پر بی بی سی کا پروگرام “سیربین” یاد آتا ہے. وہ بھی کیا دور تھا جب ہمارے بڑے پاکستانی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے تجسس سے بی بی سی اردو کا پروگرام “سیربین” سُنے کی تیاری ایسے کر رہے تھے ہوتے تھے کہ جیسے “سیربین” سُنے بغیر انہیں نیند نہیں آئے گی۔
میرے والد محترم آرمی آفیسر تھے۔ یہ غالباََ ڈیڑھ دو دہائی پہلے کی بات ہے۔ صوبہ بلوچستان میں تربت سے دور ایک گاؤں میں شام کے وقت خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں گھر کے صحن میں لگی چارپائی پہ اکثر میں اپنے ابّو کے ساتھ لیٹتا تھا اور وہ پابندی کے ساتھ ٹھیک رات کے آٹھ بجے ریڈیو آن کر کے بی بی سی سیربین کا جو ایک مخصوص پسِ پردہ میوزک ہوا کرتا تھا وہ بجتے ہی ابّو فوراً ریڈیو کی آواز بلند کر دیتے اور مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے۔
ہمارے گاؤں میں اب بھی لوگ شوق سے ریڈیو سُنتے ہیں۔ صحافت کی دنیا میں ہوش سنبھالا تو کچھ اہم ناموں سے میں بچپن ہی میں “بی بی سی” سُننے کی وجہ سے واقف ہو گیا تھا۔ ان اہم ناموں میں شفیع نقی جامی، ہارون رشید، وسعت اللہ خان، شرجیل، ایوب ترین، عالیہ نازکی، محمد کاظم، رفعت اللہ، ریاض سہیل اور بہت سے دوسرے نام۔ یہ لوگ آج بھی اس شعبے سے وابستہ ہیں اور کمی ہے تو بس وہ آٹھ بجے کے بی بی سی سیربین کی۔
بی بی سی اُس زمانے میں اپنی غیر جانبدارانہ ادارتی پالیسی کی وجہ سے معتبر سمجھا جاتا تھا اور اس کی کہانیوں میں اتنی دلچسپی تھی کہ لوگ ہفتہ بھر وسعت اللہ خان کا “بات سے بات” کا شدت سے انتظار کرتے تھے۔ اردو صحافت اور خبر کی دنیا میں بی بی سی ریڈیو کا منفرد مقام تھا جو کہ اب دوسرے چینلوں کی بہتات کی وجہ سے کم ہو گیا ہے۔
بہرحال جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں آج کے ڈیجیٹل دور میں ریڈیو کی اہمیت کم ہو چکی ہے تو شاید وہ معاشرے میں تیز رفتار ٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کو دیکھ کر صحیح ہو مگر میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ ریڈیو کی افادیت ختم ہو چکی ہے۔ کیونکہ اس وقت پاکستان مین ایسے بھی علاقے اور گاؤں ہیں کہ جہاں انٹرنیٹ تو دُور کی بات ہے بلکہ وہاں بجلی تک دستیاب نہیں ہے۔ پسماندہ علاقوں کے یہ لوگ “ڈیجیٹل دنیا” سے کیسے مستفید ہوں گے۔ میں جس علاقے سے تعلق رکتھا ہوں وہاں مجھ سمیت کئی افراد اب بھی رات آٹھ بجے ریڈیو ٹرن آن کرتے ہی کہتے ہیں “کاش بی بی سی” آف ایئر نہیں ہوتا اور ہم اس وقت سیربین سے ملکی اور بین الاقوامی حالات حاضرہ پر تجزیہ نگاروں سے تجزیے اور تبصرے سُن رہے ہوتے۔
انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا ہونے کے باوجود آج بھی سامعین سچ اور مستند خبر اور کہانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ وہ کیا اچھا دور تھا کہ جب گاوں میں شاز و نادر ہی کسی ایک گھر میں ریڈیو کی سہولت ہوا کرتی تھی، مگر ایک ہی سامعین سورج نکلتے ہی پوری “سیربین” محلے والوں کو کسی ہوٹل یا ڈھابے پہ بیٹھ کر سناتے تھے اور اس پہ گھنٹوں تک خوب تبصرہ کیا کرتے تھے۔ اب بھی ایسے گاؤں ہیں جہاں پر سادگی کا ماحول ہے۔ لوگ ریڈیو پہ انحصار کرتے ہیں مگر آج کے ریڈیو پہ وہ چیزیں سامعین کو سننے میں نہیں ملیں گی جو وہ بچپن سے سُنتے آرہے ہیں۔
اگر آج بھی ایک غیر جانبدار ادارتی میڈیا ہاؤس “ریڈیو” کا آغاز کریں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے گاؤں کے لوگ مستند معلومات کی خاطر اپنی صبح و شام کا آغاز ریڈیو سے ہی کرتے ہیں۔ اس وقت ہم سوشل میڈیا پہ ریڈیو کی جو نشریات دیکھ رہے ہیں وہ بی بی سی کے بعد جرمن نشریاتی ادارہ “ڈی ڈبلیو اردو” اور “انڈیپینڈنٹ اردو” کی ہیں۔ یہ وہ نشریاتی ادارے ہیں جو اس خلا کو شاید کبھی پُر نہ کر سکیں، مگر ریڈیو سامعین کی پیاس کو تو کم از کم بُجھا سکتے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *