Type to search

ادب جمہوریت فیچر

دھرتی ماں کی چادر

امی! مجھے پیسے دو۔ آزادی کا دن آرہا ہے میں نے جھنڈیاں لینی ہیں۔۔۔
آمنہ آج بہت خوش تھی، آزادی کے دن آ رہے تھے اور سکول سے آتے ہی امی سے جھنڈیاں لینے کے لئے پیسے مانگنے لگی۔۔۔

بیٹا جلدی سے ہاتھ دھو لیں میں کھانا لگا دیتی ہوں۔ امی نے جیسے اس کی بات سنی ان سنی کر دی۔ کھانا کھانا شروع کیا تو آمنہ پھر سے جھنڈیوں کی بات کرنے لگی کہ اس بار یوم آزادی پہ میں پورے گھر کو جھنڈیوں سے سجاؤں گی اور جشن مناؤں گی۔ وہ ایسے خوش تھی جیسے کوئی عید کے دن آرہے ہوں۔ امی نے پہلے اس کی باتوں پہ کوئی توجہ نہیں دی لیکن جب آمنہ نے بہت زیادہ اصرار کیا تو امی نے کہا کہ بیٹا کل آپ نے لاؤڈ سپیکر پہ اعلان نہیں سنا؟ وہ جو کہہ رہا تھا کہ اس بار ہم یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے اور کوئی بندہ گھر پہ جھنڈا نہیں لہرائے گا۔۔۔

آمنہ کو امی کے بات سے اتفاق نہیں تھا، وہ جشن کی حامی تھی۔ اس کے جواب میں کہنے لگی، "امی آج کلاس میں مس کہہ رہی تھیں کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں اور اپنے دیس سے محبت کرنا ہم سب پہ فرض ہے۔ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ہمیں اس پہ اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ جو قومیں آزادی کی قدر نہیں کرتیں اللہ ان سے آزادی کی نعمت چین لیتا ہے۔ امی اگر ہمارے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو اس میں دیس کی کیا غلطی ہے وہ تو لوگوں کی ذاتی برائی ہے، وطن سے دشمنی رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ ہم آزاد ہیں لاؤڈ سپیکر پہ اعلان کرنے والوں کے غلام تو نہیں۔”

امی  آمنہ کو سمجھنے میں بری طرح ناکام ہو چکی تھیں۔ اب وہ غصہ ہونے لگیں اور کہنے لگیں بیٹا آمنہ مس کی باتیں نہ کرو، ادھر وہی ہوگا جس کا لاؤڈ سپیکر پہ اعلان ہوا ہے اور آپ کوئی جھنڈیاں نہیں لے رہی ہو۔ امی نے اپنا فیصلہ سنا دیا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ اب جا کے اچھے بچوں کی طرح اپنا ہوم ورک مکمل کرو۔

آمنہ دکھی دل کے ساتھ اپنا ہوم ورک کرنے گئی لیکن سارا وقت وہ لاؤڈ سپیکر پہ اعلان کرنے والوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ پھر نہ جانے کس سوچ میں ایک کاغذ  لیا اور اس پہ جھنڈی  بنانے لگی۔ اور ساتھ میں یہ اشعار گنگناتی رہی

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لئے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی

اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

آمنہ اگلے دن اپنی بنائی ہوئی جھنڈی ایک لکڑی کے ساتھ پیوست کر کے اسے سکول لے جانے لگی۔ کل لاؤڈ سپیکر پہ اعلان کرنے والے اب بازار میں سب دکانوں سے سارے جھنڈے اکٹھے کر کے چوراہے میں آگ لگا رہےتھے۔ آمنہ نے دیکھا تو پاگلوں کی طرح آواز لگاتی دوڑی۔ بچی تھی اس کو کیا پتہ تھا کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ "انکل انکل آپ جھنڈیوں کو آگ نہ لگائیں۔ دیس ماں ہے اور جھنڈا اس کی چادر ہے، اور کوئی ماں کی چادر کو آگ نہیں لگاتا۔ انکل آپ ایسا نہ کریں ان جھنڈیوں نے آپ لوگوں کا کیا بگاڑا ہے؟ اگر آپ لوگوں کا کوئی مطالبہ ہے تو حکومت سے جا کر کر لیں۔ کوئی بھی تقاضا وطن کی محبت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ ان جھنڈیوں کو آگ لگا کر آپ لوگوں کو کیا ملے گا۔”

آمنہ جذباتی سی کیفیت میں یہ کہتے ہوئے بے اختیار ان شرپسندوں کے ہاتھ پکڑ کر روکنے لگی۔ ابھی آمنہ اپنی بات کر ہی رہی تھی کہ ان میں سے ایک بندے نے آمنہ کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا، معصوم آمنہ کا سرخ و سپید گال اور بھی لال ہو گیا، ان غنڈوں نے بھرے بازار میں جھنڈیوں کو آگ لگائی اور آمنہ کو زبردستی اپنے ساتھ گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔

آمنہ اب کچھ سنبھل چکی تھی، وہ راستے میں روتے  ہوئے کہنے لگی کہ "انکل قلم میں بہت طاقت ہے”۔

وہ آدمی  ایک نفرت بھری نظر آمنہ پر ڈال کر بولا "اس طرح کے بچوں کو اگر ابھی سے ٹھیک نہیں کیا تو بعد میں یہی مصیبت بن جائیں گے”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دنوں تک آمنہ کی امی اپنی شہزادی کو شہر میں ڈھونڈتی رہیں، چوتھے روز آمنہ کی لاش شہر کے چوراہے پہ لٹکی ملی جس کے ساتھ ایک پرچی پہ لکھا ہوا تھا "غداروں کی ایک سزا سر تن سے جدا”۔

جب آمنہ کو نیچے اتار کر دیکھا تو اس کے سکول یونیفارم کی جیب سے ایک کاغذ ملا جس پر آمنہ نے لکھا تھا،

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

اور

امی شہید کبھی مرتے تو نہیں، آپ نہ رویا کریں مجھے کوئی تکلیف نہیں۔ میں کہتی ہوں

"اے میرے پیارے وطن

میرا دل تیری محبت کا ہے جاں بخش دیار
میرا سینہ تیری حُرمت کا ہے سنگین حصار
میرے محبوب وطن تجھ پہ اگر جاں ہو نثار
میں یہ سمجھوں گا ٹھکانے لگا سرمایئہ تن
اے میرے پیارے وطن

آمنہ جیسی مشعل کو بجھانے والے شاید یہ بھول رہے ہیں کہ اس وطن کا ہر کنول کھلتا ہے تو اپنی وطن کی رعنائیوں پہ قربان ہونے سے نہیں چوکتا۔ اختلافات اپنی جگہ لیکن ریاست ہے ماں جیسی اور ماں سے بھلا کوئی اختلاف کر سکتا ہے؟ اپنی ماں کو کوئی اداس کر سکتا ہے؟ اپنی ماں کو کوئی کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ اپنی ماں کو کیا ہم بانٹ سکتے ہیں؟ ریاست ہے ماں جیسی اور اپنی ماں کو گالیاں نہ دیا کریں۔ ماں ہے تو بھائی آپس میں جڑے رہتے ہیں۔ ماں نہ ہو تو سب بکھر جاتے ہیں۔ مس آمنہ کی شہادت کے کئی دنوں بعد بول رہی تھی۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *