Type to search

خبریں

بلوچستان: رواں ہفتے کا احوال (29 جولائی تا 4 اگست)

نومنتخب رکن بلوچستان اسمبلی احمد علی کہزاد غیر ملکی ہے، ڈی سی کوئٹہ کی ہائیکورٹ میں رپورٹ

احمد علی کوہزاد خود کوپاکستانی شہری ثابت کرنے میں ناکام رہا، ڈی سی آفس کوئٹہ کے نمائندے کا عدالت میں مؤقف

موصوف کا شناختی کارڈ انتخابات سے قبل نادرا نے بلاک کیا تھا، اس کے باوجود اس نے انتخاب لڑا اور حلقہ پی بی 26 سے جیت گئے

نادرا نے تصدیق کی ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے نومنتخب رکن احمد علی کوہزاد پاکستانی نہیں، انہوں نے نہ صرف ریکارڈ میں جعلسازی کی بلکہ ان کی تاریخ پیدائش والدین کے وفات کے دو سال بعد کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے بلوچستان ہائیکورٹ میں نادرا کی تحقیق پر مشتمل رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ احمد علی کوہزاد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے اور وہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ پر 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 26 سے 5117 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ یہ حلقہ ہزارہ ٹاؤن اور ہزارہ اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد علی ہزارہ کو شناختی کارڈ نادرا نے خفیہ ادارے کی رپورٹ پر منسوخ کیا تھا۔ انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے مرحلے پر احمد علی کوہزاد کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے، کیونکہ احمد علی کوہزاد کی پاکستانی شہریت نادرا نے منسوخ کر دی تھی۔ اس کے باعث ان کا نام الیکشن کمیشن آف پاکستان کے انتخابی فہرست میں بھی موجود نہیں تھا۔ کاغذات مسترد ہونے پر انہوں نے بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت کے دو رکنی بینچ نے انہیں مشروط طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔


بلوچستان میں حکومت سازی کے لئےاے این پی کی جانب سے بی اے پی کی حمایت، اسفندیار نے فیصلے کی توثیق کر دی

مرکزی صدر نے صوبے کے سیاسی صورتحال اور معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سازی میں بی اے پی کی حمایت کی ہے

الیکشن کمیشن جلد از جلد اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات اور خدشات کو دور کر کے ان کی تسلی کے لئے اقدامات اٹھائے، صوبائی ترجمان

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے پارٹی کی صوبائی قیادت کے اس فیصلے کی توثیق کر دی ہے جس کے تحت بلوچستان میں حکومت سازی کے لئے بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا گیا ہے۔ اے این پی مرکز میں اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنی ہے، اور دھاندلی کے خلاف سخت گیر مؤقف اپنایا ہے تاہم بلوچستان میں اس نے ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر رکھا ہے جو مرکز میں حکومت کا حصہ بن رہی ہیں۔ صوبائی صدر اے این پی اصغر اچکزئی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ملکی سطح پر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جو حالات بنتے جارہے ہیں وہ ملک کے استحکام، جمہوری ماحول کے قیام اور سیاسی صورتحال کو سنبھالا دینے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔ الیکشن کمیشن جلد از جلد اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات اور خدشات کو دور کر کے ان کی تسلی کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ اجلاس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ سابق ادوار میں صوبے کے دیرینہ مسائل سے چشم پوشی اختیار کی گئی اور یہاں آباد دوست برادر اقوام پشتون، بلوچ، ہزارہ اور آبادکاروں کے بنیادی انسانی حقوق کو پس پشت ڈالتے ہوئے ذاتی گروہی مفادات کو اولیت دی گئی۔ امن و امان کی مخدوش صورتحال، صوبے کے میگا معاشی منصوبوں بالخصوص سی پیک مغربی روٹ، پانی و بجلی کی قلت، زراعت کی ترقی کو نظراندازکیا گیا، ان محرومیوں کے ازالے کے لئے پارٹی ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی تاکہ سالہا سال سے بڑھتا احساس محرومی ختم کیا جا سکے۔


اختر مینگل کا بنی گالہ جا کر عمران خان سے ملاقات سے انکار

اگر انہوں نے ملاقات کرنی ہے تو وہ بلوچستان ہاؤس آ کر مجھ سے ملاقات کر سکتے ہیں، صحافیوں سے بات چیت

تحریک انصاف نے وفاق میں حکومت سازی کے لئے بی این پی (مینگل) سے مدد مانگ لی، وفد کی اختر مینگل سے ملاقات

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نومنتخب رکن قومی و صوبائی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان سے بنی گالہ جا کر ملاقات سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر انہوں نے ملاقات کرنی ہے تو وہ بلوچستان ہاؤس آ کر مجھ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کی وزارت اعلیٰ سے متعلق سوال پر کہا کہ ایسا نہیں کہ کسی کو وزیراعلیٰ نامزد کر دیا جائے اور ہم آنکھیں بند کر کے حمایت کریں۔ جے یو آئی اتحادی ہے، حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ مل  کر کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسے ضرورت ہے وہ بلوچستان ہاؤس آ کر انہیں ملے جبکہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سردار اختر مینگل کو گذشتہ روز جہانگیر ترین نے فون کر کے ملاقات کی دعوت دی تھی۔ تحریک انصاف نے وفاق میں حکومت سازی کے لئے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سے مدد مانگی تھی۔ پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ اتحاد میں شمولیت کی دعوت پر تحریک انصاف کا مشکور ہوں۔ پی ٹی آئی سے مثبت جواب ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف کے سامنے بلوچستان کے مسائل رکھے، لاپتہ افراد کی بازیابی اور سی پیک پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ لہٰذا مثبت جواب ملا تو ساتھ دینے کو تیار ہیں۔ اختر مینگل کے مطابق ہم اس ملک کے حکمرانوں کے جلے ہوئے ہیں، اس لئے احتیاط کریں گے۔ ہمارے مطالبات پر کوئی پیش نہیں ہوا، لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماء نعیم الحق نے مطالبات عمران خان کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عمران خان پہلے لیڈر ہوں گے جو بلوچستان کے مسائل حل کریں گے۔


بلوچستان یونیورسٹی میں ہاسٹل پر فورسزکا قبضہ ہے جو باعث حیرت ہے، قائمہ کمیٹی

ہاسٹلز میں صرف طلبہ کو رہائش کی اجازت دی جائے، سینیٹ قائمہ کمیٹی وزارت داخلہ کو اس ضمن میں خط لکھے گی

بلوچستان میں یونیورسٹیوں کے کیمپس بننے سے خواتین کی انرولمنٹ میں 18 فیصد بہتری آئی ہے

ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 12 جولائی 2017 کو کمیٹی اجلاس میں دی گئی۔ سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے علاوہ ایچ ای سی کی مجموعی کارکردگی، مختص اور استعمال شدہ بجٹ، سکالر شپ، تعلیم کے فروغ کے لئے مختلف منصوبہ جات اور پسماندہ علاقوں میں مختلف تعلیمی منصوبہ جات اور مسلم باغ یونیورسٹی، موسیٰ خیل کی لائیو سٹاک یونیورسٹی اور زیارت میں فاریسٹ یونیورسٹی کی پراگرس رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی عثمان کاکڑ نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں مختلف یونیورسٹیوں میں 30 ہاسٹل تعمیر کر دیے گئے ہیں اور کمیٹی کی ہدایت کے مطابق ہاسٹل میں غیر متعلقہ افراد کی رہائش کو سختی سے منع کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ایف سی و دیگر فورسز کے اہلکاروں نے قبضہ کر رکھا ہے، یونیورسٹیوں میں صرف طلبہ کو رہائش کی اجازت دی جائے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں یونیورسٹیوں کے کیمپس بننے سے خواتین کی انرولمنٹ میں 18 فیصد بہتری آئی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ جہاں یونیورسٹیاں قائم کی جا رہی ہیں وہاں سکول قائم کیے جائیں تاکہ ٹیچنگ سٹاف کے بچوں کو مؤثر تعلیم مل سکے۔


سندھ کی ہٹ دھرمی، بلوچستان کا زرعی علاقہ پانی کو ترس گیا، غذائی قلت کا خدشہ

جعفر آباد، نصیر آباد، صحبت پور اور جھل مگسی شدید متاثر، لاکھوں ایکڑ اراضی پر شالی کی فصل کاشت نہیں ہو سکی، کسان احتجاج پر مجبور

گڈو اورسکھر بیراج میں ڈسچارج میں اضافے کے باوجود بلوچستان کے حصے کا پانی نہیں دیا جا رہا، چیف انجینئر کینال سسٹم عبدالستار

سندھ کی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث بلوچستان کا زرعی علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترس گیا۔ لاکھوں ایکڑ اراضی پر شالی کی فصل کاشت نہ ہو سکی۔ صوبے میں بڑے پیمانے پر غذائی قلت پیداہونے کے خدشہ ہے۔ بلوچستان کے زرعی علاقے جعفر آباد، نصیر آباد، صبحت پور اور جھل مگسی میں خریف سیزن میں پانی کی شدید کمی کے باعث لاکھوں ایکڑ پر شالی کی فصل کاشت نہیں ہو سکے گی۔ خریف سیزن میں گڈو بیراج سے پٹ فیڈر کینال کو 6700 کیوسک کی بجائے 5434 کیوسک اور سکھر بیراج سے کیرتھیر کینال کو 2400 کیوسک کے بجائے 1675 کیوسک پانی دیا جا رہا ہے۔ اوچ اور مانجھوئی کینال کو بھی حصے سے کم پانی دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے آئے روز اوستہ محمد، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار اور صحبت پور کے علاقوں میں زمینداروں اور کسان احتجاج پر مجبور ہیں، جس کے باعث اکثر و بیشتر گرمی میں شاہروں کو بند کر دیا جاتا ہے، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کے مطابق لاکھوں ایکڑ اراضی پر شالی کی فصل کاشت نہ ہونے کے باعث صوبے میں بڑے پیمانے پر غذائی بحران پیدا ہوجائے گا۔ چیف انجینئر کینال سسٹم عبدالستار لاکئی نے بتایا کہ دریائے سندھ کے گڈو اور سکھر بیراج میں پانی کے ڈسچارج میں اضافے کے باوجود بلوچستان کو اس کے حصے کا پانی نہیں دیا جا رہا، حالانکہ کوٹری بیراج سے سمندر میں پانی ڈال کر ضائع کیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں ارسا اور سندھ اریگیشن کے حکام سمیت ہر فورم پر آواز بلند کی ہے، لیکن سندھ اریگیشن حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 3 دن کے اندر بلوچستان کو اس کے حصے کا پورا پانی نہ دینے کی صورت میں لاکھوں ایکڑ اراضی پر شالی کی فصل کاشت نہیں کی جا سکے گی جس سے زمینداروں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *