Type to search

جمہوریت عوام کی آواز معاشرہ

ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے؟

زمانہ طالبِ علمی، انسان کی زندگی کا ایسا دور کہ جب کلاس روم میں کی گئی ہر بات ہی یاد رہ جاتی ہے (ماسوائے نصاب)، پھر چاجے وہ کسی قریبی دوست کا کوئی سنایا ہوا لطيف سا چٹکلا ہو یا کسی بظاہر سخت مگر ہمارے مستقبل کے لئے فکرمند معلم کی ڈانٹ یا پھر کسی شفیق استاد کا اپنی زندگی کا سنایا ہوا کوئی سبق آموز قصہ۔

استاد کا دیا ہوا ایک سبق جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ساتھ رہ گیا

ایسا ہی ایک چھوٹا سا واقعہ ہمارے ایک محترم استاد نے بھی ایک بار سنایا تھا جو آج بھی ذہن پہ نقش ہے۔ یہ ان کے جاپان میں، اپنی پڑھائی کے سلسلے میں رہاٸش کےدنوں کی بات ہے۔ ایک دن اپنی يونيورسٹی جاتے ہوئے انہوں نے کوئی چيز کھائی (غالباً ٹافی یا چیوئنگ گم) اور اُس کا "ريپر” وہیں پھينک ديا۔ اُن کے پيچھے ايک جاپانی بھی آ رہا تھا۔ اس جاپانی باشندے نے وہ پھينکا ہوا "ريپر” اٹھايا، کوڑے دان میں ڈالا اور بغير ہمارے محترم استاد سے کچھ کہے اپنی منزل کی طرف چلتا بنا۔ ہمارے ان استاد کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے انہوں نے جاپان میں رہتے ہوئے کبھی کوئی ايسا عمل نہیں دہرایا۔

اگر سب پہلے آپ، پہلے آپ، کے چکرمیں پڑے رہیں تو عملی طور پہ کون کرے گا؟

اس دن کے بعد ميرے ساتھ پڑھنے والے کسی اور پہ کوئی فرق پڑا يا نہیں یہ تو مجھے نہیں معلوم، البتہ مجھ میں ذاتی طور پہ کچھ بدلاؤ آیا جس کے لئے ميں ہمیشہ ہی اپنے ان استاد کی مشکور رہوں گی، کیونکہ اس دن سے پہلے تک اگر کہیں "ڈسٹ بن” نظر نہیں آتا تھا تو "بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے” والے محاورے کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے خالی "ريپر” ہوا ميں ہی اڑا ديا کرتی، مگر اب وہی "ریپر” جس بیگ سے چیوئنگ گم، ٹافیاں وغیرہ نکال کے کھاتی اسی میں واپس بھی رکھنے لگی۔ اگرچہ میرے اس عمل سے راستے میں جگہ جگہ پڑے کچرے کے ڈھیر میں تو کوئی کمی نہیں ہوئی، ضمیر کسی حد تک مطمئن رہنے لگا۔ کئی بار یہ خيال آتا بھی کہ ایک میرے ایسا کرنے سے کيا فرق پڑتا ہے، لیکن پھر یہ سوچ کر اس خیال کو جھٹک دیتی کہ اگر سب پہلے آپ، پہلے آپ، کے چکرمیں پڑے رہیں تو عملی طور پہ کون کرے گا!

کچرا وہیں پھینکتے ہیں جہاں "صفاٸی نصف ایمان ہے” کی تختی لگی ہو

ہمارا المیہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ کچرا ہم وہیں پھینکتے ہیں جہاں "صفاٸی نصف ایمان ہے” کی تختی لگی ہو، شہری حکومت سڑک بنوا کے جگہ جگہ ہرے رنگ کے بِل بورڈ بھی لگوا دیتی ہے جن پہ بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوتا ہے ‘اپنے شھر کو صاف ستھرا رکھیں’ مگر جب پڑھے لکھے لوگ ہی اس بات کو نظر انداز کر دیں تو سوائے افسوس کہ ملک کو کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا۔

اس چھوٹے سے قصے میں بات صرف ریپر اٹھانے کی نہیں تھی، اصل بات شعور کی ہے۔ اپنے ملک سے محبت کی بات ھے۔ اُس جاپانی باشندے کو اپنے ملک سے صرف لفظی محبت نہیں تھی، جبھی تو اس نے کسی اور کی پھینکی چیزبھی اٹھاٸی، نہ تو کوٸی بحث مباحثہ کیا نہ گالی دینے کی نوبت آٸی بلکہ جو سمجھانا تھا وہ بھی اپنے عمل سے سمجھا دیا۔

ترقی کرنی ہے تو جتنا فرض حکمران کا، اتنا ہی قوم کا

اگرتھوڑا سا غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں جتنا حصہ حکمرانوں کا ہوتا ہے (اگر اس سے زیادہ نہ بھی صحیح) تو اتنا ہی فرض قوم کا بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس ہم سب اپنا پلو جھاڑ کے ساری بات حکمرانوں پہ ڈال دیتےہیں۔ ہم یہ سمجھنے کی کبھی کوشش بھی شاید نہیں کرتے کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں اور کہاں ہونا چاہیے، مانا کہ حکمرانوں کے بہت سے فرائض ہیں لیکن کیا ہماری کوئی ذمہ داری نہیں؟

یہ تو ان کی قربانیاں تھیں۔ ہم نے وطن کے لئے خود کیا کیا ہے؟

ہم وطن سے محبت کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن ہماری اس کھوکھلی محبت کا کیا فائدہ؟ ہم وطن سے محبت کے صرف دعوے کرتے، کبھی ملی نغمے گا کے تو کبھی گھر، گلی، محلے میں جھنڈیاں لگا کے، لیکن جب وہی جھنڈیاں دوسرے دن ہوا کے دوش پہ زمین پر لڑکھڑاتی دکھاٸی دیتی ہیں تو ہماری محبت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ ہم بچوں کو پاکستان کو وجود میں لانے والے قاٸدین اور ان کی قربانیوں کے قصے سناتے نہیں تھکتے، لیکن کبھی سوچا کہ یہ تو ان کی قربانیاں تھیں۔ ہم نے وطن کے لئے خود کیا کیا ہے؟ یہ تو بس چند چھوٹی سی مثالیں ہیں ہمارے اپنے فرائض سے کنارہ کشی کی، خود کو پرکھ کر کسی دن دیکھ لیں تو اپنے آپ سے ہی شرم آ جائے ۔آخر ہم اپنے فرائض سے کب تک بھاگتے رہیں گے؟ حکمران آتے ہیں، چلے جاتے ہیں، کوٸی فرق پڑا ہے، نہ پڑے گا۔ کیونکہ محبت دعوے نہیں عملی ثبوت مانگتی ہے۔ صرف دعوے کر کے عملاً کچھ نہ کرنے والے بے وفا ٹھرتے ہیں۔ یقین مانیے، جب تک خود کو نہ بدلیں گے، نہیں بدلے گا پاکستان!

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *