Type to search

تجزیہ سیاست

فی الحال نیا پاکستان کے معماروں کو جیت کی مبارکباد

بالآخر شبانہ روز انتھک محنت کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ نے نیا پاکستان تشکیل دے ڈالا۔ جناب عمران خان جلد ہی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے اور شائقین ہمیشہ کی مانند تالیاں بجاتے اور بھنگڑے ڈالتے اپنی اپنی ذاتی اناؤں کی تسکین کے بعد خواب خرگوش میں محو ہو جائیں گے۔ محترم ڈی جی آئی ایس پی آر نے جس قدر عجلت میں ٹویٹ کیا، اس سے اندازہ ہوا کہ نیا پاکستان کو سیمنٹ اور بجری مہیا کرنے والے معمار انتہائی بےتابی سے انتخابی نتائج کے بعد کے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ جس قدر شدید پری پول رگنگ اور اپنے پہلوان کے سب سے تگڑے مخالف پہلوان کو اکھاڑے سے باہر کر کے یہ انتخابی دنگل اپنے نام کروایا گیا ہے، اس کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں مقتدر قوتوں میں اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

یہ نواز شریف اور مریم نواز کی مزاحمتی سیاست کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے

ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو بھلے ہی بلڈوز کر دیا گیا ہو لیکن یہ نعرہ شاید ہماری دفاعی اشرافیہ کی سماعتوں میں زہر بن کر گھلتا ہے۔ اگر اس قدر پری پول رگنگ کے باوجود اور شہباز شریف جیسے مفاہمتی اور موقع پرست رہنما کی موجودگی کے باوجود مسلم لیگ نواز نے 63 کے لگ بھگ قومی اسمبلی کی نشستیں اور 123 کے قریب پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتی ہیں تو شاید یہ نواز شریف اور مریم نواز کی مزاحمتی سیاست کی بدولت ہی ممکن ہو پایا ہے۔ وگرنہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے مسلم لیگ نواز کی لٹیا ڈبونے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی۔

دھاندلی کا شور مچانے سے کہیں بہتر ہے کہ یہ جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھ کر سیاست کا وہی ڈھنگ اختیار کریں

انتخابات میں پری پول رگنگ کے حقائق اپنی جگہ پر لیکن مسلم لیگ نواز اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ جب آپ لاڈلوں کے خلاف میدان میں اترتے ییں تو آپ اقتدار کو قطعاً اپنی سیاست کا محور نہیں بناتے۔ اس لئے دھاندلی کا شور مچانے سے کہیں بہتر ہے کہ یہ جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھ کر سیاست کا وہی ڈھنگ اختیار کریں جو پچھلے پانچ برس میں عمران خان اور ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اپنایا تھا۔ دوسری جانب مسلم لیگ نواز کو اب سول سرچنگ کی ضرورت ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیے پر عمل پیرا ہونے کے لئے اس جماعت کو پرویز رشید، مشاہدالله خان اور خواجہ آصف جیسے رہنماؤں کی اشد ضرورت ہے، نہ کہ شہباز شریف اور مشاہد حسین سید جیسے مفاہمت اور موقع پرست رہنماؤں کی۔ اسی طرح اگر مسلم لیگ نواز کو موجودہ دور میں اپنا بیانیہ مضبوط کرنا ہے تو اسے اپنی مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا ٹیموں کو فوری طور پر بدلنا ہو گا وگرنہ سوشل اور مین سٹریم میڈیا کے یہ سفید ہاتھی بیانئے کے ساتھ ساتھ اس جماعت کے تشخص کو بھی ختم کر دیں گے۔

مسلم لیگ نواز کو اب اپنی صفوں میں نیا خون شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے

کسی بھی تحریک یا جماعت کو زندہ رکھنے کے لئے تازہ خون بے حد ضروری ہوتا ہے اور مسلم لیگ نواز کو اب اپنی صفوں میں نیا خون شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے جو بلا جھجک اور دو ٹوک انداز میں اپنی بات اور پیغام واضح الفاظ میں عوام تک پہنچا سکتا ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سعد رفیق یا دیگر رہنما انتخابات ہارنے کے بعد بھی واضح الفاظ میں ان قوتوں کا نام نہ لیں جو اس سارے کھیل کی ڈوریاں پیچھے سے ہلاتی ہیں اور عوام سے یہ توقع کریں کہ وہ ان کی خاطر ان قوتوں کے نام آشکار کرے یا میدان میں مزاحمت کرے۔

امید ہے بھارت سے دوستی کی خواہش پر عمران کو ‘مودی کا یار’ نہیں کہا جائے گا

خیر مسلم لیگ نواز کا یہ اندرونی معاملہ ہے اور یہ جماعت اس معاملے سے کیسے نمٹتی ہے وہی جانے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے لئے اب اصل امتحان شروع ہوا ہے اور یہ جماعت کس طرح سے اپنے "مہربانوں” کو ناراض نہ کرتے ہوئے اندرونی اور خارجہ محاذ پر گل کھلائے گی یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ امید غالب ہے کہ عمران خان کے ساتھ جلد یا بدیر وہی سلوک نہیں ہو گا جو سابقہ تمام وزرائے اعظم کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ چونکہ "نیا پاکستان” کی بنیادوں میں خاکی رنگ شامل ہے اس لئے دل خوش فہم کو یہ بھی امیدیں ہیں کہ اس نئے پاکستان میں کم سے کم بھارت سے امن کی خواہش پر وزیر اعظم ‘مودی کا یار’ نہیں کہلایا جائے گا اور نہ ہی نئے پاکستان کی حکمران جماعت توہین مذہب کے گناہ کی مرتکب ٹھہرائی جائے گی۔ میڈیا اور سرکاری منشی بھی چڑھتے سورج کو سلام کرنے کی عادت سے مجبور اور ڈنڈے کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی علت میں مبتلا نئے پاکستان کے قصیدے پڑھتے نظر آئیں گے۔ یوں راوی ہر سو چین ہی چین لکھے گا اور نیا پاکستان خاکی گملوں کی کیاریوں میں اگ کر نشو نما پاتا رہے گا۔

وزیر اعظم بننے کی کوشش کی تو نیا پاکستان کی بنیادیں ہلا دی جائیں گی

مزاروں کی کمائی کھانے والے شاہ محمود قریشی اور مشرف دور میں کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑنے والے جہانگیر ترین نئے پاکستان کے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیے جائیں گے۔ ہو سکتا ہے محترم شجاع پاشا کو نیا پاکستان کا خواب دیکھنے کے انعام کے طور پر سرکاری اعزازات اور انعام و اکرام سے بھی نوازا جائے۔ ہاں، جس دن محترم عمران خان کو یہ احساس ہوا کہ وزیراعظم محض فیتے کاٹنے کے لئے نہیں ہوتا اور انہوں نے ذرا سی دیر کے لئے بھی خارجہ امور یا دفاعی امور سے متعلق پالیسیاں مرتب کرنے کا سوچا تو اسی وقت نیا پاکستان کی بنیادیں ہلا دی جائیں گی اور جھٹ سے نیا پاکستان کو وطن عزیز کے لئے سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے واپس پرانے پاکستان کو پردہ سکرین پر پیش کر دیا جائے گا۔

عمران خان اسی تنخواہ پر کام کرنے کو ترجیح دیں گے

امید ہے کہ سابق وزرائے اعظم کا حشر دیکھتے ہوئے عمران خان اسی تنخواہ پر کام کرنے کو ترجیح دیں گے جس پر شوکت عزیز اور چوہدری برادران کام کرتے رہے۔ نیا پاکستان کے اصل معماروں کو فتح کا جشن مبارک ہو کہ ایک مقبول عوامی رہنما کو کال کوٹھڑی میں بھیج کر اور اسے غدار اور چور قرار دے کر ایک دوسرے عوامی رہنما کے کندھے استعمال کر کے "سٹیٹس کو” کو بچا لیا گیا۔ تاریخ اور معروضی حقائق سے نابلد ایک اچھی خاصی تعداد ایسی نسل کی بھی تیار کر لی گئی جو من و عن نفرتوں کی امین بن کر ایک مخصوص پراپیگینڈے پر سو فیصد ایمان رکھتی ہے اور مقدس گائے سے سوالات پوچھنے کو گناہ عظیم تصور کرتی ہے۔

فی الحال نیا پاکستان کے معماروں کو جیت کی مبارکباد

یہ مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیا پاکستان کے معماروں کو یہ یاد دہانی بھی کروانی ضروری ہے کہ عوام کی ہی ایک اچھی خاصی تعداد اب فاطمہ جناح سے شروع ہو کر اس نئے پاکستان تک کے کھیلے جانے والے کھیل سے نہ صرف بیزار ہے بلکہ شدید نفرت بھی کرتی ہے۔ خیر، جشن کے موقع پر اس طرح کی باتیں اچھی نہیں لگتیں اس لئے فی الحال نیا پاکستان کے اصل معماروں کو جیت کی مبارکباد کہ بالآخر پرانی ریت کو قائم رکھتے ہوئے ایک بار پھر فریکچرڈ مینڈیٹ کے سہارے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے گئے ہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *