Type to search

تجزیہ

شہدائے کربلاء کا پیغام؛ یزیدیت کو شکست دے کر حسینیت کا پرچم بلند کیا جائے

ہر خاص بننے والے دن کی شروعات عام دنوں جیسی ہوتی ہے۔ اسی طرح سورج نکلتا ہے، ستارے غروب ہوتے ہیں چاند ڈھلتا ہے۔ بس یہ واقعات ہوتے ہیں جو عام دن کو خاص بنا کر اسے تاریخ کے صفحے پر امر کر دیتے ہیں۔ 10 محرم الحرام جسے یوم عاشورہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسکی شروعات بھی عام دنوں جیسی ہوئی۔ لیکن یہ اتنا طویل العمر دن ہے جسکی طوالت صدیوں کا سفر طے کرتے ہوئے روز حشر تک قائم رہنی ہے۔ یہ محض اس لئے افضل نہیں کہ اس روز موسیٰ نے فرعون کو شکست دی نہ کہ اس لئے کہ اس روز قیامت آنی ہے۔ قیامت سے پہلے بھی اس روز ایک قیامت گذر چکی ہے۔ یہ قیامت دین کی سر بلندی کے لئے برپا ہوئی۔ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے قائم ہوئی۔ اس روز دو نظریات آمنے سامنے، روبرو بر سر پیکار ہوئے۔ ایک نظریہ جسے حسینؓ کے نظریے کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ دوسرا نظریہ جو اپنی پوری جہالت کے ساتھ یزیدی سوچ کا عکاس ہے۔ امام عالی مقامؓ جنھوں نے دین کی سر بلندی اور باطلی نظریات کے خلاف مظلوموں کی حمایت میں مکہ سے اس سوچ کے ساتھ نکلے کہ اپنے نانا کے دین کی بے حرمتی جو یزید جیسے بدکار شخص کے ہاتھوں ہو رہی تھی اسے مٹا کر پھر سے حق کا سر اونچا کر سکیں۔
کوفے کے لوگ جو امامؓ کو بار بار اپنی مدد کے لئے بلا رہے تھے اپنے پیغامات میں واضح لکھ رہے تھے کہ ہم یزید کی بیعت توڑ کر آپؓ کے مبارک سائے تلے جمع ہونا چاہتے ہیں۔ یزید جو قاتل ہے اعلیٰ اشخاص کا، جسکے افکار بدعتانہ ہیں، شراب کو حلال سمجھتا ہے۔ مظلوموں کی داد رسی کرنے کی بجائے انھیں اپنے تکبر کے پاؤں تلے روندتا ہے۔ بے شک ہم آپؓ کے ذریعے ہی حق پر پہنچیں گے اور آپؓ ہی کے دم سے فلاح پائیں گے۔ یہ وہ پیغامات تھے جو مولاؓ جیسی صابر ہستی کو محبوب مکہ چھوڑنے پر مجبور کر رہے تھے کہ یزید کے گمراہ کن نظریات کا بوجھ پوری امت مسلمہ کو نہ اٹھانا پڑ جائے۔
مسلم بن عقیلؓ جو آپ کے قریبی قرابت دار تھے انھیں اس سوچ کے تحت کوفے روانہ کیا کہ وہاں کے حالات کی خبر لائیں۔ کچھ عرصے بعد یزید کے عقائد اور کوفیوں کی مظلومیت کا ایک خط مولاؓ کو موصول ہوا جس میں لکھا تھا کہ اہل کوفہ کے ہزاروں افراد نے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اور منتظر ہیں کہ آپؓ آئیں اور ہمیں یزید جیسی نجاست سے نجات دلائیں۔ امامؓ مکہ سے کوفہ روانہ ہوئے کہ راستے میں یہ اندوہ ناک خبر ملی کہ یزیدی گورنر ابن زیاد نے مسلم بن عقیلؓ کو شہید کر دیا ہے۔ یہ سانحہ امام پاک کے لئے بہت اذیت کا باعث بنا۔ امام پاکؓ نے آگے کے لائحہ عمل کے واسطے اپنے قریبی ساتھیوں اور گھرانے سے مشاورت کی اور باہمی صلاح سے یہ طے پایا اب پیچھے ہٹنا کسی صورت مناسب نہیں جبکہ ہمارے بھائی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا ہے۔
اسی اثنا میں ایک کوفی لشکر انھیں ملا جسے امام پاکؓ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ لیکن یہ لشکر کوفہ مزاج دغابازی کا مظہر تھا جس نے آپؓ کے اس سوال کہ “میں تو اہل کوفہ کے خطوں کی وجہ سے آیا ہوں” کے جواب میں کہا “ہمیں تو کسی خط کا کوئی علم نہیں”۔ یہ سن کر مولاؓ اس سر زمیں کی طرف روانہ ہوئے جس کے دامن میں سچ اور جھوٹ کی وہ خونریز جنگ لڑی جانے والی تھی جس نے قیامت تک دین اسلام کو عظمت کی بلندی کا درس پڑھا دیا۔ یہ زمیں کربلا کی تھی جہاں مولاؓ کے 45 گھڑ سواروں اور 100 پیادہ لوگوں نے خیمہ زنی کی۔
سرزمیں کربلا کی طرف روانہ ہونے سے قبل آپؓ نے اپنے رفقا سے کہا کہ آپ چلے جائیں۔ یزیدی لشکر میرے خون کا پیاسا ہے۔ آپ لوگ خود کو ناحق قتل ہونے سے بچا لیں۔ اگر اب نہیں جانا تو جب دن کی روشنی اندھیروں کے لشکر سے شکست کھا جائے، شام کے سائے گہرے ہو جائیں اور تاریکی راج کرنے کے لئے اپنا قلمدان سنبھالے تو اس وقت آپ یہاں سے واپس لوٹ جائیں۔ مجھے آپ سے کوئی گلہ  نہ ہوگا۔ لیکن سلام آپؓ کے رفقاء کے جذبہء ایمانی پر جو ایک انچ بھی آپؓ کا ساتھ چھوڑنے پر رضا مند نہ ہوئے اور تاریخ میں حسینؓ کے جانثاروں کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئے۔ جسم جو فانی ہے اسے مٹنا ہے جذبے لافانی ہیں آب حیات کی گھٹی چکھے ہوئے انھیں موت قیامت تک نہیں آسکتی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قیامت تک ہمارے سینوں میں ایمان کی شمع جلاتے رہیں گے۔
جب یزیدی فوج امامؓ اور دریائے فرات کے درمیان حائل ہوئی تو مولاؓ نے کہا کہ کیا تم لوگ مجھے نہیں جانتے میں کون ہوں؟ کیا تمہارا مجھے قتل کرنا کسی بھی رو سے جائز ہے؟ کیا میرا خون تمہارے لیے حلال ہے جبکہ میں تمہارے نبیﷺ کا نواسہ ہوں۔ علیؓ بن ابی طالبؓ کا بیٹا ہوں۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہم جنت کے سردار ہیں۔ یہ باتیں جانتے ہو تو ٹھیک۔ اگر تم یہ نہیں جانتے تو کسی جید صحابی سے پوچھ لو۔ تو جواب میں شمر نے کہا کہ اگر یہ سب باتیں ٹھیک بھی ہوں تو ہم ان میں سے ہیں جو پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوئے بلکہ ایک کنارے کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔ مطلب ہم تو مفاد پرست ہیں جہاں مفاد ہو گا اسی کے ساتھ ہیں۔ شمر پلید کا یہ جواب مسلم امہ کے لئے لمحہء فکریہ ہے۔
میدان کربلا میں جو قیامت برپا ہوئی شہزادوں کو جس طرح شہید کیا گیا۔ امامؓ کا سر مبارک ایک ہزار درہم کی لالچ میں کاٹا گیا، انکے پاک جسم کو جو حضور پر نور کی سواری کبھی کرتا تھا اسے گھوڑوں کے نیچے روندا گیا۔ پاک گھرانے کی جو بے حرمتی اللہ کا نام لینے والوں نے کی دنیا کے کسی بھی قلم کار کی ہمت نہیں کہ وہ اس عظیم سانحے کا نقشہ کھینچ سکے۔ وہ ہونٹ جو حضورﷺ کے ہونٹوں سے مس ہوئے، وہ گال جو حضورﷺ چوما کرتے تھے ان پر ابن زیاد اور پھر یزید نے چھڑیوں سے کچوکے لگائے۔ اور آپؓ کے حسن کے بارے نازیبا کلمات کہے۔ روایت ہےکہ سب سے پہلے لکڑی کی سولی پر امام پاکؓ کا سر مبارک چڑھایا گیا۔ یزید اگر چاہتا تو آپؓ کے مبارک سر کو کفن دے کر دفنا سکتا تھا۔ لیکن خدا کی لعنت اس بات پر زور دے رہی تھی کہ یہ لوگ اپنی خباثت میں جس حد تک جا سکتے ہیں جائیں۔ خدا جانتا تھا کہ آنے والی سب صدیاں حسینؓ کی ہیں۔ اور یزید اپنے انجام کو اب پہنچ چکا۔ تا قیامت اس پر عرش و فرش سے لعنت ہی لعنت برستی رہے گی۔
محمداہ! آپ کا نواسہ خون میں لتھڑا بے گور و کفن پڑا ہے۔ جسم بوٹی بوٹی ہو چکا ہے محمداہ! آپ کی ذریت آپ کی عزت قتل کر دی گئی۔ اور ہوا ان پر مٹی اڑا کر ریت کا کفن دے رہی ہے۔ محمداہ! آپ کی بیٹیاں قید کر دی گئیں۔ محمداہ تیری امت نے تیری آل کے ساتھ کیا کر دیا”۔ نبوت کے سائے میں پلنے والی اور باب علم کے خون سے پرورش پانے والی سیدہ زینبؓ کی یہ فریاد عرش تک ہلا گئی۔ امام کی شہادت کے بعد جو سیدہ زینبؓ کے پاک ہونٹوں پر فریاد تھی وہ اس قدر آہ سے پر تھی کہ اپنے پرائے سبھی رو پڑے۔ تاریخ محمداہ کا ترجمہ کرنے سے قاصر ہے۔ یہ وہ نوحہ ہے جسکا کوئی بھی جابر ہو یا درد دل رکھنے والا کوئی بھی ذی روح ایسا نہیں کہ وہ محمداہ کو کسی ترجمے سے روشناس کرا سکے۔ یہ وہ فریاد تھی جو انھوں نے اپنے نانا “رحمتہ اللعالمینﷺ” سے کی۔ وہ اونٹ جس پر امامؓ اور انکے رفقاءؓ کے سر رکھ کر کوفہ لائے گئے اس اونٹ کو ذبح کیا گیا تو اس کا گوشت اس قدر کڑوا تھا کہ کسی سے بھی نہ کھایا جا سکا۔
مولاؓ کا مقام یہ نہیں کہ انھیں رو کر صرف خراج تحسین پیش کیا جائے۔ بلکہ انکی شہادت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر دور میں یزیدی سوچ کو شکست دے کر حسینؓ کی سوچ کا پرچم بلند کیا جائے۔ قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آنے والا ہمارا ملک آج کیوں ابتری کا شکار ہے۔ یزید بھی طاقت کے نشے میں غرق عوامی شعور اور انکے مسائل سے نابلد تھا۔ اس نے حضورﷺ کے احکامات سے رو گردانی کی تو اللہ نے اس کو قیامت تک کے لئے ذلیل کر دیا۔ میری حکمرانوں سے استدعا ہے کہ وہ حسینؓ کی سوچ کو اپنے منصب کا حصہ بنا کر مخلوق خدا کی داد رسی کریں۔ انھیں فلاح دیں۔ نہیں تو تاریخ حسینؓ کی عظمت کے اوراق سے بھی معطر ہے اور یزید کی ذلت بھری زندگی کی بھی گواہ ہے۔ مولاؓ کے نقش قدم پر چل کر تاریخ لکھنی ہے یا مؤخر الذکر کے قبیلے سے جڑ کر اپنی عاقبت خراب کرنی ہے۔ فیصلہ آپ کا ہے۔
Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *