Type to search

تاریخ سیاست فیچر

مشرّف کا دور آمریت، قسط 3: مشرّف کا دورہ آگرہ، اسامہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی، اور 911

جون 2001 میں مشرف نے صدر رفیق تارڑ کو معزول کر کے خود صدارت کا منصب سنبھالا۔ جولائی میں مشرف نے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی دعوت پر آگرہ میں مزاکرات کے لئے ہندوستان کا رخ کیا۔

صدر مشرف نے ہندوستان کے دورے کا آغاز اپنی جنم بھومی، دہلی سے کیا۔ دہلی میں انہوں نے اپنی آبائی حویلی کی سیر کی۔ ہندوستان کے صدر نے مشرف کو دہلی کا شاندار سپوت کہا اور مشورہ دیا کہ اعلان لاہور کے تحت شروع کیے گئے امن پروگرام کو بحال کیا جانا چاہیے۔ ہندوستانی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے چھٹتے ہی مشرف سے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تحویل مجرمین (extradition) کا معاہدہ کیا جائے اور اس سے قبل داؤد ابراہیم کو ہندوستان کے حوالے کیا جائے۔ ایڈوانی کی خود نوشت کے مطابق “یہ مطالبہ سنتے ہی مشرف کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا اور اس نے کہا: ایڈوانی صاحب، یہ نیچ حرکت ہے”۔ اس دورے کے دوران مشرف نے کشمیری علیحدگی پسند گروہوں کے نمائندوں سے ملاقات کی جسے ہندوستانی سرکاری حلقوں میں مثبت قدم نہیں سمجھا گیا۔


دوسری قسط یہاں پڑھیے: مشرّف کابینہ، ن لیگ میں ٹوٹ پھوٹ، اور اے آر ڈی کی تشکیل


کشمیر پر پیش رفت کے بغیر پاکستان واپس گئے تو بے عزتی کا مقام ہوگا

15 جولائی کو آگرہ میں باقاعدہ ملاقات کا آغاز ہوا۔ ہندوستانی نمائندے پاکستان کی طرف سے علیحدگی پسندوں کی مالی اور فوجی سرپرستی پر بات کرنا چاہتے تھے جبکہ پاکستانی نمائندے کشمیر کے مسئلے پر پیش رفت کے خواہاں تھے۔ پہلے دن کے مشترکہ بیان میں مشرف نے شملہ یا لاہور معاہدے کا ذکر کرنے سے انکار کر دیا۔ اخبارنویسوں کے ساتھ ناشتے کے دوران مشرف نے کہا کہ اگر وہ کشمیر پر پیش رفت کے بغیر پاکستان واپس گئے تو یہ پاکستان کے لئے بے عزتی کا مقام ہوگا۔ اس دوران مشرف نے کارگل میں پاکستانی کارروائی کا سنہ 1971 میں بھارت کی مشرقی پاکستان میں مداخلت سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر میں دخل اندازی نہیں کر رہا البتہ ہندوستان کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو خون ریزی کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ ایک ہندوستانی صحافی نے اس ملاقات کی ریکارڈنگ ٹی وی پر چلا دی۔ اس حماقت نے مزاکرات میں پاکستان کا ہاتھ تنگ کر دیا۔

“کونسی کابینہ؟ یہاں آگرہ میں کونسی کابینہ ہے؟”

مشترکہ بیانیے کے لئے جب پہلا ڈرافٹ مشرف کی مرضی سے تیار ہوا اور ہندوستان کی کابینہ کی جانب اس پر اعتراض کیا گیا تو مشرف نے جھلا کر پوچھا “کونسی کابینہ؟ یہاں آگرہ میں کونسی کابینہ ہے؟” اس موقعے پر آمر یہ بات بھول گیا کہ جمہوری ممالک میں اہم فیصلے فرد واحد کی منشا کے مطابق نہیں بلکہ جمہوری طور پر ہوتے ہیں۔ بالآخر دونوں فریقین کے درمیان بیانیے کے معاملے پر اتفاق نہیں ہو سکا اور مشرف صاحب آگرہ سے خالی ہاتھ لوٹ آئے۔

اسامہ کو پکڑنے سے پہلے ہی شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا

اگست 1998 میں نیروبی اور نتزانیا میں امریکی سفارت خانوں اور اکتوبر 2000 میں یمن کے ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع امریکی بحری جہاز پر حملے میں ملوث اسامہ بن لادن نے 1995 سے پاکستان کے پڑوسی افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی۔ اگست 1998 میں 66 امریکی کروز میزائل پاکستانی سرحد سے کچھ فاصلے پر واقع القاعدہ کے کیمپ پر گرے تو اس میں اسامہ بن لادن کی جگہ فرقہ وارانہ تنظیم سپاہ صحابہ کے کچھ ارکان مارے گئے تھے۔ 1999 میں سی آئی اے نے پاکستانی ملٹری انٹیلیجنس کے تعاون سے 60 پاکستانی کمانڈوز کو خاص تربیت دی تاکہ وہ افغانستان میں داخل ہو کر اسامہ بن لادن کو گرفتار کر سکیں لیکن اس منصوبے کی تکمیل سے قبل مشرف نے شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

‘صحافیوں’ کے کیمروں میں بم پوشیدہ تھے اور انٹرویو دراصل خودکش حملوں کا بہانہ تھا

جنوری 2001 میں اقوام متحدہ نے افغانستان پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تو افغان علماء کے ایک جرگے نے ان سختیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور اعادہ کیا کہ وہ اسامہ کو امریکہ یا عالمی عدالت کے حوالے نہیں کریں گے۔ افغانستان میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں احمد شاہ مسعود سے رابطے میں تھیں اور ان کا ارادہ تھا کہ مسعود کے ذریعے اسامہ کا مقابلہ کیا جائے۔ سات ستمبر کو احمد شاہ مسعود ایرانی حکام سے مزاکرات کے لئے دشنبے کو روانہ ہوئے اور دو روز بعد افغانستان واپس پہنچے۔ اس دوران ان کا انٹرویو کرنے کے لئے دو عرب صحافی (جن کا تعلق تیونس سے تھا لیکن ان کے پاس بیلجیئم کے پاسپورٹ تھے) آئے۔ ان ‘صحافیوں’ کے کیمروں میں بم پوشیدہ تھے اور انٹرویو دراصل خودکش حملوں کا بہانہ تھا۔ اس حملے میں احمد شاہ مسعود اور ان کے کچھ ساتھی جاں بحق ہوئے۔

‘یہ القاعدہ کی کارروائی نہیں ہو سکتی، وہ افغانستان کے غاروں میں چھپے بیٹھے ہیں’

11 ستمبر 2001 کی دوپہر اسامہ بن لادن نے افغانستان کے شہر خوست کے قریب کوہ سلیمان کے ایک غار میں ریڈیو پر خبر سنی کہ القاعدہ کے ارکان نے مسافروں بھرے جہاز ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا دیے ہیں۔

اسی روز امریکی سفیر Wendy Chamberlin نے سرکاری طور پر پہلی دفعہ صدر مشرف سے ملات کرنی تھی۔ امریکی سینٹ کام کے جنرل ٹامی فرینکس نے سفیر کو فون پر ہدایت کی کہ مشرف کے سامنے صرف ہماری حمایت اور ہماری مخالفت کی شرائط رکھی جائیں، یا تو وہ ہمارے ساتھ ہے، ورنہ ہمارے مخالف۔ سفیر نے مشرف کو فون کیا تو وہ اس وقت بحیرہ عرب میں نیوی کے جہاز کے معائنے پر تھا۔ خبر سننے پر مشرف نے کہا: یہ القاعدہ کی کارروائی نہیں ہو سکتی، وہ افغانستان کے غاروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔

‘ہم غیر مشروط طور پر ساتھ ہیں’

اس موقعے پر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل محمود واشنگٹن میں تھے۔ مشرف نے فون پر اسے ہدایت کی کہ امریکیوں سے تعزیت کرو اور انہیں بتاؤ کہ ہم غیر مشروط طور پر ان کے ساتھ ہیں۔

واشنگٹن میں نائب وزیر داخلہ رچرڈ آرمیٹیج اور جنرل کالن پاؤل نے جنرل محمود کو سات شرائط پیش کیں۔ ان شرائط میں القاعدہ ارکان کو اپنی سرحد پر روکنا، امریکی طیاروں کو اڑان کے لئے اجازت، طالبان سے قطع تعلقی اور پاکستانی شہریوں کی افغانستان میں لڑاکا کارروایئوں کی روک تھام شامل تھیں۔ یہی شرائط امریکی سفیر کے ذریعے مشرف تک پہنچا دی گئی تھیں۔ مشرف نے سفیر کو بتایا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہیں لیکن وہ تفصیلات کے بغیر کسی آپریشن کا حصہ نہیں بن سکتے اور امریکہ کی غیر مشروط مدد سے پہلے اپنے کور کمانڈروں سے مشورہ کرنا پڑے گا۔

‘ہندوستان سے کارروائیاں شروع کریں اور افغانستان اور پاکستان دونوں مسئلوں کو ایک ہی بار لپیٹ لیں’

جنرل شاہد عزیز نے لکھا: “جب کور کمانڈر کانفرنس میں یہ مسئلہ اٹھا، میں مری میں تھا، ایک ماہ بعدGHQ آیا۔ تب تک اس موضوع پر تمام جھگڑے نبٹائے جا چکے تھے۔ مجھے آنے پر پتہ چلا کہ کور کمانڈروں کی کانفرنس میں کچھ کور کمانڈروں نے امریکہ کا ساتھ دینے کی مخالفت کی، کچھ نے جنرل مشرف کا ساتھ دیا اور زیادہ تر خاموش رہے۔ جنرل مشرف مخالفت کرنے والوں پر ناراض ہوئے، پھر اپنا نکتہ نظر بیان کر کے بات ختم کر دی۔ خاموش رہنے والے ہاں میں شامل ہوئے۔ میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ کیا باتیں ہوئیں، مگر لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کے مفاد میں نہیں کہ ہم امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، اور نہ ہی ہماری صلاحیت اتنی ہے۔ ہم نے اپنی معیشت کو تباہی سے بچانا ہے ، یہ تمام باتوں سے اہم ہے۔ ہندوستان امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کا عندیہ دے چکا ہے اور کہا ہے کہ آخر آپ کو پاکستان سے بھی تو نبٹنا ہے، ہندوستان سے کارروائیاں شروع کریں اور افغانستان اور پاکستان دونوں مسئلوں کو ایک ہی بار لپیٹ لیں۔”


اگلی قسط یہاں پڑھیے: اسامہ کا فرار، ڈینیئل پرل کی ہلاکت، اور ریفرنڈم کا مذاق


Tags:

2 Comments

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *