Type to search

جمہوریت عوام کی آواز

آزادی کا مطلب کیا؟‎

میری پاکستان آ کر زندگی کچھ یوں ہو گئی ہے جیسی لوگوں کی دبئی جا کر ہوتی تھی۔ صبح سوا آٹھ بجے کام پر نکل جاتی ہوں۔ پانچ بجے تک گھر پہنچتی ہوں۔ آ کر ادھر ادھر گرتی پڑتی ہوں۔ باقی ماندہ کام نمٹاتی ہوں۔ رات کا کھانا کھاتے ہی بستر پر ڈھیر ہو جاتی ہوں۔ ایک ایسا مدار ہے جو خود سے نکلنے نہیں دیتا۔ اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔ یوں تو میرا کام بہت دلچسپ ہے اور مجھے کبھی بور نہیں ہونے دیتا لیکن زندگی وقت کی قید میں تو ہے نا۔ کیا کیجئے؟

شروع میں تو وقت رک سا گیا تھا لیکن جب سے کام پر دل لگا ہے اب یہ بے لگام گھوڑا قابو میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ جلدی سے اگست کا مہینہ بھی آ گیا۔ آزادی کا جشن بھی مننے لگا۔

آزادی کس کو کہتے ہیں؟ چھٹی کو

جیسا کہ بندہ مزدور نے پہلے ہی اوقات کی تلخی کا ذکر کیا ہے وہیں یہ بھی کہتے چلیں کہ ہمارا شہری زندگی سے کوئی خاص لینا دینا نہیں۔ کل اپنی بھتیجی سے ہی معلوم ہوا کہ جشن آزادی کا بہت زور چل رہا ہے۔ ہر کسی نے اپنا گھر برقی قمقموں سے سجانا ہے۔ جھنڈیوں سے مزین کرنا ہے۔ سفید اور ہرے کپڑے پہننے ہیں۔ پاکستان کے جھنڈے کے بیج لگانے ہیں۔ گاڑی پر فل والیم میں ملی نغمے لگانے ہیں۔ یہ سن کر ہمیں اچھا لگا کہ کہیں تو کوئی خوشی منانے کا موقع بھی ملا۔ ورنہ ہمارے ہاں تو ان تمام خوشیوں پر پابندی ہے۔ لگے ہاتھوں بچی سے یہ بھی پوچھ ڈالا
‘یہ جو جشن آزادی آپ منا رہی ہیں یہ کس لئے ہے؟’
‘افوہ۔۔۔ آزادی کے لئے نا’
‘آزادی کسے کہتے ہیں؟’
‘چھٹی کو کہتے ہیں۔ اتنی بڑی ہو گئی ہیں۔ آپ کو یہ بھی نہیں پتہ؟’

‘مجھے تو چولہے چکی سے آزادی نہیں’

واقعی اس کی جھنجھلاہٹ بجا تھی۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ آزادی کا مطلب تو چھٹی ہوتا ہے۔ جہاں جتنی چھٹیاں وہاں اتنی ہی آزادی۔ اب جیسا کے ہمارے ملک میں چھٹیوں کی بہتات ہے یہاں آزادی بھی فراوانی میں پائی جاتی ہے۔ یہی سوال ایک خاتون خانہ سے پوچھا تو وہ بولیں،
‘کون سی آزادی؟ مجھے تو چولہے چکی سے آزادی نہیں۔ تم کس آزادی کی بات کر رہی ہو؟’
ان کا کہنا بھی بجا تھا۔

کیا وہ آزادی ملی جس کی تلاش میں یہاں کا رخ کیا گیا تھا؟

جس آزادی کا جشن اتنے زوروں سے منایا جا رہا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ ہے کیا۔ ہمیں بچپن سے مطالعہ پاکستان نے یہی سکھایا کہ مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک بنایا گیا تاکہ وہ وہاں آزادی سے اپنی عبادات کر سکیں۔ کاش کہ اسی وقت اس بات کا بھی تعین کر دیا جاتا کہ مسلمان کون ہے۔ ریاست کی اس تعریف کے اعتبار سے کون سا فرقہ دائرہ اسلام میں آتا ہے تاکہ اسی فرقے کے لوگ ہجرت کی صعوبتیں کاٹیں۔ اسی آزادی کے چکر میں کتنی ہی ماؤں نے اپنے لعل کھوئے۔ کتنی ہی بہنوں نے اپنی عمریں قربان کیں۔ کتنے باپوں نے اپنا سب گھر بار لٹا دیا۔

لیکن کیا ان سب کو وہ آزادی ملی جس کی تلاش میں یہاں کا رخ کیا گیا تھا؟

کیا اہل قلم کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں جس کے خلاف چاہیں آواز اٹھا سکیں؟

کیا سفید اور ہرے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے لوگ سفید رنگ سے آگاہ ہیں؟ کیا سفید رنگ کی علامت اقلیتوں کو آزادی حاصل ہے کہ اپنی مرضی سے اپنی عبادات کر سکیں؟

کیا آج بھی عورت کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے اہم فیصلے کر سکے؟ اپنے خاوند اور سسرال کو با آواز بلند کہہ سکے کہ میں اپنی زندگی کی مختار خود ہوں؟

کیا آج بھی غریب کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی تعلیمی ادارے کا رخ کر سکے؟

کیا ہر طرف مزدوری میں جتے کمسن بچوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ کھیل کود سکیں اور جبر کی زنجیریں توڑ دیں؟

کیا اہل قلم کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں جس کے خلاف چاہیں آواز اٹھا سکیں؟

جس دن یہ آزادی حاصل ہو گئی۔۔۔

اگر جواب نفی میں ہے تو اسے جشن آزادی مت کہیے۔ یہ چھٹی کا جشن ہے۔ جن مقاصد اور امنگوں کے نام پر یہ ملک قائم کیا گیا تھا اسے دن بدن مزید ملیا میٹ کیا جا رہا ہے۔ اس سسکتے وجود کو مزید نوچ نوچ کر کھایا جا رہا ہے۔

آزادی صرف بڑے گوشت کے کباب اور بیف برگر کھانا ہی نہیں بلکہ سب کے لئے یکساں حقوق کا نام ہے۔ سوچ اور فکر پر پڑے ہر قفل کو گرانے کا نام ہے۔ جس دن یہ آزادی حاصل ہو گئی، ہم بھی جشن منائیں گے اور کھل کر بھرمیں گے۔ تب تک آپ چھٹی منائیے اور قائد کی روح سے چھپتے پھریئے۔ ملک کا کیا ہے۔ یہ غریب تو چلتا ہی رہے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *