Type to search

خبریں

ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک چند لاکھ لوگوں کا ہے باقی 21 کروڑ اس میں خوامخواہ ہیں، نواز شریف

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا کہ  ‘اس ترانے کی طرح لگتا ہے کہ یہ وطن تمھارا ہے اور ہم تو اس میں خوا مخوا ہیں، یعنی اے چند لاکھ لوگو، یہ وطن تمھارا اور یہ 21 کروڑ ہیں اس میں خواہ مخواہ’۔

حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہے، دنیا کا ایک لیڈر فون کرتا نہیں اور دوسرا سنتا نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘کراچی پاکستان کا دل ہے اور یہاں پورے پاکستان کے یعنی ہر قومیت کے لوگ رہائش پذیر ہیں اور یہ منی پاکستان ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کراچی والو کیا آپ کو معلوم ہے کہ پچھلے تین سال میں پاکستان اور کراچی پر کیا گزری، ایک اچھے بھلے اور خوش حال پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلنے کے لیے 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کی شکل میں ایک سازش رچائی گئی، جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آج پاکستان میں جو بربادی دیکھ رہے ہیں، یہ اسی سازش کا نتیجہ ہے اور اگر یہ سازش نہ ہوتی تو آج پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ خوش حالی کی منزلیں طے کر رہا ہوتا اور آپ کی دہلیز پر خوش حالی دستک دیتی اور آج آپ کو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی فکر نہیں ہوتی’۔

‘نیب پر دباؤ ڈال کر ہمیں سزائیں دلوائی گئیں’

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘کیونکہ آپ کے پاس روزگار ہوتا، سماجی اور معاشی انصاف، عزت اور خود مختاری ہوتی، آٹے، دال اور چینی کے لیے قطاروں میں نہ لگنا پڑتا، یہ اس لیے ہوا کہ آپ کے منتخب وزیراعظم کو نکالنے کے لیے پاناما جیسے ڈرامے رچائے گئے اور عدالتوں سے زبردستی من پسند فیصلے لیے گئے بلکہ فیصلے دلوائے گئے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو، اور خاص کر مجھے اور مریم نواز کو 150 سے زیادہ عدالتی پیشیاں بھگتنی پڑیں، شہباز، شاہد خاقان عباسی اور دیگر ساتھیوں پر ناجائزمقدمے بنائے گئے اور روز عدالتوں میں پیشیاں بھگتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نیب پر دباؤ ڈال کر 10 سال کی ناجائز سزا، مریم کو 7 سال کی سزا دلوائی گئی اور جج نے لکھا کوئی کرپشن نہیں ہے، بس سزا دلوانی تھی لکھ دیا ہے اور ہم سب کو قید و بند میں دھکیلا گیا، ہمارے پارٹی قائدین، شہباز شریف، ہمارے بچوں کو بھی قید میں دھکیلا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جسٹس شوکت صدیقی کو کہا گیا کہ نوازشریف اور مریم نواز کی سزا برقرار رکھو ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی کیا آپ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ الفاظ کس نے کہے اور کون سی دو سال کی محنت ضائع ہونے کا اندیشہ تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ وہی لوگ ہیں جو ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لے کر آئے ہیں، اور 22 کروڑ عوام کے سر پر اس کو مسلط کردیا ہے، سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوا اور آج بھی ہورہا ہے لیکن ہم خاموش ہیں’۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘پھر ہم رونا روتے ہیں ملک ترقی کیوں نہیں کرتا، ملک کیوں پستی کی طرف جارہا ہے، ملک کیوں اور پیچھے دھنستا جا رہا ہے، آٹا، دال، چینی کیوں مہنگی ہوگئی ہیں اور ادویات کیون پہنچ سے دور ہوگئی ہیں اور بجلی کے بلوں نے کمر کیوں توڑ کر رکھ دی ہے، کبھی پوچھا ہے آپ نے؟’۔

‘پاکستان کے وسائل پر چند لوگ قابض ہیں’

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان عالمی تنہائی کا شکار کیوں ہوگیا ہے، کہاں گئی سبز پاسپورٹ کی وہ عزت، کہاں گئی وہ سبز پرچم کی عزت، دنیا کا ایک لیڈر فون نہیں کرتا اور دوسرا لیڈر فون سنتا نہیں ہے’۔

ان کا کہنا تھاکہ ‘معاشرےمیں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے، غریب بیچارا دھکے کھاتا ہے، پاکستان کے 21 کروڑ عوام غریب ہیں اور چند لاکھ لوگ وسائل پر بھی قابض ہیں اور پاکستان کی زمینوں کے بھی مالک بنے ہوئےہیں’۔

نواز شریف نے کہا کہ ‘سرکاری خزانوں سے بڑی بڑی تنخواہیں، مراعات، زندگی بھر پنشنیں، سرکاری پلاٹ اور پرمت لیتے ہیں لیکن 21 کروڑ عوام کا پوچھنے والا کوئی نہیں، ان کے بچوں کے منہ سے اب تو نوالہ بھی چھینتا جا رہا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مراعات یافتہ طبقےکو دیکھیں کہ سرکاری خزانوں کے منہ کھول دیے جاتے ہیں، لوگ خود کشیوں پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن یہ چند لاکھ لوگ آپ کے خون پسینے کی کمائی سے ملک نے جو وسائل بنائے ہیں، یہ سب اس پر قابض ہیں، مجھے تو کبھی لگتا ہے کہ شاید پاکستان اسی طبقے کے لیے بنایا گیا تھا کہ یہ لوگ عیش کریں اور 21 کروڑ عوام دھکے کھائیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس ترانے کی طرح لگتا ہے کہ یہ وطن تمھارا ہے اور ہم تو اس میں خوا مخوا ہیں، یعنی اے چند لاکھ لوگو، یہ وطن تمھارا اور یہ 21 کروڑ ہیں اس میں خواہ مخواہ’۔

‘موجودہ حالات جمہوریت پر شب خون مارنا ہے’

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘یہ ہمارے زوال کے اسباب اور جمہوریت پر شب خون مارنے کا نتیجہ ہیں، ووٹ چوری کرکے عمران خان کو 22 کروڑ عوام کے سر پر بٹھانے کا نتیجہ ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کس سے پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان ترقی کیوں نہیں کر رہا، سب کچھ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، پھر بھی ہم پوچھ رہے ہیں، کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے، کیا آر ٹی ایس بند نہیں کیا گیا، کیا پی ڈی ایم کی جماعتوں کا ووٹ چوری کرکے عمران خان کو نہیں ڈالا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کیا پوری ریاستی مشینری استعمال کرکے عمران خان کو نہیں جیتوایا گیا، اب تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ کس طرح اس ناچیز منتخب وزیراعظم کو سازش کرکے نکالا گیا، جس نے ملک میں لوڈ شیڈنگ ختم کی اور کراچی کی روشنیاں بحال کیں’۔

‘پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کب تک برداشت کرسکتے ہیں’

نواز شریف نے کہا کہ کوئی کب تک عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور پاکستان کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کو برداشت کرسکتا ہے، کوئی کب تک ظلم برداشت کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جن کا کام سیاست کرنا نہیں ہے وہ سیاست کر رہے ہیں، جن کا کام ملک چلانا نہیں وہ حکومت بنا رہے ہیں اور حکومتیں گرا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کے حالات میں خاموشی جرم ہے، میں اور آپ سب اللہ کے حضور جواب دہ ہیں، جب پاکستان پر ایسے حالات آئے تو ہم کیوں خاموش رہے، ‘چند جرنیلوں نے پورے نظام انصاف کو یرغما بنایا ہم خاموش کیوں رہے، چند لوگوں نے نظام کو سبوتاژ کرکے رکھ دیا ہم خاموش کیوں رہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘انصاف پسند اور صاف گو ججوں کے خلاف منصوبے بنے، جعلی مقدمات میں بے گناہوں کو سزائیں دلوائی گئیں، آپ کا ووٹ چوری کیا گیا، آرٹی ایس بند کیا گیا اور کروایا گیا، ریاست کے اوپر ریاست بنائی گئی لیکن ہم خاموش کیوں رہے’۔

‘میری آواز کو بند نہیں کرسکتے یہ ان کی خوش فہمی ہے’

نواز شریف نے کہا کہ ‘ان کو میری باتیں اچھی نہیں لگتی کیونکہ میں سچ بولتا ہوں، میں حق بات کرتا ہوں لہٰذا ان کے اندر میرے باتیں سننے کا حوصلہ نہیں ہے، اس لیے ٹی وی پر بند کردی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایک وہ شخص جو تین مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہو، اس کی آواز بھی بند کردی ہیں لیکن ایسے بند نہیں ہوگی، وہ اپنی خوش فہمی میں ہیں، میری بات اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کے گھر گھر میں پہنچ رہی ہے اور آئندہ دنوں میں اور پہنچے گی، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ حق کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا پھر خاموش رہنے والوں کے ساتھ یا پھر ڈرنے والوں کے ساتھ، یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت آچکا ہے کہ ہم سب فیصلہ کریں کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کس طرح کا پاکستان چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں، اگر ہم سب پاکستان کی تقدیر کو درست سمت میں لے جانے کے لیے کردار ادا کریں توپاکستان کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے، پورے 22 کروڑ کا پاکستان ہے، بہت وقت گزر چکا ہے اور مزید وقت ضائع کرنے کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘کیونکہ آپ کے پاس روزگار ہوتا، سماجی اور معاشی انصاف، عزت اور خود مختاری ہوتی، آٹے، دال اور چینی کے لیے قطاروں میں نہ لگنا پڑتا، یہ اس لیے ہوا کہ آپ کے منتخب وزیراعظم کو نکالنے کے لیے پاناما جیسے ڈرامے رچائے گئے اور عدالتوں سے زبردستی من پسند فیصلے لیے گئے بلکہ فیصلے دلوائے گئے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو، اور خاص کر مجھے اور مریم نواز کو 150 سے زیادہ عدالتی پیشیاں بھگتنی پڑیں، شہباز، شاہد خاقان عباسی اور دیگر ساتھیوں پر ناجائزمقدمے بنائے گئے اور روز عدالتوں میں پیشیاں بھگتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نیب پر دباؤ ڈال کر 10 سال کی ناجائز سزا، مریم کو 7 سال کی سزا دلوائی گئی اور جج نے لکھا کوئی کرپشن نہیں ہے، بس سزا دلوانی تھی لکھ دیا ہے اور ہم سب کو قید و بند میں دھکیلا گیا، ہمارے پارٹی قائدین، شہباز شریف، ہمارے بچوں کو بھی قید میں دھکیلا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘جسٹس شوکت صدیقی کو کہا گیا کہ نوازشریف اور مریم نواز کی سزا برقرار رکھو ورنہ ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی کیا آپ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ الفاظ کس نے کہے اور کون سی دو سال کی محنت ضائع ہونے کا اندیشہ تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ وہی لوگ ہیں جو ووٹ چوری کرکے عمران خان کو لے کر آئے ہیں، اور 22 کروڑ عوام کے سر پر اس کو مسلط کردیا ہے، سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوا اور آج بھی ہورہا ہے لیکن ہم خاموش ہیں’۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘پھر ہم رونا روتے ہیں ملک ترقی کیوں نہیں کرتا، ملک کیوں پستی کی طرف جارہا ہے، ملک کیوں اور پیچھے دھنستا جا رہا ہے، آٹا، دال، چینی کیوں مہنگی ہوگئی ہیں اور ادویات کیون پہنچ سے دور ہوگئی ہیں اور بجلی کے بلوں نے کمر کیوں توڑ کر رکھ دی ہے، کبھی پوچھا ہے آپ نے؟’۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *