Type to search

سیاست فیچر

غیر ملکی میڈیا عمران خان کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟

2018 کے انتخابات سے پہلے انتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اپنے مخصوص دوٹوک لہجے میں کہا تھا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ سزا یافتہ اور جیل میں قید نواز شریف کی حمایت کر رہی ہے۔ بہت سے مبصرین نے عمران خان کے الفاظ کے انتخاب اور اُس بیانیے پر سوال اٹھایا جو وہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن اب غیر ملکی میڈیا تنظیموں نے بیک زبان پاکستانی انتخابات کو متنازع قرار دے دیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ‘قبل ازانتخاب دھاندلی’، ‘میڈیا پر پابندی’ اور ‘تمام جماعتوں کے لیے یکساں مواقع کا نہ ہونا’ ہی نہیں بلکہ عمران خان کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے انتخابی عمل میں ریاستی اداروں کی مبینہ مداخلت کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی انتخابات میں فرشتوں کی مداخلت: بی بی سی

پاکستان تحریکِ انصاف کی کامیابی پر لکھے گئے زیادہ تر کالم، فیچر اور تجزیے یا تو عمران کو فوج کا ایک مہرہ قرار دیتے ہیں یا اُن پر فوج کی مضبوط پشت پناہی رکھنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس سے ایک طرف تعصب کا تاثر ابھرتا ہے، لیکن اگر حکومت ایسی رپورٹس پر کوئی کارروائی کرے تو اس سے پاکستان میں آزادئ اظہار کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔

اس موضوع پر عالمی جریدوں کی کچھ خبریں اس طرح ہیں:

"عمران خان فوج کی کٹھ پتلی ہیں”، دی آسٹریلین

"تمام انتخابی عمل میں پاکستانی فوج کی انگلیوں کے نشانات دکھائی دیتے ہیں”، واشنگٹن پوسٹ

"پاکستان کا اگلا رہنما طالبان کا ہمدرد ہوگا”، ایڈیٹوریل بورڈ، واشنگٹن پوسٹ

یہ بات قابلِ غور ہے کہ اگرچہ عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور تناؤ کم کرنے کی بات کی لیکن پھر بھی بھارتی میڈیا اُن کے خلاف مہم چلانے سے باز نہ آیا۔

"پاکستانی فوج کے کٹھ پتلی اور دہشتگردوں کے حامی عمران خان پاکستان کے نئے وزیرِ اعظم بن سکتے ہیں۔ کیا اس سے بھارت اور پاکستان میں ایک نئی جنگ شروع ہوجائے گی؟” پوسٹ کارڈ ۔ نیوز

"عمران خان، جو فوج کا مہرہ ہے، کے آنے سے بھارت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا”، سواریا میگزین

دوسری طرف یورپی یونین اور امریکی حکومت نے پاکستانی انتخابات پر تشویش کا اظہار کر دیا ہے۔

"پاکستانی انتخابات میں تمام جماعتوں کو مہم چلانے کے یکساں مواقع حاصل نہ تھے، یورپی یونین” ۔ رائٹرز

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا: "امریکہ یورپی یونین الیکشن آبزرویشن مشن کے نتیجے سے متفق ہے کہ جہاں پاکستانی انتخابات کے لیگل فریم ورک میں کچھ مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، وہاں آزادی اظہار پر پابندی اور یکساں مواقع کے فقدان نے انتخابات کی شفافیت کو دھندلا دیا ہے۔”

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *