Type to search

تجزیہ

مینڈک کا جیون جینے والے پاکستانی حکمران

ہمارے ملک میں جمہوریت کا تصور جس قدر عجیب ہے اس قدر مضحکہ خیز بھی ہے۔ میری اس بات سے قطعاً آپ یہ مراد نہ لیجئے گا کہ میں خدا نخواستہ عوامی طرز حکومت کو طنز کا نشانہ بنا رہا ہوں اور غیر جمہوری طریق حکومت کو فروغ دینا چاہتا ہوں۔ لیکن یہ بات نظر انداز کرنے لائق نہیں کہ کوئی بھی عوامی لیڈر یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے حمایتی کسی دوسرے لیڈر کے حمایتی کو سینے سے لگائیں۔ ایسا اسکی دانست میں انتہائی خطر ناک ہو گا۔ جو قوم جس قدر ٹکروں میں بٹی ہو گی ان پر حکومت کرنا اس قدر آسان ہو گا۔

انگریز سرکار نے ہندوستان کے تخت پر قبضہ کرنے کے لئے ایک اصول وضع کیا تھا جو آج ایک محاورے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ وہ اصول تھا “تقسیم کرو اور حکومت کرو” اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے انگریزوں نے قوم ہندوستان کو پہلے ٹکڑوں میں بانٹا۔ پھر اقتدار پر قابض ہوئے۔ ایسا ان کے لئے آسان اس لئے بھی تھا کہ ہندو اور مسلم دو الگ نظریات کی حامل قومیں تھیں۔ ایک قوم گائے کی پوجا کرتی تھی دوسری قوم گائے کے کباب تل کر کھاتی تھی۔ مسلمان توحید پرست تھے جبکہ ہندو مشرک۔ ان عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے انھوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی حکمت عملی اپنائی اور یوں چند سالوں میں اقتدار انکی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی مانند آ گرا۔ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان میں ہندو مسلم مل کر انھیں نیست و نابود کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس لئے دو مختلف قوموں کو ایک دوسرے سے بیزار کر کے انکی ایکتا توڑ کر مطلوبہ نتائج حاصل کر نا ان کے لئے زیادہ آسان ثابت ہوا۔

اسرائیلی لکھاری یووال نوح ہراری جو کہ ہیبریو یونیورسٹی یروشلم میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور کئی بیسٹ سیلر کتب کے خالق بھی۔ وہ اپنی کتاب سیپینز Sapiens: A Brief History Of Humankind میں بن مانسوں کے اقتدار اور گروہوں کا ماجرا لکھتے ہیں کہ بن مانس چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت بستے ہیں۔ یہ گروہ پچیس تیس یا حد پچاس بن مانسوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کا آقا جسے الفا نر کہا جاتا ہے اس کا انتخاب بھی ہمارے منتخب عوامی نمائندوں جیسا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ایک گروہ میں دو بن مانس الفا نر کے انتخاب کے لئے اپنی اہلیت ثابت کرنا چاہتے ہوں تو وہ الیکشن سے پہلے ہر عام بن مانس کو گلے ملنے کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلیں گے۔ انکی پیٹھ سہلائیں گے۔ بچوں سے پیار کریں گے جو جس قدر عام بن مانسوں میں گھل ملکر رہتا ہو اس کے منتخب ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے انکا زیادہ وقت لوگوں کو ملنے انکی پیٹھ سہلانے اور انکے ساتھ گھل مل کر انکے بچوں کو پیار کرنے میں گزرتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اپنی من پسند مادہ اور غذا عام بن مانسوں سے چھین کر اپنے تصرف میں لانا اپنا حق سمجھتا ہے۔ مزید براں ایک ہی جیسے بن مانس کے مختلف گروہ آپس میں اس درجہ بغض و عناد رکھتے ہیں گویا جانی دشمن ہوں۔ اکثر بین الگروہی لڑائیوں میں قتل و غارت کے خونی مناظر بھی دیکھے گئے ہیں۔

وطن عزیز اپنی پیدائش سے لے کر موجودہ وقت تک اپنی روش میں رتی برابر بھی تبدیلی نہیں لایا۔ انصاف سے دیکھیں تو ہمارا حال بھی بن مانسوں جیسا ہے۔ ایک علاقے میں چھ چھ امیدوار یہ سوچ کر جلسے کرتے ہیں کہ لوگوں کو کسی ایک جھنڈے تلے جمع نہ ہونے دیا جائے۔ نتیجہ یہ کہ ہر دوسرے روز کی لڑائیوں میں کوئی نہ کوئی اپنے اس لیڈر کا دفاع کرتے کرتے اکثر ہسپتال پہنچ جاتا ہے جس کے خمیر میں ہے ہی نہیں کہ وہ اپنے علاقے والوں کی بہتری سوچ سکے۔ ہماری جمہوریت ہمیں اتفاق سے دور نفاق کی پستیوں میں لے کے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ جو اپنے بھائیوں کو ایک دوسرے کے خون میں رنگ کر صرف “شخصیت” کو کامیاب بنانے کے لئے کھیلی جارہی ہے۔ اسکی اکثر مثالیں الیکشن مہم اور ووٹ دیتے وقت نظر آتی ہیں۔ ہم نے بحیثیت قوم اپنا طرز زندگی بہتر کرنا ہے یا صرف شخصی کامیابی کو اپنا وطیرہ بنانا ہے۔ اس سوچ کو ہم اس اکیسویں صدی میں بھی نہیں سمجھ سکے۔

تقسیم اور تفریق کا کلیہ ہماری زندگیوں میں اس قدر رچ بس چکا ہے کہ گھر ہو یا ملک ہم نے ہر جگہ کے حصے بخیے کیے ہوئے ہیں۔ دو بھائیوں میں لڑائی گھر کے بٹوارے پر ختم ہوتی ہے۔ ماں باپ جنھوں نے محنت سے ایک ایک اینٹ جوڑ کر گھر بنایا تھا انکی اولاد اس کے ایسے ٹکڑے کرتی ہے کہ انکا کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ملکی سطح پر اس تقسیم کے رنگ کچھ ایسے دہشت ناک ہیں کہ الامان۔ کبھی زبان کو لے کر دو گروہوں میں جھگڑا یا پھر مسلکی بنیادوں پر تنازع جو اس قدر شدت اختیار کر جاتا ہے کہ ہر طرف خون ہی خون بکھرا ہوتا ہے۔ کیا ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ووٹ لے اپنا گھر نوٹوں سے بھرے اور عوام کو پستیوں میں دھکیل کر نو دو گیارہ ہو جائے۔ کیوں بحیثیت عوام ہم نے وقت کی آواز کو نہیں سمجھا کیوں جانتے بوجھتے ہم تقسیم کے اس خونی عمل کا حصہ بن کر جان تک لٹا بیٹھے ہیں؟

بچ جانے والی زندگیاں وہ لاشیں ہیں جن پر ہر صاحب فکر دل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہماری بد قسمتی کا عالم دیکھئے کہ ہمارے جمہوری حکمران ہمیں مکمل انتشار میں مبتلا کر کے ہم سے ووٹ لیتے ہیں۔ ہمیں تباہ کرتے ہیں۔ اور پانچ سال کے لئے مینڈک کی طرح ہائبرنیٹ (hibernate) کر جاتے ہیں۔ یعنی مینڈک جس طرح سردیوں کے موسم میں سو جاتے ہیں بعینہ ہمارے حکمران ہم سے ناطہ توڑ کر شاہی محلوں میں ہماری دی ہوئی طاقت کے بل پر عیش و عشرت میں شب و روز گزارتے ہوئے ہمیں بھول جاتے ہیں۔ مینڈک کا جیون جینے والے ہمارے حکمران صرف پانچ سال بعد عوام کا لہو پینے اپنی خود ساختہ جنت سے باہر نکلتے ہیں۔ صرف یہ یاد دلانے کے لئے کہ ہمارا استحصال ہو رہا ہے۔ اب یہ استحصال کون کر رہا ہے وہ بتانے سے قاصر نظر آتے ہیں اور ہم یہ سمجھنے سے۔ اگر ہم سمجھ جاتے تو یقین کریں “ہر سیاسی تقریر کرنے والے کو ایک بار اپنی پھٹی حالت پہ ترس ضرور آتا”۔

فی زمانہ اس ملک میں ایک اور طوفان شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جو اس قدر طاقتور ہے کہ یہ ریاست کے ساتھ ساتھ ہر انسان کو برباد کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ طوفان ہے ذات برادری کو نوازنے کا عمل۔ یعنی کسی ذات کے فرد نے اگر نظام میں کوئی بہتر پوزیشن حاصل کر لی ہے تو وہ اپنے برادری والوں کو اپنے اختیارات سے بڑھ کر نوازنا شروع کر دیتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ قومی سطح پر سوچنے کی بجائے اقربا پروری کو فروغ دینا اور اسے بہتر بنانا اب عام ہوتا جا رہا ہے۔ جب ایک ذات برادری کا گروہ طاقتور ہو جائے گا تو دوسرے کم طاقتور یا مساوی طاقتور گروہوں کے درمیان کیسی رسہ کشی شروع ہو گی اور ریاست کے لئے وہ کیسے درد سر بن سکتے ہیں ان نتائج کا اندازہ ہم بخوبی لگا سکتے ہیں۔ کیونکہ طاقت کا ہمیشہ سے اصول رہا ہے کہ یہ مزید اور مزید طاقت کی متقاضی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر مثالی اور ترقی یافتہ قوم نے ترقی صرف کنبے کی کفالت کرتے ہوئے نہیں کی بلکہ اونچ نیچ ذات پات امیر غریب ان فضولیات سے بالا تر ہو کر صرف انسانی مساوات پر یقین رکھتے ہوئے اپنے سے کمزور بھائی کو مضبوط ہونے میں سہارا دیا ہے۔ یوں ملک مثالی جنت بنے ہیں۔

اگر ہم نے اب بھی متحد ہو کر نہ سوچا تو ہمیں چاہئے کہ “اتفاق میں برکت ہے” اس نصابی کہانی کو دوبارہ پڑھیں۔ جس میں ایک کسان نے اپنے بیٹوں کو ایک ایک لکڑی توڑنے کا کہا جسے سب نے بآسانی توڑ لیا۔ پھر جب اس نے کہا کہ ان لکڑیوں کو ملا کر توڑنے کی کوشش کرو۔ لیکن نتیجہ پہلے سے برعکس نکلا اور اتحاد نے کمزور سے کمزور لکڑی کو بھی مظبوط بنا دیا تھا۔ کاش ہم اس نصابی کہانی سے ہی کچھ سیکھ پاتے اور نفاق کی بجائے اتفاق پر چلتے ہوئے اپنی قوم کو اقوام عالم میں ممتاز کرتے۔ جمہوریت عوام کے گٹھ جوڑ کا نام ہے۔ اس عمل کے تحت عوام اپنے لئے خود عوامی نمائندہ چنتی ہے۔ تاکہ بہتر سے بہترین کو اپنی راہنمائی کا حق دے۔ ہمیں جمہوریت کے نام پر لڑوانے والے غیر جمہوری رویوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ اگر آج بھی ہم اتفاق کی طاقت سمجھ جائیں تو ہم نفاق کی شہنشاہیت کو پل بھر میں شکست دے کر اپنی عظمت کا علم بلند کر سکتے ہیں۔ اور ملک اور قوم کی ترقی کا ضامن بن سکتے ہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *