Type to search

تجزیہ معاشرہ

خوشی منانا خلاف قانون ہے

میں نے ایک بات نوٹ کی ہے۔ شاید آپ نے بھی کی ہو۔ اگر نہیں کی تو اب کیجئے گا۔ ہمارے بہت سے مسائل میں ایک مسئلہ خوشی بھی ہے۔ جی، خوشی ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اول تو ہم کوشش کرتے ہیں کہ ایسی نوبت ہی نہ آئے۔ اس مرجانی خوشی سے واسطہ ہی نہ پڑے۔ خدانخواستہ کسی کالی بلی کی طرح خوشی ہمارا راستہ کاٹ ہی لے تو ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس کا اثر ذائل کریں۔ اس میں بھی کامیاب نہ ہو پائیں تو ہر طرف شرمندہ شرمندہ پھرتے ہیں جیسے اس گناہ کبیرہ کی کوئی تلافی ممکن نہ ہو۔ دیگر گناہوں کی طرح اس بات کی تو گنجائش ہی نہیں کہ کوئی دوسرا اس کا مرتکب ہو۔ اس کے کفر کا کوئی ازالہ ممکن نہیں۔

آج کی تحریر ذرا ڈائریکٹ سی ہے نا؟ پہلے کی طرح منظر کشی نہیں کی اس بار۔ چلیے جانے دیجئے۔ ہو جاتا ہے کبھی کبھار ایسا بھی۔ جب دماغ میں کچھ بھرا ہو تو اس کو نکالے بغیر چین نہیں مل سکتا۔ خیر آپ سے معافی مانگ لی ہے۔ درگزر سے کام لیجئے اور اس جمہوری عمل کو رواں رکھئے۔

تلخ لوگوں کی نشانی، خوشی سے الرجی

جی تو کیا بات ہو رہی تھی؟ خوشی۔۔۔ خوشی کے بارے میں ڈسکشن چل رہی تھی۔ جہاں دنیا میں نے نئی الرجیاں آ گئی ہیں وہاں خوشی کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ہم خود تو خوشی سے الرجک ہیں ہی لیکن یہ ہر ممکن کوشش بھی کرتے ہیں کہ کوئی دوسرا بھی خوش نہ ہو پائے۔ ناخوش اور تلخ لوگوں کی سب سے پہلی نشانی یہی ہوتی ہے کہ انہیں کسی دوسرے کی خوشی سے بھی الرجی ہوتی ہے۔ سانس بے ترتیب ہو جاتا ہے اور چھینکیں رکنے کا نام نہیں لیتیں۔

کل ہی جشن آزادی منا کر فارغ ہوئے ہیں۔ آزادی کیا ہے کیا نہیں، یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ ہم نے تو اس دن کو بھرپور قومی جذبے کے ساتھ سو کر گزارا۔ لیکن کچھ منچلے ایسے بھی تھے جنہوں نے اس دن کو واقعی منانے کی جسارت کر لی۔ موٹر سائیکلوں پر پوری رات گھومے۔ جھنڈے لہرائے۔ چہرے پینٹ کئے۔ پورے شہر میں ہنستے گاتے پھرے۔ لازم ہے کہ ہمارا اعتراض تیار تھا۔

یہ کیا ہلڑ بازی ہے؟

بازار کے رستے بند ہیں۔ ہم سیل پر کیسے جائیں؟

بچوں کے سونے کا وقت ہے۔

کیسے کیسے لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ چھوٹا طبقہ خود کو سنبھالے۔

یہ کیا فضول خرچی ہے؟

پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر یوم آزادی پر باجا بجاتے ہوئے

وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر خواتین اکیلی گھروں سے نکل نہیں پاتیں؟

مزے کی بات یہ ہے کہ کسی نے اصل اعتراض نہیں اٹھایا کہ اس تمام جشن میں خواتین کہاں ہیں۔ وطن عزیز کی آدھی آبادی خوشی منانے کے اس حق سے محروم کیوں ہے؟ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر خواتین اکیلی گھروں سے نکل نہیں پاتیں اور ان کا سدباب کیسے ممکن ہے؟

خیر یہ نکتے اٹھتے بھی کیوں؟ یہاں تو خوشی منانا یوں بھی گناہ ہے۔ عورت کس کھیت کی مولی ہے۔ ایک ہنستی مسکراتی پولش خاتون نے رقص کر کے پاکستان سے محبت دکھانا چاہی تو اس کی بھی سرزنش کر دی گئی کہ بی بی یہ ہمارے جھنڈے کی بے حرمتی ہے۔ اسے ہم زمین پر روندیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ تمہارا رقص ضرور مسئلہ ہے۔

کسی کو یہ احساس نہ ہوا کہ یہاں خوشی منانے کے مواقع ہی کتنے ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت کے شکنجے میں جکڑی یہ قوم محض رو ہی پائی ہے۔ رہی سہی کسر مذہبی انتہا پسندی نے پوری کر دی جس کی رو سے خوشی کا ہر اظہار بدعت ہے۔

خود تو تلخیوں سے لبریز ہیں ہی کسی اور کے خوشی منانے پر اعتراض کیوں ہے؟

کیا خوش رہنا ہر طبقے کا حق نہیں؟ یہ صرف ایک طبقے کی میراث کیوں رہے جو مہنگے ہوٹلوں میں اپنے شوق پورے کر لیتا ہے؟ غریب کی موٹر سائیکل پر پابندی کیوں؟

کاش کہ اس ارض پاک پر وہ سحر آئے جس میں سب لوگ مل کر جشن آزادی منا سکیں۔ یہ رش صرف مردوں کا ہی نہ ہو بلکہ اس میں عورتیں بھی شانہ بشانہ ہوں۔ دوسرے کی خوشی میں خوش رہنے کے فن میں سب مشاق ہو جائیں۔ خوشیاں سب کا مقدر ٹھہریں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خوشی منانا گناہ نہ ہو۔

ہمارا وعدہ ہے کہ اگلی چودہ اگست پر ہم بھی سارا دن بستر نہیں توڑیں گے۔ آزادی کو کھل کر جئیں گے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *