Type to search

سیاست عوام کی آواز

بلاول نہ تو ہمارے کلچر سے آگاہ ہے اور نہ ہی مرد ہے

سیاسی بازار گرم ہے۔ ہر طرف الیکشن کمپین چل رہی ہے۔ کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ۔ ایسے میں دو آوازیں ایسی بھی ہیں جنہیں چپ کرا دیا گیا لیکن چلیے جانے دیجئے۔ ہمیں بھی اپنی سلامتی عزیز ہے اور آپ کو بھی۔ کیا صحیح ہوا کیا غلط اس سے ہمارا کیا لینا دینا؟ ٹی وی چینلز کی بھی خوب چاندی ہے۔ نہ نہ کرتے بھی بہت مواد ہے چلانے کو اور بیچنے کو۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے پرویز اور ایاز

باوجود صحافتی ذمہ داریوں کے ہم ٹیلی وژن چینلوں سے دور ہی بھاگتے ہیں۔ اس قدر طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ ہمارا تو سر دکھنے لگتا ہے۔ جب کوئی دلیل نہ بچے تو آوازیں بلند ہو جاتی ہیں۔ ایک وقت میں دل کھول کر گالم گلوچ ہوتی ہے تو دوسرے وقت میں عورتوں اور غیرت کے نام پر ایک دوسرے کو للکارا جاتا ہے۔ اوئے تم یہ، میں وہ، تمہاری بہن، تمہاری ماں۔ جی آخر یہ رشتے گالیاں ہی تو ہیں۔ کسی بھی قسم کے اختلاف رائے کی صورت میں یہی سننے کو ملے گا۔

اس کار خیر میں کوئی پیچھے نہیں رہتا۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے پرویز اور ایاز۔

نئے پاکستان کے علمبردار عمران خان کبھی کسی کی ماں بہن کا تذکرہ نہیں کرتے لیکن ان کا جوان خون عمومی لعن طعن سے باز نہیں آتا۔ آخر کو مرد ہیں۔ غصہ آ ہی جاتا ہے۔

مرد ایسے تھوڑی ہوتے ہیں

اسی ریلے میں ایک نوجوان ایسا بھی ہے جو عمر میں بھی سب سے چھوٹا ہے اور اس گالم گلوچ کے کلچر سے بھی ناواقف ہے۔ اسی لئے اسے کھسرا اور زنخا جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ مرد ایسے تھوڑی ہوتے ہیں۔ جی بلاول بھٹو زرداری کا تذکرہ ہے۔ اس پر سب سے بڑا اعتراض موروثیت کا ہے یا مردانگی کا۔ یہ ہم نہیں جانتے۔ اس بات پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس کو ہمارے کلچر کا کچھ نہیں پتہ۔ یہ کیا ملک سنبھالے گا۔ بات تو ٹھیک ہے۔ یہ کام تو انہی مردوں کا ہے جو اس بدتمیزی اور بے حسی کے کلچر سے واقف ہوں۔ ہر دم مسکراتا اور عام لوگوں کے گلے لگتا بلاول مرد کیسے ہو سکتا ہے؟ چہرے پر کرختگی سجائے اور ورکروں کو دھکے دے تو بات بنے۔

شاید زرداری صاحب اسے ‘سیاست’ سکھانا چاہتے تھے اور یہ سیکھنے پر کسی طور آمادہ نہیں تھا

بینظیر بھٹو کے اس ثپوت کو سیاست پھولوں کی سیج نہیں ملی۔ انیس سال کی عمر میں ماں کی اندوہناک موت کے بعد اس پر جو ذمہ داری آن پڑی یہ کبھی اس میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ یہ وہی بچہ تھا جو کبھی ماں کے ساتھ وزیر اعظم محل میں کھیلتا پھرتا تھا اور کبھی اسی ماں کے ساتھ باپ کو ملنے کے لئے نیکر بوٹ پہنے جیلوں کے چکر کاٹتا تھا۔

بلاول کی اپنے والد آصف علی زرداری کے ساتھ چپقلشوں کی خبریں بھی منظر عام پر آتی رہیں۔ شاید وہ اسے ‘سیاست’ سکھانا چاہتے تھے اور یہ سیکھنے پر کسی طور آمادہ نہیں تھا۔

حالات کی ستم ظریفی جنہوں نے اس سے اس کی ماں اور لڑکپن چھین لیا مگر اس کی شخصیت کو تلخ نہ کر پائے

ابھی بھی کبھی انڈین میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کسی صورت ملک کی حکومت کے خلاف بات کرتا نظر نہیں آتا۔ ہندوؤں کی خوشیوں میں بھی شریک ہو جاتا ہے۔ سانحہ بلوچستان کے بعد اپنی سیاسی مہم بند کر دیتا ہے کہ میرا دل نہیں مانتا لوگ یوں جانیں دیں اور میں دلاں تیر بجاں گاتا پھروں۔ اپنے ہی سیاسی مخالف نواز شریف کے ورکروں کی پکڑ دھکڑ پر برسر آواز ہو جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر انٹرویو ہو تو انہیں بھی لاجواب کر دیتا ہے۔ لہجہ ہمیشہ دھیما، چہرہ ہمیشہ متبسم۔ حالات کی ستم ظریفی جنہوں نے اس سے اس کی ماں اور لڑکپن چھین لیا مگر اس کی شخصیت کو تلخ نہ کر پائے۔

https://www.youtube.com/watch?v=EEp7s2-QFLE

واقعی نہ تو یہ کلچر سے آشنا ہے اور نہ ہی مرد ہے

واقعی نہ تو یہ کلچر سے آشنا ہے اور نہ ہی مرد ہے۔ نہ ہمارا کلچر اس شائستگی کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی معاشرے میں مروجہ مردانگی کے معیار۔

ڈر یہی ہے کہ بلاول ہم پرانے پیپلیوں کو واپس پیپلز پارٹی کی طرف نہ موڑ لے۔ جو زخم زرداری صاحب نے دیا کہیں اسے بھرنے نہ کھڑا ہو جائے۔

بھٹو تو مرنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کبھی بیٹی کی شکل میں آ گیا تو کبھی نواسے کی صورت میں۔ ہر دفعہ پہلے سے زیادہ قد آور

یہاں یہ بھی کہے دیتے ہیں کہ اگر پنجاب میں پیپلز پارٹی کا کم بیک ہوا تو یہ بلاول کے ہاتھوں ہی ہو گا۔ بس ان کے بڑوں سے التماس ہے کہ اس سے اپنا ‘دست شفقت’ ہٹا لیں اور میدان بی بی کے اس نونہال کے لئے چھوڑ دیں۔

جب کہیں جیے بھٹو کے نعرے لگتے ہیں اور  پنجاب والے مسکراتے ہیں تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ ہاں بھٹو تو مرنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کبھی بیٹی کی شکل میں آ گیا تو کبھی نواسے کی صورت میں۔ ہر دفعہ پہلے سے زیادہ قد آور۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *