Type to search

تجزیہ سیاست

2018 انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کا مستقبل کیا ہے؟

یہ 2014 کی بات ہے۔ جنوبی پنجاب سے ایک بڑا ہی پیارا دوست لاہور آیا ہوا تھا۔ اس کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور آج بھی میاں نواز شریف پر جان نچھاور کرتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی ریلیوں میں کبھی میاں صاحب کی گاڑی چومتا نظر آتا ہے تو کبھی ‘میاں صاحب آئی لو یو’ کے نعرے لگاتا۔ رات کے پچھلے پہر ہم تین لوگ عسکری ولاز میں واقع ایک بنگلے میں اس کے شہر سے تعلق رکھنے والے ایک اور دوست سے ملنے ان کے گھر پہنچے۔ بڑا خوبصورت گھر تھا، ہم ان کے ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھ گئے۔ باتوں کا قصّہ چل نکلا، اور وہ صاحب اپنی میاں نواز شریف کے ساتھ مختلف ملاقاتوں کے احوال سنانے لگے۔

نواز شریف اور شہباز شریف سے ان کی ملاقات ضروری تھی

اسی دوران جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان کے اپنے ایک دوست کا ذکر نکل آیا جن کے والد صاحب نے 1999 میں نواز شریف حکومت ختم ہونے کے بعد مسلم لیگ ن چھوڑ کر مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر لی تھی، اور اب کیونکہ والد صاحب کا انتقال ہو چکا تھا تو فرزند محترم واپس مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے۔ اس حوالے سے نواز شریف اور شہباز شریف سے ان کی ملاقات ضروری تھی، جو کہ بقول ہمارے میزبان کے، انہوں نے ارینج کروا دی۔

آگے کا قصّہ ان کی زبانی سنانے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ زیادہ تر گفتگو پنجابی میں تھی جسے میں یہاں ترجمہ کر رہا ہوں اور کیونکہ ان حضرات میں سے کسی سے بھی اجازت نہیں لی لہٰذا نام بھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا لیکن نام اہم نہیں، اس قصّے سے ملنے والے سبق کو سمجھنا ضروری ہے۔ نام میں کیا رکھا ہے؟

‘میرا دوست خوش ہو گیا’

"لو جی میں اس کو لے کر نواز شریف کے پاس پہنچا۔ میاں صاحب بڑے ہی تپاک سے ملے۔ دوست کے ساتھ گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور اس کو اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد میاں صاحب نے تقریباً 40 منٹ اس نوجوان سے گفتگو کی، گھر والوں کا حال چال پوچھا، والد صاحب کے انتقال پر تعزیت کی، بہت دکھ کا اظہار کیا۔ کہنے لگے، ہم لوگ سعودیہ میں تھے جب آپ کے والد کا سنا، بہت افسوس ہوا، میں لازمی ملنے آتا، جنازے میں بھی شریک ہونا چاہتا تھا۔ مگر بس ہم تو اپنے والد کے جنازے پر بھی نہیں آ سکے تھے۔ آپ کے والد صاحب کے ساتھ بہت اچھی یادیں وابستہ تھیں، وغیرہ وغیرہ۔۔ اس کے بعد انہوں نے نوجوان سے اس کی تعلیم کے بارے میں پوچھا، کاروبار پر گفتگو کرتے رہے، اس کو مسلم لیگ نون میں خوش آمدید کہا اور واپسی پر دروازے تک چھوڑنے کے لئے بھی آئے۔ میرا دوست خوش ہو گیا۔ کہنے لگا یار، ایک دفعہ بھی والد صاحب کے ق لیگ میں شامل ہونے پر کوئی گلہ تو دور کی بات محسوس تک نہیں ہونے دیا کہ انہیں کوئی شکوہ ہے۔”

‘تہاڈے والد صاب نے ساڈے نال چنگی نئیں کیتی’

"خیر، اگلا مرحلہ شہباز شریف سے ملاقات کا تھا۔ لاہور کے ایک بڑے سیاستدان اور کاروباری شخصیت کے گھر پر ان سے ملاقات کا وقت رکھا گیا۔ ہم مقررہ وقت پر پہنچ گئے۔ شہباز شریف وہاں پہلے سے موجود تھے۔ ہمیں دیکھا تو کھڑے ہو کر ملاقات کے لئے ہاتھ بس اتنا بڑھایا کہ دو انگلیوں کے اوپری حصّے میرے دوست کی انگلیوں سے ٹکرائے، اور بیٹھتے ہی بولے، تہاڈے والد ساب نے ساڈے نال چنگی نئیں کیتی (آپ کے والد صاحب نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا)، وہ پارٹی کے بڑوں میں سے تھے، ہم پر برا وقت آتے ہی انہوں نے پارٹی بدل لی۔ ہمیں مشکل وقت میں چھوڑ دیا، وغیرہ وغیرہ۔۔ دس منٹ کی یہ ملاقات دوست کے لئے ختم کرنا مشکل ہو گئی۔ اس کے بعد شہباز صاحب نے بتایا کہ میاں صاحب کی طرح وہ بھی انہیں مسلم لیگ ن میں خوش آمدید کہتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ خدا خدا کر کے ملاقات ختم ہوئی۔ دوست کی شکل دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ شہباز شریف نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔”

"راج نیتی لوگوں کو توڑنے سے نہیں، جوڑنے سے ہوتی ہے”

آپ لوگوں نے امیتابھ بچان کی فلم ‘سرکار’ دیکھی ہے؟ ایک موقع پر جب امیتابھ (سرکار) کا بیٹا ایک لڑکی کے ساتھ بد سلوکی کرتا ہے تو سرکار اس لڑکی سے ملنے کے لئے خود چل کر جاتے ہیں۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، اپنے بیٹے کی طرف سے معافی مانگتے ہیں اور یہ منظر سارا میڈیا دکھاتا ہے جس سے سرکار کے بارے میں ابھرنے والا منفی تاثر زائل ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر سرکار نے ایک جملہ کہا تھا، جو نواز شریف اور شہباز شریف کی شخصیات کا اصل فرق ہے۔ "راج نیتی لوگوں کو توڑنے سے نہیں، جوڑنے سے ہوتی ہے”۔

خود کو میرے دوست کے دوست کی جگہ کھڑا کر کے سوچیے

انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں، الله بہتر جاننے والا ہے، مگر اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن الیکشن ہار چکی ہے اور اس کے جتنے بھی ایم این اے، ایم پی اے ایوان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں وہ بھی گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔ ذرا میرے دوست کے دوست کی کیفیت محسوس کیجئے، خود کو اس کی جگہ کھڑا کر کے سوچیے، کیا آپ شہباز شریف کی قیادت میں کام کرنا چاہیں گے؟ کیا نواز شریف آپ کی اس پارٹی میں رہنے کی واحد وجہ نہیں ہوگی کہ جس کو آپ کے والد نے مشکل وقت میں چھوڑ دیا مگر اس نے آپ سے ملاقات کے وقت آپ کے والد کی غلطی کے لئے آپ کو شرمندہ کرنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی؟

میں ہوتا تو میں کیا کرتا؟

میں اگر اس کی جگہ ہوتا تو میرے دماغ میں دو باتیں چل رہی ہوتیں۔ ‘مجھے عمران خان کے ساتھ چلے جانا چاہیے تھا، ان کا کیا پتہ، کیا بنے گا؟ مگر نواز شریف کو مشکل وقت میں میرے باپ نے چھوڑا تھا، کیا میں بھی چھوڑ دوں؟ لیکن شہباز شریف؟ صدر تو اب یہ ہے۔۔۔۔’

میں مسلم لیگ ن میں رہنے کا فیصلہ بالفرض کر بھی لیتا تو اس کی وجہ بس ایک ہوتی، کہ نواز شریف نے ایک ملاقات میں میرے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تھا۔ اور امید بس ایک ہوتی، کہ کل کو نواز شریف نہ سہی، اس کی بیٹی ہی آ جائے شاید، تب تک تو دیکھتے ہیں۔۔ ابھی فی الحال تو ان کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہو ہی گیا ہوں۔ تیل اور اس کی دھار دیکھتے ہیں، شہباز شریف ہمیشہ کے لئے تھوڑی رہے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *