Type to search

سیاست فیچر

مشرّف کا دور آمریت، قسط 2: مشرّف کابینہ، ن لیگ میں ٹوٹ پھوٹ، اور اے آر ڈی کی تشکیل

  • 3
    Shares

مشرف نے حکومت پر قبضے کے بعد 16 نومبر 2000 کو احتساب کی نیت سے نیب نامی ادارہ قائم کیا تھا۔ اس ادارے کو بعدازاں سیاست دانوں کی ڈرائی کلیننگ کے لئے استعمال کیا گیا۔

مشرف نے اپنی کتاب میں نیب کے متعلق لکھا: "میں نے امیر اور طاقتور افراد میں خوف خدا پیدا کرنے کے لئے نیب قائم کی۔ اس ضمن میں ایک خصوصی نیب آرڈیننس بھی پاس کیا گیا تاکہ ادارہ خود مختاری اور آزادی سے کام کر سکے۔”


پہلی قسط یہاں پڑھیے: مشرّف کا دور آمریت، قسط 1: پیپلز پارٹی کی خوش فہمیاں، کلثوم نواز کی لازوال جدوجہد، اور بھارتی طیارہ ہائی جیک


‘نیب کو نہ روکا گیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا’

نیب کے ابتدائی دنوں کے متعلق جنرل شاہد عزیز نے لکھا: "کرپشن کے خاتمے کے لئے نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) کھڑا کیا گیا اور ایک سخت قانون بنا، جو نہایت مؤثر تھا۔ شروع میں نیب کی کارروائی تیز تھی، لوٹے ہوئے اربوں روپے واپس آئے۔ پھر کچھ ہی عرصے میں شوکت عزیز صاحب کا محکمہ پریشان ہونے لگا۔ کہنے لگا کہ سارا پیسہ ملک سے باہر جا رہا ہے، اگر نیب کو نہ روکا گیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ پیسے والوں سے یہ پوچھنا چھوڑ دیں کہ اتنی دولت کہاں سے کمائی۔ اس خوف سے لوگ فیصلے کرنے سے گھبراتے ہیں اور یوں حکومت کا کاروبار نہیں چل سکتا۔ اس طرح حکومت کا کام رک جائے گا اور معیشت ڈوب جائے گی جس کی وجہ سے عوام ہی خسارے میں رہیں گے، غریب کا نقصان ہو گا۔ نیب کے سربراہ جنرل امجد کو ہٹا دیا گیا۔ سب نے سکھ کا سانس لیا۔”

‘شوکت عزیز کو منتخب اس لئے کیا کہ اس کا تعلق میری طرح ایک مڈل کلاس خاندان سے تھا’

مشرف حکومت کی ابتدائی کابینہ کی تیاری کے متعلق مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا (ترجمہ): "کابینہ میں شمولیت کے لئے ہم نے نیک نامی اور بہترین ساکھ کو معیار بنایا۔ میں نے کابینہ کی تیاری کے لئے فوجی افسروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور پھر ہر وزارت کے لئے کم از کم تین افراد کی فہرست ترتیب دی”۔

مزید لکھتے ہیں (ترجمہ): "میں نے ان سب لوگوں کا ذاتی طور پر انٹرویو کیا اور پھر فیصلہ کیا۔ اس وقت ملک کے لئے سب سے اہم وزارت، وزارت خزانہ تھی اور اس کے لئے میں نے شوکت عزیز کو منتخب کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شوکت عزیز کا تعلق میری طرح ایک مڈل کلاس خاندان سے تھا۔”

‘یوں لگتا جیسے چناؤ انٹرویو سے پہلے ہی ہو چکا ہے، صرف شکل دیکھنی ہے’

جنرل شاہد عزیز، مشرف کی بنائی کمیٹی میں شامل تھے۔ انہوں نے اس موقعے کے متعلق لکھا: "کیبنٹ کے لئے انٹرویو میرے لئے عجب سا تماشہ تھے۔ اچانک فون آتا کہ آ جاؤ۔ جنرل عزیز کے دفتر میں جنرل احسان عام طور پر پہلے ہی موجود ہوتے۔ جو لوگ آرہے ہوتے، ان کے بارے میں معلومات بتاتے۔ پھر کچھ لوگ آتے تو ہم ان سے یوں ہی ادھر ادھر کے سوال پوچھتے۔ جب میں نے جاننا چاہا کہ یہ نام کیسے چنے جاتے ہیں تو بتایا گیا کہ ایک لمبی فہرست ہے، جنرل احسان مختلف جگہوں سے نام تلاش کرتے ہیں، پھر ان کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں، پھر کچھ کا چناؤ کر کے انٹرویو کے لئے بلوایا جاتا ہے۔ کبھی یوں لگتا جیسے چناؤ انٹرویو سے پہلے ہی ہو چکا ہے، صرف شکل دیکھنی ہے، یا یوں ہی کارروائی پوری کرنی ہے۔ ہماری معیشت اور مالیاتی اداروں سے متعلق جو لوگ آئے، وہ پہلے ہی چنے جا چکے تھے۔ بتایا گیا کہ شوکت عزیز صاحب فنانس منسٹر ہوں گے، انٹرویو نہیں ہو گا۔ پیٹرولیم منسٹری کے لئے بھی چناؤ پہلے کا تھا۔ لیکن سب کو بلایا ضرور گیا کہ دیکھ ہی لیں۔ باقی کارگر جگہوں میں ایک وزیر داخلہ، ایک وزیر اطلاعات اور دفتر خارجہ ہی رہ گئے، جن کا چناؤ بھی اس انٹرویو سلسلے سے باہر ہی ہوا۔ البتہ شوکت عزیز صاحب کے علاوہ سب ہی نے چہرہ کرا لیا۔”

چودھری شجاعت ایسی جگہ جا کر پھنس گئے جہاں سے آج تک واپس نہیں آ سکے

مارچ سنہ 2000 میں مسلم لیگ نواز دو دھڑوں بٹ گئی۔ ایک دھڑا راجہ ظفر الحق کی قیادت میں مشرف حکومت کی بھرپور مخالفت کا حامی تھا اور دوسرا دھڑا اعجاز الحق اور میاں اظہر کے تحت نواز شریف کو ان کے حال پر چھوڑنا چاہتا تھا۔ یہ دھڑے بازی مشرف کے حکومت سنبھالنے کا بعد شروع ہوئی تھی لیکن نواز شریف پر چلنے والے مقدمات کی روشنی میں یہ تفریق عیاں ہو گئی۔ مشرف کی حمایت کرنے والا دھڑا مسلم لیگ (ہم خیال) اور بعد ازاں قائد اعظم (مسلم لیگ ق) کہلایا۔ میاں اظہر اس کے ابتدائی لیڈر تھے۔ بیس نومبر سنہ 2000 کو مسلم لیگ (ہم خیال) کے مسلح کارکنان نے اسلام آباد میں مسلم لیگ ہاؤس پر حملہ کیا اور اس عمارت پر قبٖضہ کر لیا۔ اس حملے کے دوران پولیس نے حملہ آوروں کو روکنے کی بجائے مسلم لیگ ن کے ارکان کو عمارت میں جانے سے روکا۔ اس روز مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ملاقات طے تھی اور انہوں نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ مشرف مخالف مشترکہ سیاسی اتحاد میں شمولیت اختیار کی جائے یا نہیں۔ اس حملے کی وجہ سے یہ میٹنگ کلثوم نواز کی طرف طے پائی اور مشترکہ فیصلہ ہوا کہ اس مجوزہ اتحاد کا حصہ بنا جائے۔ اس ملاقات میں چودھری شجاعت، میاں اظہر اور اعجاز الحق کی پارٹی رکنیت معطل کر دی گئی۔ جاوید ہاشمی کے مطابق "ہم سب چودھری شجاعت کا گھنٹوں انتظار کرتے رہے۔ وہ ایسی جگہ جا کر پھنس گئے جہاں سے آج تک واپس نہیں آ سکے۔ صوبہ سرحد کے سوا ہمارے دفاتر پر حکومتی سرپرستی میں قبضہ کر لیا گیا۔”

حکومتی ایوانوں میں بھونچال آ گیا

تین دسمبر کو ظفر علی شاہ کے گھر ہونے والے اجلاس میں سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا اور اے آر ڈی (ARD) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ بقول جاوید ہاشمی "ظفر علی شاہ کے گھر میں تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا، اے آر ڈی کا قیام عمل میں لایا گیا اور اعلان اسلام آباد جاری کیا گیا۔ اس اعلان میں تمام سیاسی جماعتوں نے قوم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کا اعلان کیا اور 1973 کے آئین کی بحالی تک ایک نکاتی ایجنڈے پر متحدہ کوششوں کا اعلان کیا۔ اے آر ڈی کے قیام سے حکومتی ایوانوں میں بھونچال آگیا۔”

مسلم لیگ ق کی تشکیل

مشرف حکومت نے ادارہ برائے قومی تعمیر نو (National Reconstruction Bureau)  قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے تحت بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا اور دسمبر سنہ 2000 میں بلدیاتی انتخابات شروع ہوئے۔ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروائے گئے تاکہ روایتی جماعتوں کا اثرورسوخ کم کیا جائے۔ مسلم لیگ (ہم خیال) نے انتخابات سے پہلے اپنا نام تبدیل کر کے مسلم لیگ (قائد اعظم) رکھا۔


تیسری قسط یہاں پڑھیے: مشرّف کا دورہ آگرہ، اسامہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی، اور 911


Tags:

3 Comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *