Type to search

تجزیہ سیاست

نواز شریف کی جیل، اور پنجاب کے سیاسی ‘گدھے’

حسب روایت ایک سابق وزیراعظم اور مقبول رہنما اور اس کی بیٹی کو زندان میں پھینک دیا گیا۔ اور بالآخر ایک اور منتخب سیاسی رہنما اور اس کی بیٹی نے قانون کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے گرفتاری دے دی۔ نواز شریف اور مریم نواز کی لاہور آمد پر جس بدترین ریاستی جبر کا مظاہرہ کیا گیا اس کو پوری دنیا نے دیکھا۔ لاہور شہر ایک مقبوضہ علاقے کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں کینٹینرز، پولیس اور رینجرز کی مدد سے بدحواس انتظامیہ نے مسلم لیگ نواز کی استقبالیہ ریلی کو کامیاب بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ رہی سہی کثر میڈیا بلیک آوٹ اور موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بند کرنے سے پوری ہو گئی۔

‘اے شہر تیرے اہل قلم بے ضمیر ہیں’

ان تمام نامساعد حالات کے باوجود مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کا ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا مسلم لیگ نواز اور اس کی مستقبل کی مزاحمتی سیاست کے لئے ایک خوش کن پہلو ہے۔ مین سٹریم میڈیا نے جس قدر بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کی ریلیوں کی براہ راست کوریج نہ کرنے کا فیصلہ کیا اس کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اب شعبہ صحافت نے نڈر اور بےباک تجزیہ نگار اور صحافی پیدا کرنا بند کر دیے ہیں۔ صحافت کا شعبہ سچ کا متقاضی ہوتا ہے اور جن لوگوں میں سچ بولنے یا لکھنے کی قیمت چکانے کا حوصلہ موجود نہ ہو تو صحافت کے شعبے کو اپنانے کی بجائے انہیں کہیں منشی گیری اختیار کر لینی چاہیے۔ ایسے ہی نام نہاد صحافیوں اور قلم کاروں کے بارے میں جون ایلیا نے فرمایا تھا کہ ‘اے شہر تیرے اہل قلم بے ضمیر ہیں’۔

احتساب کا سلسلہ چل ہی نکلا ہے تو لگے ہاتھوں مشرّف پر مقدمات بھی ختم کروا ہی لیں

خیر اب جب نواز شریف اور مریم نواز دونوں کو ہی پابند سلاسل کیا جا چکا ہے اور اپنے لاڈلے عمران نیازی کی جیت کا راستہ ہموار بھی کیا جا چکا ہے اور اناؤں کی تسکین بھی حاصل کی جا چکی ہے تو ایسے میں لگے ہاتھوں مفرور مجرم جنرل پرویز مشرف کی بہادری کا لٹمس ٹیسٹ لینے کا بھی نادر موقع ہے۔ ایک ایسا وقت جس میں نگرانوں سے لے کر منصفوں تک سب ‘اپنے’ ہیں، پرویز مشرف کو وطن بلوا کر راؤ انوار کی مانند باآسانی ضمانت دلوا کر کچھ عرصے میں اس پر قائم شدہ مقدمات بھی ختم کیے جا سکتے ہیں۔ لگے ہاتھوں ‘اپنوں’ کی زیر نگرانی پاکستان کے مستقبل کے متوقع وزیر اعظم کا ڈوپ ٹیسٹ لے کر اس پر کوکین استعمال کرنے کے الزام کو بھی غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔ احتساب کا سلسلہ چل ہی نکلا ہے تو ملک ریاض اور دیگر من پسند افراد کے کیسز بھی باآسانی من پسند احتساب کے زریعے ختم کروائے جا سکتے ہیں۔

عوامی تائید کا وزن ہر شے پر بھاری ہوتا ہے

دوسری جانب نواز شریف اور مریم نواز کو سبق سکھانے کے لئے اڈیالہ جیل میں جو اہتمام کیا گیا ہے اس کو دیکھ کر باآسانی ایک عوامی سیاسی رہنما اور اس ملک میں جمہوری بالادستی کا خواب دیکھنے والوں کی اوقات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ جو رویہ نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ جہاز سے اترتے وقت اپنایا گیا اور ان کے معالج تک کو دھکے دیے گئے، اس سے ثابت ہوا کہ کچھ بھی ہو عوامی تائید کا وزن ہر شے پر اس قدر بھاری ہوتا ہے کہ خوف اور دباؤ میں آ کر عوامی نمائندوں کی تذلیل کر کے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

نواز شریف جو کہ ملک کا تین دفعہ منتخب وزیراعظم رہ چکا ہے، اسے جیل کی کوٹھڑی میں فرش پر ایک گدے پر سلایا جا رہا ہے۔ خستہ حال کوٹھڑی اور اس سے ملحق غلیظ ترین بیت الخلا اسے اس کی اوقات یاد دلوا رہا ہے۔ جبکہ مریم نواز نے بذات خود کسی بھی قسم کی سہولت لینے سے انکار کرتے ہوئے عام قیدیوں کی مانند رہنے کو ترجیح دی ہے۔ مریم نواز اعصابی طور پر نادیدہ قوتوں کو ابھی تک واضح شکست دیتی دکھائی دے رہی ہیں۔ خیر، نواز شریف اور مریم نواز کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرتے دیکھ کر مفرور جرنیل پرویز مشرف کو شاید آئینے میں اپنے آپ سے آنکھیں ملانے کا حوصلہ بھی پیدا نہیں ہوتا ہو گا۔

نہ تو میڈیا پر نواز شریف اور مریم نواز نظر آئیں گے، نہ بہادر جرنیل کو سبکی کا سامنا ہوگا

شاید اسی لئے میڈیا کو نواز شریف اور مریم نواز سے مکمل دور رکھنے کی حکمت عملی بھی ترتیب دی گئی ہے۔ نواز شریف اور مریم پر دیگر مقدمات جیل کے اندر ہی چلائے جائیں گے تاکہ میڈیا کسی بھی طور ان دونوں کی تصاویر یا فوٹیج نشر نہ کرنے پائے۔ یوں نہ ہو گا بانس اور نہ بجے گی بانسری کے مصداق نہ تو میڈیا پر نواز شریف اور مریم نواز نظر آئیں گے اور نہ ہی پرویز مشرف اور اس جیسے دیگر ملزمان کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جلد ہی ہم بھارت کے دانت کھٹے کرتے ہوئے لال قلعے پر اپنا پرچم لہرا دیں گے

اب جبکہ گاڈ فادر اور سیسیلین مافیا جیل میں جا چکا ہے تو قوی امید کی جا سکتی ہے کہ وطن عزیز میں کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مودی کا یار چونکہ جیل بھیجا جا چکا ہے اس لئے شاید جلد ہی ہم بھارت کے دانت کھٹے کرتے ہوئے لال قلعے پر اپنا پرچم لہرا دیں گے جبکہ اففانستان ہمارے قدم چومنے کے لئے تیار بیٹھا ہو گا۔ قوی امید ہے کہ فرشتہ صفت عمران خان اقتدار میں آتے ہی دودھ اور شہر کی نہریں وطن عزیز میں بہا دیں گے اور اپنے آس پاس کھڑے بے ایمان لوگوں کے علاوہ تمام بے ایمان لوگوں کو پھانسی پر چڑھا دیں گے۔ جلد ہی امریکہ اور برطانیہ کے لوگ دس کروڑ نوکریوں میں سے چند نوکریاں ڈھونڈنے پاکستان آئیں گے اور پوری دنیا ہماری اعلیٰ عدلیہ سے ڈیمز بنانے کے نسخہ کیمیا کی بھیک مانگتی دکھائی دے گی۔

عمران خان کی اخلاقی لغت، اور ‘گدھے’

شیخ رشید اور عمران خان کی شائستہ اور تہذیبی گفتگو کو نصاب میں شامل کرتے ہوئے معاشرے کی اخلاقی تربیت کا بھی بندوبست کر دیا جائے گا۔ البتہ کرپٹ لیڈرز کے بیانئے کو ماننے والی عوام کا ایک بڑا حصہ جو بقول عمران خان کی اخلاقی لغت کے مطابق ‘گدھوں’ پر مبنی ہے ووٹ پھر بھی نواز شریف کی جماعت کو ہی دے گا۔ بات اب کچھ یوں ہے کہ آئندہ انتخابات میں نواز شریف کو پڑنے والا ہر ووٹ اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہو گا اور یہ ایک ایک ووٹ کانٹوں کی مانند ان قوتوں کو چبھے گا جنہوں نے وسیع ترین ملکی مفاد میں اضافی ذمہ داری لیتے ہوئے سیاست کے میدان میں عمران خان جیسی کٹھ پتلی کو لانچ کیا اور سسلین مافیا کو جیل بھیجا۔

اجتماعی بے وقوفانہ شعور کو ہرگز بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا

یہ انتہائی زیادتی ہے کہ پنجاب کی عوام کی اکثریت آج بھی نہ تو ان قوتوں کی پس پردہ خدمات کا اعتراف کرتی ہے اور نہ ہی نواز شریف اور مریم نواز پر چلنے والے مقدمات کو انتقامی کارروائی کے بجائے انصاف پر مبنی ٹرائل قرار دیتی ہے۔ ایسی نافرمان عوام کے حصے کو اور ان کے اجتماعی بے وقوفانہ شعور کو ہرگز بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لئے اس بات کو ممکن بنایا جانا بے حد ضروری ہے کہ انتخابات کے نتائج وسیع ترین قومی مفاد میں عمران خان اور ہمنواؤں کے حق میں ہی آئیں۔

مناسب ہو گا کہ پچیس جولائی سے پہلے ہی نتائج سنوا کر عمران خان کی فتح کے شادیانے بجوا دیے جائیں

آخر اتنی تگ و دو کے بعد وسیع ترین قومی مفاد میں عمران خان اور شیخ رشید کے تعاون سے ایک ایسی نسل تیار کروائی گئی ہے جو پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کی ہئیت اور اسرار و رموز سے نابلد دشنام طرازیوں اور بڑھکوں کے سہارے آنکھیں بند کر کے مطالعہ پاکستان کے لکھے کو حرف آخر مانتی ہے۔ ایسی ذہین ترین نسل کو ایک عظیم رہنما عمران خان کی جیت کا تحفہ نہ دے پانا یقیناً ایک زیادتی ہے، اس لئے مناسب ہو گا کہ پچیس جولائی سے پہلے ہی نتائج سنوا کر عمران خان کی فتح کے شادیانے بجوا دیے جائیں۔

جنہیں 350 ڈیم نظر نہیں آئے انہیں دودھ اور شہد کی نہریں بھی نظر نہیں آئیں گی

رہی بات سسلین مافیا نواز شریف اور مریم نواز اور اور جمہوری بالادستی کے خواب دیکھنے والوں کی، تو ایسے عقل کے اندھے افراد کو جیسے خیبر پختونخوا میں بنے 350 ڈیمز اور اربوں درخت نظر نہیں آئے تو بھلا نواز شریف کے جیل جانے کے بعد ا نہیں دودھ اور شہد کی بہتی ندیاں کیسے نظر آ سکتی ہیں؟ باقی چڑھتے سورج کے پجاریوں سیاست دانوں اور قصیدہ خوان صحافیوں کے بارے میں جون ایلیا نے کہا تھا کہ،

باطل پرست، حرف انالحق کے سود خوار
ہم بیچ کھائیں سرمد و منصور کے مزار
بعد از وقوع واقعہ سینہ زنی میں طاق
پرسہ جو دو تو سارے زمانے کے سوگوار

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *