Type to search

فیچر کتاب

دوزخ کی سرحد کو جنت کی سرحد سے ملاتی ریل کی نقرئی پٹریاں؛ آزادی ان عورتوں پر کیسی گزری؟

انبالہ کیمپ کے پہلو میں ریلوے لائن تھی۔ سورج کی روشنی میں ریل کی پٹریاں چاندی کے تار بن کر چمکتی تھیں اور دور، بہت دور مغرب کی طرف ان کی نقرئی لڑیاں خوابوں کے سہانے جزیروں میں گم ہو جاتی تھیں۔ ان جزیروں کے کہیں آس پاس دوزخ کی سرحد جنت کی سرحد سے ملتی تھی اور کیمپ کی عورتیں ریل کی پٹریوں کو چھو چھو کر سرشار ہو جاتی تھیں کہ ان کا دوسرا سرا مشرقی پنجاب میں نہیں مغربی پنجاب میں ہے! مغربی پنجاب!!

مغرب کا خیال آتے ہی دلشاد کی راکھ میں ایک ننھا سا چراغ ٹمٹما اٹھتا۔

مغرب میں کعبہ ہے۔ کعبہ الله میاں کا اپنا گھر ہے۔ لیکن کیمپ کی دوسری عورتیں کہتی تھیں مغرب میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ وہاں ہمارے بھائی ہیں، ہماری بہنیں ہیں، ہمارے ماں باپ ہیں۔ وہاں عزت ہے۔ وہاں آرام ہے۔۔۔۔ دلشاد سوچتی تھی کہ شاید وہاں رحیم خان بھی ہو! یہ خیال آتے ہی اس کے جسم کا رواں رواں مچل اٹھتا اور وہ بےچین ہو جاتی کہ پر لگا کر اڑ جائے اور اپنے تھکے ہوئے، دکھے ہوئے جسم پر اس ارض مقدس کی خاک مل لے۔

ہفتہ، دو ہفتے، مہینہ، دو مہینے۔۔۔ دن گزرتے ہے۔ راتیں بیتتی گئیں اور مغرب کا خوش آئند تصور دلشاد کے سینے میں امیدوں کا نور پھیلاتا رہا۔ انبالہ کیمپ کی آبادی بڑھتی گئی اور جب میجر پریتم سنگھ اور اس کے جوانوں کا دل اچھی طرح سیر ہو گیا تو ایک دن وہ ریل بھی آ گئی جس کے انتظار میں امیدوں کے چراغ ابھی تک جل رہے تھے۔ جب وہ ریل کے ڈبے میں سوار ہوئی تو دلشاد کو ملا علی بخش کی یاد آئی۔ وہ بھی اسی طرح ریل میں بیٹھ کر حج کو روانہ ہوا تھا، گلے میں ہار تھے، کپڑوں پر عطر تھا اور گاؤں کے لوگ باجا بجاتے ہوئے اس کے ساتھ سٹیشن تک آئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ریل کے ہر فراٹے کے ساتھ عورتوں کے ٹوٹے ہوئے آبگینے بج اٹھتے تھے۔ پہیوں کی ہر گردش کے ساتھ ان کے جسم اور روح کا ایک بل نکل جاتا تھا۔ جب وہ کھڑکیوں سے جھانک جھانک کر تار کے کھمبوں کو دیکھتیں جو بڑی سرعت کے ساتھ پیچھے کی طرف بھاگ رہے ہوتے، تو انہیں یقین سا ہو جاتا کہ وہ آگے ہی کی طرف جا رہی ہیں۔ زمین کا جو چپہ چپہ ان کے نیچے سے نکلتا وہ انہیں مشرقی پنجاب سے اٹھا کر مغربی پنجاب کے قریب تر لے جاتا۔ اگر کہیں گاڑی رکتی تو ساری کائنات دم سادھ لیتی۔ وقت کی رفتار ساقط ہو جاتی اور انہیں یہ ڈر لگتا کہ شاید انجن کے سامنے بڑے بڑے پہاڑ آ گئے ہیں۔ جب گاڑی دوبارہ چلتی تو دل کی دھڑکنیں جاگ اٹھیں، سینوں کے ارمان تازہ ہو جاتے اور وہ کھڑکی سے ہاتھ باہر نکال نکال کر اس ہوا کو چھونے کی کوشش کرتیں جو مغرب کی سمت سے آ رہی تھی!

لدھیانہ، پھلور، جالندھر ۔۔۔ امرتسر ۔۔۔ ہر منزل پر عورتوں کی زندگی کے بند کھلتے گئے۔ ان کی خاک میں سوئے ہوئے نغمے بیدار ہونے لگے۔ وہ گنگنانے لگیں۔ وہ مسکرانے لگیں۔ وہ آنکھیں مل مل کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔ جیسے کسی بھیانک خواب کو بھلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ کسی نے بالوں میں کنگھی کی۔ کسی نے دوپٹے کے ساتھ دانتوں کی میل اتاری۔ کوئی کپڑے جھاڑنے لگی۔ کوئی بچوں کو لوریاں سنانے لگی۔ کچھ عورتوں نے سر سے سر جوڑ کر گیت گائے۔ پیارے پیارے، رس بھرے، دلربا گیت، کہ ‘اے کالی کملی والے میں تیری یثرب نگری میں آئی ہوں’ ۔۔۔ ‘ مجھے اپنی کملی میں چھپا لے۔ مجھے اپنے پاؤں کی خاک بنا لے۔۔’

جب گاڑی امرتسر کے سٹیشن سے نکلی تو کسی نے کہا اب صرف ڈیڑھ گھنٹے کا سفر اور ہے۔ بس ڈیڑھ گھنٹہ اور! ساتھ اور تیس، نوے منٹ! یہ ناقابل یقین خیال عورتوں کے تن بدن پر شراب کے تیز و تند نشے کی طرح چھا گیا۔ اپنی منزل کو اتنا قریب پا کر وہ شدت احساس سے مفلوج سی ہو گئیں۔ پچھلے بھیانک مہینوں کی یاد زہر بن کر ان کے سینے میں عود آئی۔ ماضی کی ہولناک حقیقت مستقبل کے سہانے ارمانوں پر غالب آ گئی۔

یکایک ان کو اپنے شاداب گاؤں یاد آنے لگے۔ اپنے جوان جوان بھائی، اپنے نحیف نحیف ماں باپ، جن کے بے گور و کفن لاشے گلیوں میں پڑے سڑ رہے تھے۔ اپنی اداس اداس بہنیں جو کیمپوں میں بیٹھی فرشتوں کا انتظار کر رہی تھیں کہ وہ انہیں اپنے نوری پروں میں چھپا کر لے جائیں۔ دور، کہیں بہت دور، مغرب کی طرف۔۔۔۔۔ وہ رونے لگیں۔ ان کے گالوں پر آنسوؤں کے پرنالے بہنے لگے۔

دلشاد بھی رو رہی تھی، بلک بلک کر، سسک سسک کر، اور آنسوؤں کا نمکین پانی اس کے ہونٹوں پر پہاڑی چشموں کی طرح ابل رہا تھا۔ وہ روتی گئی، وہ روتی گئی اور اشکوں کی دبیز چادر نے اس کی پلکوں کو اپنے دامن میں چھپا لیا۔ ایک عجیب سی غنودگی، ایک عجیب سا خمار اس کے روئیں روئیں پر چھا گیا۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا کہ وہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطے کھا رہی ہے اور بےشمار سنپولیے اس کے تن بدن پر رینگ رہے ہیں۔۔ رینگ رہے ہیں!!


یہ قدرت اللہ شہاب کے ناولٹ ‘یا خدا’ سے ایک اقتباس ہے۔ اس سے پہلے اور بعد میں دلشاد اور دلشاد جیسی کئی عورتوں پر کیا گزری، اس کے لئے ناولٹ پڑھنا ضروری ہے۔ بس ایک اہم بات جو کہنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ ریل میں بیٹھی ان عورتوں نے بہت بھیانک روز و شب دیکھ کر یہ آزادی حاصل کی ہے۔ ان ماؤں اور ان کی قربانیوں کی قدر کریں، اور ان کی مرہون منت ملنے والی آزادی کی بھی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *