Type to search

جمہوریت سیاست فیچر

مشرّف کا دور آمریت، قسط 4: اسامہ کا فرار، ڈینیئل پرل کی ہلاکت، اور ریفرنڈم کا مذاق

اسامہ بن لادن نے 1986 میں جلال آباد کے جنوب میں واقع کوہ سلیمان میں تورا بورا (پشتو میں اس کا مطلب سیاہ غار ہے) کے علاقے میں سرنگوں کا ایک جال اپنے ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کرنے کے لئے منتخب کیا تھا۔ اس انتخاب میں اس کی مدد آئی ایس آئی نے کی تھی جن کے مطابق وہ علاقہ روسی افواج کے خلاف جنگی کاروائیوں کے لئے موزوں تھا۔ یہ سرنگیں اسامہ کی سرپرستی میں پندرہ ہزار فٹ لمبائی تک تیار کی گئی تھیں۔ 1996 میں سوڈان سے نکالے جانے پر اسامہ نے افغانستان کا رخ کیا اور تورا بورا کو اپنا مستقر بنایا۔ ستمبر 2001 کے حملے کے بعد اسامہ نے تورا بورا میں نئی خندقیں کھدوانے کا کام شروع کیا۔ اکتوبر میں امریکی افواج نے افغانستان پر باضابطہ حملہ شروع کیا۔


تیسری قسط یہاں پڑھیے: مشرّف کا دورہ آگرہ، اسامہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی، اور 911


اسامہ کا راستہ نہ روکا جا سکا

گیارہ نومبر کو اسامہ اور اس کا قافلہ جلال آباد سے تورا بورا پہنچے۔ وہاں سے اسامہ اور اس کا خاندان مخلف راستوں پر روانہ ہوا۔ 29 نومبر کو امریکی نائب صدر Dick Cheney نے انٹرویو میں بتایا کہ اسامہ اور اس کے ساتھی تورا بورا میں موجود ہیں۔ پاکستانی افواج جنرل علی جان اورکزئی کی قیادت میں پاڑا چنار میں اسامہ اور اس کے ساتھیوں کا راستہ روکنے کے لئے موجود تھیں۔ گیارہ دسمبر تک امریکی بمباری کے بعد اسامہ کے ساتھ صرف دو سو ساتھی موجود تھے۔ القاعدہ کی جانب سے دو روز کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ مزاکرات کیے جا سکیں۔ امریکیوں نے یہ پیشکش قبول کی۔ تیرہ دسمبر کی دوپہر جیش محمد کے ارکان نے نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کیا جس میں بارہ افراد مارے گئے اور پاکستانی افواج کو مغربی سرحد (پاڑاچنار) سے ہٹا لیا گیا۔ چودہ دسمبر کو امریکی ریڈیو آپریٹر نے اسامہ کو عربی کہتے سنا کہ “اب وقت آ پہنچا ہے، اپنے بچوں اور اور عورتوں کو مسلح کر لو”۔ کچھ گھنٹوں بعد پیغام آیا کہ “مزاحمت ختم ہو چکی ہے” اور پھر اسامہ کی جانب سے تمام مجاہدین سے معافی مانگی گئی اور دعاؤں کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔

پارلیمنٹ حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستان سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا، پاکستان سے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے اور اپنی افواج سرحد پر اکٹھی کرنی شروع کر دیں۔

ڈینیئل پرل کا قتل

جنوری 2002 میں امریکی اخبار  Wall Street Journalکے صحافی Daniel Pearl کو کراچی سے اغوا کر لیا گیا۔ اغوا سے قبل وہ پاکستان میں القاعدہ نیٹ ورک پر تحقیق کر رہا تھا اور اغوا کے روز اس نے شیخ مبارک گیلانی نامی ایک مولوی سے ملاقات کرنی تھی۔

تفشیش پر پتہ چلا کہ یہ اغوا جیش محمد اور عمر سعید شیخ (جسے بھارتی طیارہ ہائی جیکنگ واقعے میں چھڑوایا گیا تھا) کی کارستانی تھی۔ 23 جنوری کو امریکی صحافی کے اغوا کے بعد کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ بڑھ گیا اور پانچ سے زائد افراد ان فسادات میں مارے گئے۔ اغوا کاری سے دس روز قبل مشرف نے قوم سے خطاب کے دوران جیش محمد پر پابندی لگائی تھی۔ 28 جنوری کو امریکی اخبار کو ایک ویڈیو ملی جس میں اس کے صحافی کی تصاویر موجود تھیں اور الزام لگایا گیا کہ وہ دراصل سی آئی اے کا نمائندہ ہے۔ اس کی جان کے بدلے گوانتانامو میں قیدیوں کے حالات میں بہتری اور افغان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ نو دن بعد اغوا کاروں نے اس کو ویڈیو پر قتل کر دیا۔ یہ ویڈیو 21 فروری کو جاری ہوئی۔ 6 فروری کو حرکت المجاہدین سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا (اس جماعت کے سربراہ فضل الرحمان خلیل نے اسامہ کے امریکہ کے خلاف فتوے پر دستخط کیے تھے) اور بعدازاں اس کیس میں عمر سعید شیخ کو قتل کی سزا سنائی گئی۔

پرویز مشرف کا ریفرنڈم اور ایم کیو ایم کے قیدیوں کی رہائی

اپریل 2002 میں مشرف نے اپنی صدارت کے لئے ریفرنڈم کا اہتمام کیا اور سرکاری نتائج کے مطابق اس میں 97‪.7 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ راقم کو اس ریفرنڈم میں بحیثیت مبصر حصہ لینے کا موقعہ ملا اور غیر حاضر یا وفات شدہ افراد کے شناختی کارڈوں کو ووٹ ڈالتے دیکھا۔ مسعود انصاری نے نیوز لائن میں لکھا کہ ریفرنڈم سے قبل مشرف کے لئے منعقد کردہ جلسوں پر حکومت نے دس کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ ان کی انتخابی مہم کے لئے پوسٹر، بینر اور پلے کارڈوں کے لئے ڈھائی کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ ریفرنڈم سے قبل سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن حربہ استعمال کیا گیا۔ مہاجر قومی موومنٹ کی خوشنودی کی خاطر اس جماعت سے تعلق رکھنے والے  قتل اور دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار ایک سو قیدی رہا کر دیے گئے۔ ریفرنڈم کے دوران عمران خان، طاہر القادری، فاروق لغاری، اجمل خٹک، مسلم لیگ (قائد) اور پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) نے مشرف کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

معاوضہ بڑھایا جائے’

مقامی حکومتوں کی انتخابات کے تحت منتخب ناظموں کو مشرف کی حمایت میں اقدامات کے لئے بیس سے پچاس ہزار تک نوازے گئے۔ حیدرآباد میں کچھ ناظمین نے احتجاجی ریلی نکالی اور ان کا مطالبہ تھا کہ ہر حلقے کے لئے بیس ہزار روپے میں مشرف کی انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں لہٰذا معاوضہ بڑھایا جائے۔ جن ناظمین نے انتظامیہ سے تعاون نہیں کیا، ان میں پشاور کے اعظم خان آفریدی اور ملتان کے شاہ محمود قریشی شامل تھے. ان کی سرکاری طور پر سرزنش کی گئی۔ ایاز امیر نے انتخابی بےضابطگیوں کے متعلق لکھا کہ ان کے ایک دوست نے 135 دفعہ مشرف کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ اس کی والدہ نے 100 اور چودہ سالہ بہن نے 150 ووٹ ڈالے۔ کراچی کے ایک پولنگ سٹیشن پر 125 ووٹ پڑے لیکن عملے نے بذات خود ووٹ ڈال کر ووٹوں کی تعداد 900 تک پہنچا دی۔ کوئٹہ میں اپوزیشن کی کال پر ریفرنڈم کے دن مکمل ہڑتال کی گئی۔

فوج کی خراب لوگوں کو لانے کی مخالفت

بقول جنرل شاہد عزیز، “مارچ 2002 میں ریفرنڈم کی خبریں آنے لگیں اور کور کمانڈرز کانفرنس میں جنرل مشرف نے یہ بات اٹھائی کہ صدر کو پانچ سال تک قانونی طور پر جائز قرار دینے کے لئے کیا کیا جائے؟ کچھ نے کہا ریفرنڈم کرائیں، کچھ نے کہا الیکشن کے بعد پارلیمنٹ کا راستہ لیں، کچھ نے کہا صدارتی نظام لگا دیں۔ مگر سب نے اس بات پر زور دیا کہ صاف ستھرا نظام لائیں، خراب لوگوں کو اندر نہ آنے دیں۔

ووٹروں سے زیادہ ووٹ

پھر اپریل میں جب ریفرنڈم ہوا تو کئی جگہ پر جتنے ووٹ جنرل مشرف کو ملے، کل اتنے ووٹر بھی نہ تھے۔ سول سروس خدمت کے لئے بچھ گئی۔ فوج کو سیکیورٹی کا کام سونپا گیا اور عام تاثر یہ دیا گیا کہ ریفرنڈم فوج کروا رہی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ کوئی بھی الیکشن فوج نہیں کرواتی۔ بس گنتی ختم ہونے پر نتیجہ جب باہر نکلتا، وہ حاصل کر کے تیزی سے اپنے مواصلاتی نظام پر ہمیں بھیج دیتی۔ جو نتیجہ ٹی وی پر دکھایا جاتا تھا، وہ بہت کم کر کے دکھایا جاتا، ورنہ جو ووٹوں کی گنتی کا اصل نتیجہ فوج کو موصول ہو رہا تھا، وہ دیکھ کر ہنسی آتی تھی”۔

جیت پر قوم سے معافی

جون 2002 میں ریفرنڈم کی تجویز دینے والے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ کے سربراہ جنرل احتشام ضمیر کو واپس باقاعدہ فوج میں بھیج دیا گیا۔ ریفرنڈم کے مضحکہ خیر نتائج پر مشرف کو قوم سے معافی مانگنی پڑی۔

(جاری ہے)

Tags:

You Might also Like

1 Comment

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *