Type to search

عوام کی آواز کلچر معاشرہ

پاکستان میں محبت کی شادی آج بھی دیومالائی داستان سے کم نہیں

ایک مرتبہ میرے دوست احمر نے مجھے ایک پرسکون جگہ پر کافی کی دعوت دی۔ اس دوران اُس نے مجھے سختی سے ہدایت کی کہ میں اکیلا آؤں کیونکہ وہ مجھ سے کوئی راز شیئر کرنا چاہتا ہے۔ میں وہاں پہنچا، اور ہم ایک جگہ پر بیٹھ گئے۔ وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ میں بھی کچھ خوفزدہ ہو گیا کہ کہیں اُس نے کسی کو قتل نہ کر دیا ہو، یا کہیں ڈاکہ نہ مار لیا ہو۔ میں نے سوچا کہ کہیں میں بھی اس کے کسی جرم کا شریک یا معاون نہ بن جاؤں۔ لیکن کیا وہ کوئی ایسی حرکت کر سکتا تھا؟ اسی قبیل کے بہت سے سوالات میرے ذہن میں چکرا رہے تھے، لیکن میں سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا انتظار کرنے لگا کہ اُس کے پاس مجھے بتانے کے لئے کیا ہے؟

میں نے دیکھا کہ اُس کے چہرے سے پسینہ اس طرح بہہ رہا ہے جیسے خون کے قطرے، اور جو کچھ اُس نے مجھے بتایا وہ میرے لئے قتل یا ڈکیتی سے کہیں زیادہ چونکا دینے والا تھا۔ وہ اُس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا جس سے وہ محبت کرتا تھا۔ میں اُس کے انکشاف سے چونک گیا، لیکن میں نے خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال لے۔ احمر نے مجھے بتایا کہ یہ بہت مشکل ہے کیونکہ اس کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ نہ تو اس کا کرئیر ہے اور نہ ہی کوئی اور مجبوری، بلکہ اس کے پیارے والدین نے اُس کی شادی کہیں اور طے کر رکھی ہے، اور وہ غالباً اُسے پسند کی شادی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔


احمر کو اپنی جنس کی وجہ سے کچھ اختیار حاصل ہے کیونکہ وہ ایک لڑکا ہے۔ لیکن وہ جس لڑکی سے محبت کرتا ہے، اُس کے لئے کسی سے محبت کرنا ایک شرمناک حرکت، بلکہ ایک سنگین جرم قرار پائے گا۔ پاکستان میں عورت کو ‘عزت’ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔


آج کی جدید دنیا میں یہ بات کتنی عجیب ہے کہ پاکستان میں ابھی تک پسند کی شادی کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں والدین کی طرف سے طے شدہ شادیوں کا رواج عام ہے۔ کبھی کبھار لڑکے اور لڑکی سے رسمی رائے لے لی جاتی ہے لیکن عموماً اُن پر مرضی مسلط کی جاتی ہے۔ پاکستان میں ‘شریفانہ اورمثبت اقدارکا حامل معاشرہ’ قائم رکھنے کے لئے ایسا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

احمر کو اپنی جنس کی وجہ سے کچھ اختیار حاصل ہے کیونکہ وہ ایک لڑکا ہے۔ لیکن وہ جس لڑکی سے محبت کرتا ہے، اُس کے لئے کسی سے محبت کرنا ایک شرمناک حرکت، بلکہ ایک سنگین جرم قرار پائے گا۔ پاکستان میں عورت کو ‘عزت’ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ اپنے خاندان کی مرضی کے خلا ف اپنی خواہش کے مطابق اپنی زندگی کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے تو اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں عزت کے نام پر قتل ایک معمول کی بات ہے، حالانکہ اس کی انتہائی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اور اس کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔ آسکر انعام یافتہ ایک ڈاکومنٹری ‘گرل ان دی ریور’ ایک ایسی لڑکی کے بارے میں ہے جو معجزانہ طور پر عزت کے نام پر قتل ہونے سے بچ جاتی ہے۔ جب مجرموں، جو اس کا والد اور چچا تھے، سے پوچھا جاتا ہے کہ اُنہوں نے ایسا کیوں کیا تو اُن کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کی نظر میں لڑکی کا قصور کیا تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ وہ لڑکی اُن کے خاندان کی عزت داغدار کر رہی ہے جو کہ قتل سے کہیں بڑا جرم ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی طرح بہت سے دقیانوسی معاشروں میں یہ ذہنیت عام ہے۔ ڈاکومنٹری میں دکھایا جاتا ہے کہ عوامی دباؤ کی وجہ سے وہ لڑکی مجرموں کو معاف کر دیتی ہے۔


یہ درست ہے کہ پاکستان کا کوئی قانون محبت کی شادی کا راستہ نہیں روکتا، لیکن اسے پسند یدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ دقیانوسی تصورات اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ لوگوں کو اپنی عزت کے نام نہاد تصورات کی اپنے بچوں کی خوشی سے کہیں زیادہ فکر ہوتی ہے۔


محبت کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی ایک اور وجہ خاندان کی جائیداد کو ‘محفوظ ہاتھوں’ میں رکھنا ہوتا ہے، اور یہ محفوظ ہاتھ کسی رشتہ دار یا کسی دوست کا ہی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کزن میرج کے نتیجے میں سر اٹھانے والے صحت کے مسائل کے باوجود بہت سے خاندان آپس میں ہی شادیاں کرتے ہیں۔ اور ستم یہ ہے کہ اس رجحان کو ‘خاندانی نظام’ کا نام دے کر اس کی تحسین کی جاتی ہے۔ پاکستانی فلموں اور ٹی وی شوز میں اسے سراہا جاتا ہے۔ عام طور پر والدین بچوں کی شادیوں کو بزنس منصوبے، اور اپنے لئے اچھے روابط قائم کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس مادیت پرستی کے بوجھ تلے بچوں کی خوشی دب کر رہ جاتی ہے۔

یہ درست ہے کہ پاکستان کا کوئی قانون محبت کی شادی کا راستہ نہیں روکتا، لیکن اسے پسند یدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ دقیانوسی تصورات اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ لوگوں کو اپنی عزت کے نام نہاد تصورات کی اپنے بچوں کی خوشی سے کہیں زیادہ فکر ہوتی ہے۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ آنے والے برسوں میں محبت کی شادی کے بارے میں ہمارے ہاں راسخ تصورات میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئے گی یا نہیں۔

جہاں تک احمر، اور اُن جیسے دیگر نوجوانوں کا تعلق ہے، تو افسوس، وہ بالی ووڈ فلم کے کردار نہیں ہیں کہ تین گھنٹے کی فلمی کہانی کوئی ڈرامائی موڑ مڑے گی۔ اُنہیں حقیقت کی اسی دنیا میں کوئی راستہ تلاش کرنا ہے۔ لیکن اس کا تعلق حالات، اور اس سے بھی زیادہ اُن کی اپنی قوتِ ارادی اور عزم ، سے ہے کہ وہ کیا قدم اٹھاتے اور مشکلات کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔

Tags:

1 Comment

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *