Type to search

تجزیہ

‘منٹو کا افسانہ کھول دو’، 1947 میں ہونے والی حیوانیت اور بربریت آج تک تھم نہ سکی

14 اگست کو یوم آزادی کے دن منیار پاکستان لاہور میں جو اندوہناک واقعہ پیش آیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُردو زبان کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا افسانہ “کھول دو” ابھی بھی جاری ہے اور جس حیوانیت اور بربریت کا مظاہرہ اگست 1947 میں کیا گیا تھا وہ ابھی تک تھم نہیں سکا۔

روایات کے امین شہر لاہور میں دو روز میں دو واقعات ہوئے پہلے 14 اگست کو مینار پاکستان میں ایک ٹک ٹاک بنانے والی لڑکی عائشہ پر مسلح ہجوم نے دھاوا بول دیا اور کو ہراساں کیا اسکے کپڑے پھاڑے اور برہنہ کیا، جبکہ اس کے اگلے ہی روز شاہی قلعہ لاہور میں پنجاب کے عظیم سپوت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمہ کو تیسری دفعہ توڑ دیا گیا تاہم توڑنے والے کو گرفتار کر لیا گیا۔

ان دونوں واقعات کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک بات عیاں ہوتی ہے کہ اس خطے کے لوگوں کا اخلاقی زوال جو تقسیم 1947 میں شروع ہوا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔ تقسیم ہندوستان پورے خطے میں ہوئی مگر سب سے زیادہ قتلِ عام اور خواتین کی عصمت دری پنجاب میں ہوئی، انسانیت کو جو زوال پنجاب میں برپا ہوا وہ ابھی بھی جاری ہے اور پنجاب کے اردو زبان کے فکشن لکھنے والوں نے اس عظیم انسانی المیہ کو قلمبند کیا۔

سعادت حسن منٹو ،کرشن چندر اور احمد ندیم قاسمی نے شاہکار افسانے لکھے اور اس انسانیت سوز عمل کو ادب کا حصہ بنا دیا۔ اب موجودہ واقعہ کی طرف آتے ہیں ایک ٹک ٹوک بنانے والی لڑکی عائشہ اپنے ساتھیوں عامر سہیل اور صدام حسین کے ساتھ مینار پاکستان پر یوم آزادی کے حوالے سے ویڈیو بنانے آتی ہے، عائشہ کے ہاتھ میں پاکستان اور بھارت کے پرچم تھے اور دونوں ممالک کےیوم آزادی کے حوالے خیر سگالی کی ویڈیو شوٹ کرنی تھی۔ ہجوم بھارتی پرچم دیکھ کر مشتعل ہوا اور اس لڑکی پر حملہ اور ہوگیا اور اسکو ہراساں کیا، اس کے کپڑے پھاڑے اور برہنہ کیا ،بعد ازاں لاری اڈا پولیس تھانہ میں عائشہ اور اسکے ساتھیوں کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عائشہ کو ہراساں کیا گیا، اسکے کانوں کی بالیاں اتاری گئی، انگوٹھی چھینی گئی  اور اس کے ساتھیوں کے موبائل فون شاخنتی کارڈ  اور پندرہ ہزار کی نقدی چھین کر لے گئے۔  پرچے میں چار سو نامعلوم افراد نامزد ہیں ،اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا اور ہدایت جاری کی ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کو گرفتار کیا جائے۔

دوسرا واقعہ شاہی قلعہ لاہور میں ہوا جس میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک کا کارکن ملوث تھا اور اس نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑ دیا۔ پہلے بھی دو بار ایسا واقعہ ہو چکا ہے۔ یہ دونوں واقعات ہمارے صوبے پنجاب شہر لاہور اور پورے سماج کے اخلاقی زوال کے پیشِ خیمہ ہیں کہ کس طرح اس سماج میں عدم برداشت کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔  گزشتہ 74 سالوں میں ہم نے بہت ترقی کی اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کی ہیں، جدید شاہراہوں کو بنایا گیا، دنیا بھر میں ہونے والی ہر جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا مگر اگر نہیں کی تو انسان سازی نہیں کی، سماج میں مذہبی رواداری کو فروغ نہیں دیا، کتب خانے تباہ کیے، فنون لطیفہ کی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ حوصلہ شکنی کی جس کا نتیجہ یہ نوشتہ دیوار ہے۔

اس مشتعل ہجوم سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ اس لڑکی نے بھارتی پرچم کیوں پکڑا، پھر اس کے بہانے اس لڑکی کو نوچا گیا جسے بھوکے کتے گوشت پر جھپٹتے ہیں،آج پہلی بار لاھوری ہونے پر شرمندگی ہوئی دوسری طرف تحریک لبیک کے مائنڈ سیٹ سے ایک مجسمہ برداشت نہیں ہوا اور اس کا مذہب خطرے میں پڑتا نظر آیا۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ باریش شخص تاریخ سے نابلد ہو گا اسے پتہ ہی نہیں ہو گا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کون ہے اسکے عہد میں کس قدر شاندار فتوحات ہوئیں اور پنجاب کی سرحد اٹک کو بھی عبور کرگئی ،حرف آخر یہ دونوں واقعات ہمارے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ہیں جس نے ہمارے گالوں کی سرخی میں شرمندگی اور ندامت کو نمایاں کر دیا۔ آج مجھے اردو زبان کا عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو بہت یاد آرہا ہے اور ان کا شہرہ آفاق افسانہ ‘کھول دو’ بار بار پڑھنے کو دل کر رہا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *