Type to search

تجزیہ سیاست

نئی ہوا، کھلی چھت اور کبوتر

عمران خان کی بحیثیت کھلاڑی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ 1992 میں پاکستا ن کو پہلی بار ورلڈ کپ جتوا کر انہوں نے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے۔ شوکت خانم ہسپتال نے ان کی مقبولیت میں اور اضافہ کیا۔ 1996 میں پہلی بار عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2013 کے الیکشن میں خیبر پختونخوا کی حکومت ملی تو سب کی نظریں اس صوبے پر جم گئیں کہ خان صاحب اسے مثالی صوبہ بنا پاتے ہیں یا نہیں، جس میں وہ واضح طور پر ناکام ہوئے اور اس بات کا اقرار خان صاحب نے حالیہ الیکشن مہم کے دوران خیبر پختونخوا کے کئی جلسوں میں کیا۔

پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں ناکامی کا ثبوت

اس ناکامی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ حالیہ الیکشن کی مہم میں عمران خان نے عوام سے ووٹ اپنی کارکردگی کی بجائے اپنے روایتی انداز میں مخالفین کو للکارنے پر مانگا۔ حالیہ الیکشن میں پورے ملک میں پی ٹی آئی نے واضح اکثریت حاصل کی۔ یوں یہ سونامی پورے ملک میں آ گئی۔ یا لائی گئی۔ خیر یہ الگ بحث ہے۔ اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔ آج کا کالم اس حوالے سے نہیں ہے۔ بلکہ خان صاحب اور ان کی پارٹی کی کارکنوں کے حوالے سے ہے۔

یہ آزادی تو چاہتے ہیں مگر انہیں آزادی کے معنی نہیں معلوم

پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان افراد رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ مگر یہ نوجوان نسل پاکستان کے نظام کی چکی میں کہیں نہ کہیں پس چکی ہے اور اس سے تنگ ہے۔ یہ اس ملک کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں مگر اس نئی نسل کا المیہ یہ ہے کہ یہ سیاست کے روشن چہرے سے نابلد ہیں۔ انہیں سکولوں میں مسخ شدہ نصاب پڑھایا گیا ہے۔ شہر کے خطیبوں نے انہیں فرقہ واریت کے زہریلے انجکشن لگائے۔ اب یہ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کی کتاب میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔ تاریخ انہوں نے اتنی اور ویسی ہی پڑھی ہے جیسی انہیں مطالعہ پاکستان میں پڑھائی گئی۔ یہ آزادی تو چاہتے ہیں مگر انہیں آزادی کے معنی نہیں معلوم۔ یہ ریاست اور حکومت کا فرق نہیں سمجھتے۔ کفر اور اسلام ، قتل اور جہاد، جرم اور گناہ میں فرق نہیں کر سکتے۔ یہ فوج کو مقدس گائے سمجھتے ہیں اور امپائر کی انگلی کو نقارۂ خدا۔

کرکٹ کا ہیرو اٹھا اور انقلاب کا نعرہ لگا دیا

آپ انہیں بہت آسانی سے رنگ، نسل، مسلک، مذہب اور زبان پر لڑوا سکتے ہیں، ان کو مار سکتے ہیں اور ان سے کسی کو مروا سکتے ہیں۔ مگر پچھلی کئی سال میں اس نسل کے ساتھ ایک اور حادثہ پیش آیا جس نے اس کی برداشت، مروت اور تہذیب کو بھی اجاڑ دیا۔

کرکٹ کی شیدائی اس نسل کے سامنے ان کا کرکٹ کا ہیرو اٹھا اور انقلاب کا نعرہ لگا دیا۔ نوجوانوں نے اس نعرے کو ہاتھوں ہاتھ لیا مگر وہ اس بات کو سمجھ نہ پائے کہ انقلاب دو دھاری تلوار ہے اور اس کی اپنی گردن بھی اڑا سکتا ہے۔

نوجوان تو پھر نوجوان ہیں، وہ خان صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ گئے

عمران خان خود بھی اس تلوار کو سنبھال نہیں پایا اور اس نے نوجوانوں کی جس انداز میں آبیاری کی وہ شاید مؤرخ نہ ہی لکھیں کیونکہ یہ ہماری غلط فہمی ہے کہ مؤرخ ہم پر بھی کچھ لکھے گا۔ عمران خان نے اپنے نئے پاکستان اور انقلاب کے لئے پرانا راستہ چنا اور نفرت کی سیاست کو مزید ہوا دی۔ اس نے بھٹو کی طرح نئی نسل کی سیاسی تربیت کی بجائے نفرت اور گالی گلوچ کی سیاست کو فروغ دیا۔ نوجوان تو پھر نوجوان ہیں، وہ خان صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے اٹھ کر پورے سوشل میڈیا کو کچرادان میں بدل دیا۔ اگر عمران خان کسی پارٹی کے کارکنوں کو گدھا کہتا تو اس کے کارکن گدھے پر اسی پارٹی کا نام لکھ کر گدھے کو لہو لہان کر آتے۔ اب حالات وہ نہیں رہے کہ بھائی چارہ اپنی جگہ اور سیاسی نظریہ اپنی جگہ۔ پہلے یار لوگ ایک دوسرے کو دلیل کے ذریعے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اب یہ لوگ گالی کو راہ راست سمجھ کر بیٹھے ہیں۔

دلیل نہ ہو تو گالی اور اگر گالی بھی نہ دے سکے تو برنال لگانے کا مشورہ دے کر پتلی گلی سے نکل جائیں گے۔ کپتان کی یہ ڈندا بردار نقاب پوش 24 گھنٹے آن لائن رہ کر اپنے سیاسی مخالفین پر بغیر رنگ، نسل، جنس کے تعصب کے سب کو گالی دینے اور مذاق بنانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ یہ کیمرے لے کر اپنے مخالفین کو سڑکوں پر ہراساں کرنا کار خیر سمجھ کر کرتے ہیں۔ یہ ذہنیت ہندوستان میں آپ کو مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں میں بھی ملے گی۔

اس میں کیا نیا ہے سوائے گالی گلوچ کے؟

کسی بھی پارٹی کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے کارکن صحیح اور غلط کا ادراک کرتے ہوئے پارٹی کے نظریے کو لے کر چلتے ہیں۔ لیڈرز کی غلطی پر آواز اٹھاتے ہیں نہ کہ اس کی غلطیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ کیا ان ہی عادتوں کی بنا پر خان صاحب نواز شریف کے کارکنوں کو پٹواری اور گدھا نہیں کہتے؟ اس میں کیا نیا ہے؟ سوائے گالی گلوچ کے؟ یہ تو وہی پرانا بنجر راستہ ہے جو کسی اندھے غار کی طرف نکلتا ہے۔

تاریخ اور سیاسی علم کی کمی اس نسل کی بہت بڑی کمزوری ہے تو اس وجہ سے کارکنوں کے پاس بھی دلائل کا فقدان ہے

عمران خان کی پی ٹی آئی ایک سیاسی پارٹی کی بجائے ایک فرقہ بن گئی ہے اور خان صاحب کے کارکن وہ پیروکار بن گئے ہیں جو اندھی تقلید کرتے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ اگر آپ ان کے ساتھ نہیں تو آپ ان کے خلاف ہو اور اگر آپ ان کے خلاف ہو تو آپ جاہل، غدار اور پٹواری ہو اور آپ کو اس ملک میں سکون سے جینے کا کوئی حق نہیں۔ کوئی بھی عمران خان کے خلاف کچھ بولے تو یہ اس کی عزت کو سر بازار تار تار کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے۔ یہ عائشہ گلالئی کی بہن کو صرف اس لئے نشانہ بنائیں گے کہ اس کی بہن نے عمران خان کے خلاف آواز اٹھائی مگر جب یہی کلیہ ان پر لگاؤ تو یہ آگ بگولہ ہو جائیں گے۔ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ تاریخ اور سیاسی علم کی کمی اس نسل کی بہت بڑی کمزوری ہے تو اس وجہ سے کارکنوں کے پاس بھی دلائل کا فقدان ہے جسے یہ کمہ حقہ گالی گلوچ سے اور برنال سے پورا کرتے ہیں۔

مایوس بھی اتنی ہی جلدی ہوں گے

عمران خان نفرت کی سیاست کو ہوا دیتے وقت شاید یہ بھول گئے کہ نئی ہوا اور کھلی چھت کبوتروں کو بگاڑ دیا کرتی ہے۔ وہ جہاں اپنے ‘پیروکاروں’ کی اخلاقی پستی کا ذمہ دار ہے وہاں اس پر ایک ذمہ داری اور بھی ہے کہ یہ نوجوان اگر آپ کی کارکردگی نہیں دیکھیں گے اور صرف آپ کے یو ٹرنز کا دفاع ہی کرتے رہیں گے تو مایوس بھی اتنی ہی جلدی ہوں گے جتنی جلدی آئے تھے۔ نوجوانوں کو بھی اس بات کو سمجھنا پڑے گا کہ سیاسی جماعتیں مذہب نہیں ہوتیں اور سیاسی لیڈر فرشتے نہیں ہوتے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *