Type to search

عوام کی آواز کلچر

پونگ پونگ پونگ، ہو گیا مٹی کا حق ادا

سرکاری ملازمین نے چھٹی منائی اور باقی عوام رات چار بجے تک بازاروں میں پونگ پونگ کرتے موٹر سائیکل پر پھرتے رہے لیکن کسی کو بھی احساس نہیں رہا کہ آج کے دن بیٹھ کر اپنے لئے ایک مقصد ترتیب دیں، اور اگلے ایک سال کے دوران اسے اپنا مشن سجمھ کر وطن عزیز کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

بابائے قوم  نے تہذیب پر زیادہ باتیں اس لئے اس قوم کے لئے چھوڑی ہیں تاکہ اس ملک کے نوجوان اس پر عمل کر کے ترقی کے جانب اپنی سوچ مرکوز کریں۔

‘لگے رہو’

قائد اعظم علی جناح اگر اس جدید دور کے حالات کو دیکھ کر نوجوانوں کے ہاتھوں میں یہ بیگل دیکھتے تو شاید انہیں ایک اور عارضہ لاحق ہو جاتا کہ کیا پاکستان اس مقصد کے لئے آزاد کیا گیا تھا کہ نوجوان موٹرسائیکلوں پر مظاہرے دکھائیں اور سارے شہر میں بس پونگ پونگ کی آوازیں سنائی دیں؟ آزادی نائٹ کے نام پر سرکاری خرچے پر آتش بازی کے مظاہرے کیے جائیں؟ موسیقی کے تقاریب کا اہتمام کیا جائے؟ سیاسی قائدین کی نگرانی میں ریلیز نکال کر دکانداری کی جائے تاکہ کل کے اخبار میں صاحب کی تصویر چھاپ دی جائے؟ بڑے بڑے سٹال لگا کر عوام کو آزادی نائٹ کے حوالے سے ‘سیل سیل سیل’ کے نام پر بے وقوف بنایا جائے؟ موبائل کمپنیوں کی جانب سے ‘لگے رہو’ آزادی کال پیکجز متعارف کروائے جائیں؟

اس دن تو دگنا کام کرنا چاہیے

اس دن سرکاری چھٹی کیوں ہوتی ہے؟ بلکہ اس دن تو 8 کی بجائے 16 گھنٹے کام کرنا ضروری تھا تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ ہم چھٹی صرف اتوار کو کرتے ہیں؛ یہ دن صرف پاکستان کا ہے تو یوم پاکستان پر آج چھٹی نہیں، کام کرینگے۔ اور میرے خیال میں یہ سب سے مشکل ترین کام ہے کیونکہ یہ قوم تو ہفتے میں دو دن چھٹی کرنا چاہتی ہے، ایک دن ماما، چاچا کے ہاں جانے کی چھٹی تو ہفتے میں سرکاری ملازم تین دن چھٹی کرتا ہے اور جمعے کا دن تو ویسے بھی ہاف ہوتا ہے تو نماز کے بعد دفتر بند۔۔۔۔۔ تو ہو گئی صاحب چار چھٹیاں صرف ایک ہفتے میں۔ اور بات ہوتی ہے قربانیوں کی تو ہنسی آتی ہے یہ بات سن کر کہ کس منہ سے قربانی کی بات کی جا رہی ہے؟

کیا ہم نے پاکستان اس لئے بنایا تھا؟

جدوجہد پاکستان کیلئے ہمارے اکابرین کی کوششوں کو صحیح سمت لے جانے کے لئے صرف تقاریر کی جاتی ہیں کہ اس وطن کو آزاد کرانے کے لئے ہمارے بڑوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، لیکن کسی نے بھی تقریر کرنے والے سے یہ سوال پوچھنا گوارہ نہیں کیا کہ ہمارے بڑوں نے تو بےشک جان و مال کی قربانیاں دی ہیں لیکن آپ نے اس معاشرے کی ترقی میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ اس دن پولیس کے ساتھ ساتھ دوسرے فورسز کی چھٹی نہیں ہوتی کیونکہ توپوں کے ذریعے سلامی دینی ہوتی ہے، چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ یہ بھی دنیا کی ایک رسم ہے، رواج ہے لیکن کم از کم اس چیز کا بھی تو خیال کیا جائے کہ جن گھروں میں زندہ لاشوں کی ماتم ہیں اور اپنوں سے بچھڑے لاپتہ لخت جگر، کیا وہ بھی آزادی منائیں گے؟

پھر کسی نے خواب نہیں دیکھا

آزادی کا دن منانا اس مٹی کا ہم پر حق ہے اور ہم منائیں گے بھی کیونکہ یہ خوشی کا موقع ہے کہ ہم ایک ریاست میں رہتے ہیں لیکن اس مقروض مٹی کیلئے کیا کوئی لائحہ عمل طے ہو گیا کہ ہم اگلے سال کہاں ہوں گے یا پھر صرف لاکھوں کروڑوں کی لاگت سے ایسے پروگراموں کا اہتمام کیا جائے جہاں ایک حکمران آ کر سکرپٹ سے تقریر پڑھے جس کا اس کو خود بھی سمجھ نہ ہو اور شرکاء کو بور کر کے مزید وقت ضائع کریں۔

71 سال ہوئے پاکستان کو آزاد ریاست کی حیثیت ملے لیکن پھر کسی نے خواب نہیں دیکھا، یا شاید سب دیکھتے ہوں لیکن اس خواب کو عملی جامہ کسی نے نہیں پہنایا، پھر کوئی لیڈر نہیں ملا جس نے صرف ریاست کی بقاء کیلئے کام کیا ہو، پھر کوئی ایسی ٹیم وجود میں نہیں آئی جو کم تنخواہ کو ترجیح دے کر اس ملک کو قرض سے آزاد کرا دیں۔

ٹیکس چوری، بجلی چوری، ملاوٹ میں اعلیٰ نام، تعویز گنڈے، بچوں کے ساتھ ریپ کیسز، خواتین پر تشدد کے واقعات میں تیسرا نام کمانے والا،غربت کی وجہ سے گردے بیچنے والا، یہ ہے آزاد ریا ست؟ میں سوال اس لئے کر رہا ہوں کہ ہم اس وطن عزیز کے لئے کچھ سوچیں کیونکہ یہ حالات میری اس دھرتی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *