Type to search

تجزیہ سیاست

اونٹ کے بال کاٹتے کاٹتے نون لیگ اور پیپلز پارٹی اونٹ سے ہی نہ لٹک جائیں

عمران مخالف سیاسی جماعتوں نے ‘اتحاد برائے صاف و شفاف انتخابات’ قائم کر دیا ہے۔ آج اس اتحاد کی جانب سے پہلا احتجاج الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کے سامنے ہوا، جبکہ کل چاروں صوبوں میں الیکشن کمیشن کے ریجنل دفاتر کے سامنے بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔ یہ اتحاد عام انتخابات کے نتائج مسترد کرنے اور ان نتائج کے خلاف جدوجہد کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے، لیکن ان نتائج کی بنیاد پر ساری جماعتیں قومی و صوبائی اسمبلیوں کاحصہ بننے ضرور جا رہی ہیں۔

ہماری دانست میں مولانا فضل الرحمٰن نے پہلی بار چھ منٹ کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ اس پیغام میں مولانا نے ملک کے عوام اور خصوصاً اپنی جماعت کو اپیل کی ہے کہ 9 اگست کو ملک بھر کی شاہراہوں کو بند کر دیا جائے۔

سب سے زیادہ فائدے میں تو پیپلز پارٹی رہی

پیپلز پارٹی کا پہلے دن سے مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد پارلیمنٹ کے فورم پر اور باہر کرے گی، لیکن کسی ایسے احتجاج کا حصہ نہیں ہوگی جو عوام کیلئے تکلیف دہ ہو۔

حالیہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے گذشتہ انتخابات کے برعکس ووٹ تو ستر ہزار زیادہ لیے لیکن بارہ نشستیں اضافی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی، یعنی معمولی انویسٹمنٹ پر زیادہ منافع۔

2013 کی نسبت ن لیگ نے ان انتخابات میں اٹھارہ لاکھ ووٹ کم لیے لیکن تقریباً آدھی نشستیں کم حاصل کیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کا تو سب سے زیادہ نقصان ہوا کہ وہ خود بھی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے۔

اس لئے دیکھا جائے تو اپوزیشن کی جماعتوں میں سب سے زیادہ فائدے میں پیپلز پارٹی رہی۔

کیا پیپلز پارٹی ‘ووٹ کو عزت دو’ کا نعرہ لگا پائے گی؟

لیکن ۔۔۔!! ن لیگ اور جے یو آئی کی خواہش پر قائم کیے گئے اتحاد میں نعرہ ایک ہی لگنا ہے، اور وہ نعرہ میاں نواز شریف کا نعرہ ہے، ‘ووٹ کو عزت دو’۔

پیپلزپارٹی پہلے دن سے میاں نواز شریف کے اس نعرے کی مخالف رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر اس احتجاج میں بھی وہ اسی نعرے کا حصہ بنے گی تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے نواز شریف کے بیانئے کوقبول کر لیا ہے۔

پیپلز پارٹی کا دوسرا امتحان وزیراعظم کے انتخاب کے بعد شروع ہونا ہے۔ ن لیگ اس وقت سینیٹ میں اکثریتی جماعت ہے، اور وہ چاہتی ہے کہ جس پیپلز پارٹی نے عمران خان سے مل کر اس ملک میں ایک بدنما سیاسی روایت کی بنیاد ڈالی اب اسی کے ساتھ مل کر چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔ اگر پیپلزپارٹی اور ن لیگ مل جائیں تو صادق بھی گیا اور سنجرانی فارمولہ بھی!

لیکن اس بار ایک اورلیکن پیدا ہوگا۔ اور وہ لیکن پیپلز پارٹی کے لئے ہی ہوگا۔

جی ڈی اے کے بھوت میں سے ہوا ایسے ہی تو نہیں نکلی تھی

سندھ میں جی ڈی اے کا بھوت جس طرح پیپلز پارٹی کے پیچھے چھوڑا گیا تھا اس میں سے پچیس جولائی کی شام کو ہوا ایسے ہی تو نہیں نکلی تھی!

اس لئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد بھی زیادہ دن چلتا نظرنہیں آتا، وزیراعظم کا انتخاب ہو جائے تو اس کے بعد پتہ چلے گا کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔

اس وقت تو مجھے دو اونٹوں کے بال کاٹنے والے آدمیوں کا قصہ یاد آ رہا ہے۔ دو لوگ اونٹ کے بال کاٹ رہے تھے، کہ اچانک اونٹ کھڑا ہونا شروع ہوا تو دونوں نے ایک دوسرے کی داڑھیوں میں ہاتھ ڈال دیئے اور کھڑے اونٹ پر لٹک گئے۔ ایک نے دوسرے کوآواز دی داڑھی سے ہاتھ مت نکالنا، نہیں دو دونوں گر جائیں گے۔ اس وقت بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *